Skip to main content

فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِ حَاصِبًا ۚ وَمِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّيْحَةُ ۚ وَمِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ ۚ وَمِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا ۚ وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيَـظْلِمَهُمْ وَلٰـكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ

فَكُلًّا
تو ہر ایک کو
أَخَذْنَا
پکڑ لیا ہم نے
بِذَنۢبِهِۦۖ
اس کے گناہ کے ساتھ
فَمِنْهُم
تو ان میں سے کچھ
مَّنْ
وہ جس کو
أَرْسَلْنَا
بھیجی ہم نے
عَلَيْهِ
اس پر
حَاصِبًا
پتھروں والی بارش
وَمِنْهُم
اور ان میں سے
مَّنْ
کچھ وہ
أَخَذَتْهُ
جس کو پکڑ لیا
ٱلصَّيْحَةُ
دھماکے نے
وَمِنْهُم
اور ان میں سے کچھ
مَّنْ
وہ جس کو
خَسَفْنَا
دھنسادیا ہم نے
بِهِ
اس کے ساتھ
ٱلْأَرْضَ
زمین میں
وَمِنْهُم
اور ان میں سے کچھ
مَّنْ
وہ جس کو
أَغْرَقْنَاۚ
غرق کردیا ہم نے
وَمَا
اور نہیں
كَانَ
ہے
ٱللَّهُ
اللہ
لِيَظْلِمَهُمْ
کہ ظلم کرے ان پر
وَلَٰكِن
لیکن
كَانُوٓا۟
تھے وہ
أَنفُسَهُمْ
اپنی جانوں پر
يَظْلِمُونَ
ظلم کرتے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

آخر کار ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ میں پکڑا، پھر ان میں سے کسی پر ہم نے پتھراؤ کرنے والی ہوا بھیجی، اور کسی کو ایک زبردست دھماکے نے آ لیا، اور کسی کو ہم نے زمین میں دھسا دیا، اور کسی کو غرق کر دیا اللہ اُن پر ظلم کرنے والا نہ تھا، مگر وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

آخر کار ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ میں پکڑا، پھر ان میں سے کسی پر ہم نے پتھراؤ کرنے والی ہوا بھیجی، اور کسی کو ایک زبردست دھماکے نے آ لیا، اور کسی کو ہم نے زمین میں دھسا دیا، اور کسی کو غرق کر دیا اللہ اُن پر ظلم کرنے والا نہ تھا، مگر وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

تو ان میں ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ پر پکڑا تو ان میں کسی پر ہم نے پتھراؤ بھیجا اور ان میں کسی کو چنگھاڑ نے آلیا اور ان میں کسی کو زمین میں دھنسادیا اور ان میں کسی کو ڈبو دیا اور اللہ کی شان نہ تھی کہ ان پر ظلم کرے ہاں وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے،

احمد علی Ahmed Ali

پھر ہم نے ہر ایک کو اس کے گناہ پر پکڑا پھر کسی پر تو ہم نے پتھروں کا مینہ بر سایا اور ان میں سے کسی کو کڑک نے آپکڑا اور کسی کو ان میں سے زمین میں دھنسا دیا اور کسی کو ان میں سے غرق کر دیا اور الله ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرے لیکن وہی اپنے اوپر ظلم کیا کرتے تھے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

پھر تو ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ کے وبال میں گرفتار کر لیا (١) ان میں سے بعض پر ہم نے پتھروں کا مینہ برسایا (۲) اور ان میں سے بعض کو زور دار سخت آواز نے دبوچ لیا (۳) اور ان میں سے بعض کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا (٤) اور ان میں سے بعض کو ہم نے ڈبو دیا (۵) اللہ تعالٰی ایسا نہیں کہ ان پر ظلم کرے بلکہ یہی لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے (٦)۔

٤٠۔١ یعنی ان مذکورین میں سے ہر ایک کی ان کے گناہوں کی پاداش میں ہم نے گرفت کی۔
٤۰۔۲ یہ قوم عاد تھی، جس پر نہایت تتند و تیز ہوا کا عذاب آیا۔ یہ ہوا زمین سے کنکریاں اڑا اڑا کر ان پر برساتی، بالآخر اس کی شدت اتنی بڑھی کہ انہیں اچک کر آسمان تک لے جاتی اور انہیں سر کے بل زمین پر دے مارتی، جس سے ان کا سر الگ اور دھڑ الگ ہو جاتا گویا کہ وہ کھجور کے کھوکھلے تنے ہیں۔ (ابن کثیر) بعض مفسرین نے حصبا کا مصداق قوم لوط علیہ السلام کو ٹھہرایا ہے۔ لیکن امام ابن کثیر نے اسے غیر صحیح اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب قول کو منقطع قرار دیا ہے۔
٤۰۔۳حضرت صالح علیہ السلام کی قوم ثمود ہے۔ جنہیں ان کے کہنے پر ایک چٹان سے اونٹنی نکال کر دکھائی گئی۔ لیکن ان ظالموں نے ایمان لانے کے بجائے اس اونٹنی کو ہی مار ڈالا۔ جس کے تین دن بعد ان پر سخت چنگھاڑ کا عذاب آیا، جس نے انکی آوازوں اور حرکتوں کو خاموش کر دیا۔
٤٠۔٤ یہ قارون ہے، جسے مال و دولت کے خزانے عطا کئے گئے، لیکن یہ اس گھمنڈ میں مبتلا ہوگیا کہ یہ مال و دولت اس بات کی دلیل ہے کہ میں اللہ کے ہاں معزز و محترم ہوں۔ مجھے موسیٰ علیہ السلام کی بات ماننے کی کیا ضرورت ہے، چنانچہ اسے اس کے خزانوں اور محلات سمیت زمین میں دھنسا دیا گیا۔
٤۰۔۵ یہ فرعون ہے، جو ملک مصر کا حکمران تھا، لیکن حد سے تجاوز کر کے اس نے اپنے بارے میں الوہیت کا دعوی بھی کر دیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے سے اور انکی قوم بنی اسرائیل کو، جس کو اس نے غلام بنا رکھا تھا، آزاد کرنے سے انکار کر دیا، بالآخر ایک صبح اس کو اس کے پورے لشکر سمیت دریائے قلزم میں غرق کر دیا گیا۔
٤٠۔ ٦ یعنی اللہ کی شان نہیں کہ وہ ظلم کرے۔ اس لئے پچھلی قومیں، جن پر عذاب آیا، محض اس لئے ہلاک ہوئیں کہ کفر و شرک اور تکذیب و معاصی کا ارتکاب کر کے انہوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

تو ہم نے سب کو اُن کے گناہوں کے سبب پکڑ لیا۔ سو ان میں کچھ تو ایسے تھے جن پر ہم نے پتھروں کا مینھہ برسایا۔ اور کچھ ایسے تھے جن کو چنگھاڑ نے آپکڑا اور کچھ ایسے تھے جن کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا۔ اور کچھ ایسے تھے جن کو غرق کر دیا اور خدا ایسا نہ تھا کہ اُن پر ظلم کرتا لیکن وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

پھر تو ہر ایک کو ہم نے اس کے گناه کے وبال میں گرفتار کر لیا، ان میں سے بعض پر ہم نے پتھروں کا مینہ برسایا اور ان میں سے بعض کو زور دار سخت آواز نے دبوچ لیا اور ان میں سے بعض کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور ان میں سے بعض کو ہم نے ڈبو دیا، اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کہ ان پر ﻇلم کرے بلکہ یہی لوگ اپنی جانوں پر ﻇلم کرتے تھے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

پس ہم نے ہر ایک کو اس کے گناہ کی پاداش میں پکڑا۔ سو ان میں سے بعض پر (پتھراؤ کرنے والی) تیز آندھی بھیجی اور بعض کو ہولناک چنگھاڑ نے آدبایا اور بعض کو ہم نے زمین میں دھنسایا اور بعض کو (دریا میں) غرق کر دیا اور اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا بلکہ وہ خود اپنے اوپر ظلم کرتے تھے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

پھر ہم نے ہر ایک کو اس کے گناہ میں گرفتار کرلیا کسی پر آسمان سے پتھروں کی بارش کردی کسی کو ایک آسمانی چیخ نے پکڑ لیا اور کسی کو زمین میں دھنسا دیا اور کسی کو پانی میں غرق کردیا اور اللہ کسی پر ظلم کرنے والا نہیں ہے بلکہ یہ لوگ خود اپنے نفس پر ظلم کررہے ہیں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

سو ہم نے (ان میں سے) ہر ایک کو اس کے گناہ کے باعث پکڑ لیا، اور ان میں سے وہ (طبقہ بھی) تھا جس پر ہم نے پتھر برسانے والی آندھی بھیجی اوران میں سے وہ (طبقہ بھی) تھا جسے دہشت ناک آواز نے آپکڑا اور ان میں سے وہ (طبقہ بھی) تھا جسے ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور ان میں سے (ایک) وہ (طبقہ بھی) تھا جسے ہم نے غرق کر دیا اور ہرگز ایسا نہ تھا کہ اللہ ان پر ظلم کرے بلکہ وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے،