Skip to main content

اَوَلَمْ يَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَىْءٍ يَّتَفَيَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْيَمِيْنِ وَالشَّمَاۤٮِٕلِ سُجَّدًا لِّـلّٰهِ وَهُمْ دٰخِرُوْنَ

أَوَلَمْ
کیا بھلا نہیں
يَرَوْا۟
وہ دیکھتے
إِلَىٰ
طرف
مَا
جو
خَلَقَ
اس کے جو پیدا کیا
ٱللَّهُ
اللہ نے
مِن
کو
شَىْءٍ
کسی بھی چیز کو
يَتَفَيَّؤُا۟
گرتے ہیں
ظِلَٰلُهُۥ
اس کے سائے
عَنِ
سے
ٱلْيَمِينِ
دائیں سے
وَٱلشَّمَآئِلِ
اور بائیں سے
سُجَّدًا
سجدہ کرتے ہوئے
لِّلَّهِ
اللہ کے لیے
وَهُمْ
اور وہ
دَٰخِرُونَ
عاجزی کرنے والے ہیں

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اور کیا یہ لوگ اللہ کی پیدا کی ہوئی کسی چیز کو بھی نہیں دیکھتے کہ اس کا سایہ کس طرح اللہ کے حضور سجدہ کرتے ہوئے دائیں اور بائیں گرتا ہے؟ سب کے سب اِس طرح اظہار عجز کر رہے ہیں

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اور کیا یہ لوگ اللہ کی پیدا کی ہوئی کسی چیز کو بھی نہیں دیکھتے کہ اس کا سایہ کس طرح اللہ کے حضور سجدہ کرتے ہوئے دائیں اور بائیں گرتا ہے؟ سب کے سب اِس طرح اظہار عجز کر رہے ہیں

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور کیا انہوں نے نہ دیکھا کہ جو چیز اللہ نے بنائی ہے اس کی پرچھائیاں دائیں اور بائیں جھکتی ہیں اللہ کو سجدہ کرتی اور وہ اس کے حضور ذلیل ہیں

احمد علی Ahmed Ali

کیا وہ الله کی پیدا کی ہوئی چیزوں کونہیں دیکھتے کہ کے سائے دائیں اوربائیں طرف جھکے جارہے ہیں اور نہایت عاجزی کے ساتھ الله کو سجدہ کررہے ہیں

أحسن البيان Ahsanul Bayan

کیا انہوں نے اللہ کی مخلوق میں سے کسی کو بھی نہیں دیکھا؟ کہ اس کے سائے دائیں بائیں جھک جھک کر اللہ تعالٰی کے سامنے سر بسجود ہوتے اور عاجزی کا اظہار کرتے ہیں (١)۔

٤٨۔١ اللہ تعالٰی کی عظمت و کبریائی اور اس کی جلالت شان کا بیان ہے کہ ہرچیز اس کے سامنے جھکی ہوئی اور مطیع ہے۔ جمادات ہوں یا حیوانات یا جن و انسان اور ملائکہ۔ ہر وہ چیز جس کا سایہ ہے اور اس کا سایہ دائیں بائیں جھکتا ہے تو وہ صبح و شام اپنے سائے کے ساتھ اللہ کو سجدہ کرتی ہے۔ امام مجاہد فرماتے ہیں جب سورج ڈھلتا ہے تو ہرچیز اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہو جاتی ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

کیا ان لوگوں نے خدا کی مخلوقات میں سے ایسی چیزیں نہیں دیکھیں جن کے سائے دائیں سے (بائیں کو) اور بائیں سے (دائیں کو) لوٹتے رہتے ہیں (یعنی) خدا کے آگے عاجز ہو کر سجدے میں پڑے رہتے ہیں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

کیا انہوں نے اللہ کی مخلوق میں سے کسی کو بھی نہیں دیکھا؟ کہ اس کے سائے دائیں بائیں جھک جھک کر اللہ تعالیٰ کے سامنے سر بسجود ہوتے اور عاجزی کا اﻇہار کرتے ہیں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

کیا ان لوگوں نے کبھی اللہ کی پیدا کی ہوئی مختلف چیزوں میں غور نہیں کیا کہ ان کے سائے کس طرح اللہ کو سجدہ کرتے ہوئے دائیں بائیں جھکتے ہیں اس طرح وہ سب اپنے عجز کا اظہار کر رہے ہیں۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

کیا ان لوگوں نے ان مخلوقات کو نہیں دیکھا ہے جن کا سایہ داہنے بائیں پلٹتا رہتا ہے کہ سب اسی کی بارگاہ میں تواضع و انکسار کے ساتھ سجدہ ریز ہیں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

کیا انہوں نے ان (سایہ دار) چیزوں کی طرف نہیں دیکھا جو اللہ نے پیدا فرمائی ہیں (کہ) ان کے سائے دائیں اور بائیں اَطراف سے اللہ کے لئے سجدہ کرتے ہوئے پھرتے رہتے ہیں اور وہ (درحقیقت) طاعت و عاجزی کا اظہار کرتے ہیں،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

عرش سے فرش تک
اللہ تعالیٰ ذو الجلال والاکرام کی عظمت و جلالت کبریائی اور بےہمتائی کا خیال کیجئے کہ ساری مخلوق عرش سے فرش تک اس کے سامنے مطیع اور غلام۔ جمادات و حیوانات، انسان اور جنات، فرشتے اور کل کائنات، اس کی فرماں بردار، ہر چیز صبح شام اس کے سامنے ہر طرح سے اپنی عاجزی اور بیکسی کا ثبوت پیش کرنے والی، جھک جھک کر اس کے سامنے سجدے کرنے والی۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں سورج ڈھلتے ہی تمام چیزیں اللہ کے سامنے سجدے میں گر پڑتی ہیں ہر ایک رب العالمین کے سامنے ذلیل و پست ہے، عاجز و بےبس ہے۔ پہاڑ وغیرہ کا سجدہ ان کا سایہ ہے، سمندر کی موجیں اس کی نماز ہے۔ انہیں گویا ذوی العقول سمجھ کر سجدے کی نسبت ان کی طرف کی۔ اور فرمایا زمین و آسمان کے کل جاندار اس کے سامنے سجدے میں ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت ( وَلِلّٰهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّكَرْهًا وَّظِلٰلُهُمْ بالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ 15۝۞{ السجدہ }) 13 ۔ الرعد ;15) خوشی نا خوشی ہر چیز رب العالمین کے سامنے سر بسجود ہے، ان کے سائے صبح و شام سجدہ کرتے ہیں۔ فرشتے بھی باوجود اپنی قدر و منزلت کے اللہ کے سامنے پست ہیں، اس کی عبادت سے تنگ نہیں آسکتے اللہ تعالیٰ جل و علا سے کانپتے اور لرزتے رہتے ہیں اور جو حکم ہے اس کی بجا آوری میں مشغول ہیں نہ نافرمانی کرتے ہیں نہ سستی کرتے ہیں۔