Skip to main content

حٰمٓ ۚ

حمٓ
ها ميم

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

ح م

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

ح م

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

حٰمٓ

احمد علی Ahmed Ali

حمۤ

أحسن البيان Ahsanul Bayan

حم

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

حٰم

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

حٰم

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

حا۔ میم۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

حمۤ

طاہر القادری Tahir ul Qadri

حا، میم (حقیقی معنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو ہدایت فرماتا ہے کہ وہ قدرت کی نشانیوں میں غور و فکر کریں۔ اللہ کی نعمتوں کو جانیں اور پہچانیں پھر ان کا شکر بجا لائیں دیکھیں کہ اللہ کتنی بڑی قدرتوں والا ہے جس نے آسمان و زمین اور مختلف قسم کی تمام مخلوق کو پیدا کیا ہے فرشتے، جن، انسان، چوپائے، پرند، جنگلی جانور، درندے، کیڑے، پتنگے سب اسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ سمندر کی بیشمار مخلوق کا خالق بھی وہی ایک ہے۔ دن کو رات کے بعد اور رات کو دن کے پیچھے وہی لا رہا ہے رات کا اندھیرا دن کا اجالا اسی کے قبضے کی چیزیں ہیں۔ حاجت کے وقت انداز کے مطابق بادلوں سے پانی وہی برساتا ہے رزق سے مراد بارش ہے اس لئے کہ اسی سے کھانے کی چیزیں اگتی ہیں۔ خشک بنجر زمین سبز و شاداب ہوجاتی ہے اور طرح طرح کی پیداوار اگاتی ہے۔ شمالی جنوبی پروا پچھوا ترو خشک کم و بیش رات اور دن کی ہوائیں وہی چلاتا ہے۔ بعض ہوائیں بارش کو لاتی ہیں بعض بادلوں کو پانی والا کردیتی ہیں۔ بعض روح کی غذا بنتی ہیں اور بعض ان کے سوا کاموں کے لئے چلتی ہیں۔ پہلے فرمایا کہ اس میں ایمان والوں کے لئے نشانیاں ہیں پھر یقین والوں کے لئے فرمایا پھر عقل والوں کے لئے فرمایا یہ ایک عزت والے کا حال سے دوسرے عزت والے حال کی طرف ترقی کرنا ہے۔ اسی کے مثل سورة بقرہ کی آیت ( اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّھَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الْاَلْبَابِ\019\00ڌ) 3 ۔ آل عمران ;190) ، ہے امام ابن ابی حاتم نے یہاں پر ایک طویل اثر وارد کیا ہے لیکن وہ غریب ہے اس میں انسان کو چار قسم کے اخلاط سے پیدا کرنا بھی ہے۔ واللہ اعلم۔