الشوریٰ آية ۱
حٰمٓ ۚ
طاہر القادری:
حا، میم (حقیقی معنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)،
English Sahih:
Ha, Meem.
1 Abul A'ala Maududi
ح م
2 Ahmed Raza Khan
حٰمٓ
3 Ahmed Ali
حمۤ
4 Ahsanul Bayan
حم
5 Fateh Muhammad Jalandhry
حٰمٓ
6 Muhammad Junagarhi
حٰم
7 Muhammad Hussain Najafi
حا۔ میم۔
8 Syed Zeeshan Haitemer Jawadi
حم ۤ
9 Tafsir Jalalayn
حٰم۔
آیت نمبر ١ تا ٩
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰم۔ عسق اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے اسی طرح یعنی اس وحی بھیجنے کے مانند اللہ تعالیٰ جو زبردست ہے اپنے ملک میں حکمت والا ہے، اپنی صنعت میں تیری طرف اور تجھ سے اگلوں کی طرف وحی بھیجتا رہا ہے، اللہ ایحاء کا فاعل ہے، آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسی کا ہے ملکیت کے اعتبار سے، تخلیق کے اعتبار سے، اور مملوکیت کے اعتبار سے، اور وہ اپنی مخلوق پر برتر اور عظیم الشان ہے، قریب ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں (تکاد) تاء اور یاء کے ساتھ ہے (یَنْفَطِرنَ ) نون کے ساتھ ہے، اور ایک قراءت میں (نون کے بجائے) تاء مع تشدید طاء ہے (ای تَتَفَطَّرْنَ ) یعنی ہر اوپر والا آسمان جس کے نیچے آسمان ہے اللہ کی عظمت کی وجہ سے پھٹ پڑے، اور تمام فرشتے اپنے رب کی پاکی حمد کے ساتھ بیان کر رہے ہیں، (یعنی) تسبیح وتحمید، دونوں کو ملا کر (سبحان اللہ والحمد للہ) کہہ رہے ہیں اور زمین میں جو مومنین ہیں ان کے لئے استغفار کر رہے ہیں، خوب یاد رکھو اللہ تعالیٰ ہی اپنے اولیاء کو معاف کرنے والا ان پر رحم کرنے والا ہے اور جن لوگوں نے اس کے سوا بتوں کو کارساز بنا لیا ہے اللہ تعالیٰ ان پر نگران ہے یقیناً ان کو سزا دے گا اور آپ ان کے ذمہ دار نہیں ہیں، کہ ان سے مطلوب کو حاصل کریں، آپ کے ذمہ تو صرف پہنچا دینا ہے اور اس وحی کرنے کے مانند ہم نے آپ کی طرف عربی قرآن کی وحی کی ہے تاکہ آپ مکہ والوں اور اس کے آس پاس والوں کو آگاہ کریں، یعنی اہل مکہ اور (دیگر) تمام لوگوں کو اور آپ لوگوں کو جمع ہونے کے یعنی قیامت کے دن سے ڈرائیں، جس میں تمام مخلوق جمع کی جائے گی، جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ہے ان میں سے ایک فریق جنت میں ہوگا اور ایک فریق دوزخ میں اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان سب کو ایک امت یعنی ایک دین پر اور وہ اسلام ہے بنا دیتا لیکن وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے، اور ظالموں کافروں کا حامی اور مددگار کوئی نہیں، کہ ان سے عذاب کو دفع کرسکے، کیا ان لوگوں نے اللہ کے سوا بتوں کو کارساز بنا لیا ہے اَمْ منقطعہ بمعنی بل ہے، جو کہ انتقال کے لئے ہے اور ہمزہ انکار کے لئے ہے، یعنی جن کو کارساز بنایا ہے وہ کارساز نہیں ہیں (حقیقتاً تو) اللہ تعالیٰ ہی ولی ہے یعنی مومنین کا مددگار ہے اور فاء محض عطف کے لئے ہے، وہی مردوں کو زندہ کرے گا، اور وہی ہر چیز پر قادر ہے۔
تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد
قولہ : حٰم، عسق بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہ سورة شورٰی ہی کے دوسرے دو نام ہیں، اسی لئے ان کو الگ الگ دو آیتیں شمار کیا ہے اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ دونوں مل کر ایک نام ہے مگر دیگر حوامیم کی موافقت ومماثلت کے لئے الگ الگ لکھا گیا ہے۔
قولہ : مثل ذٰلک الایحاء ای مثل ما فی ھٰذہ السورۃ من المعانی اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کذٰلک کا کاف مفعول مطلق ہونے کی وجہ سے محل میں نصب کے ہے ای یوحی ایحاءً مثلَ ذٰلک الایحاء۔ یعنی اس سورت کے ایحاء کے مانند آپ کی طرف فی الوقت وحی بھیجتا ہے، اور آپ سے اگلوں کی طرف اسی طرح وحی بھیج چکا ہے۔
سوال : انبیاء سابقین کی طرف وحی بھیجنے کے لئے اوحٰی ماضی کا صیغہ استعمال ہونا چاہیے نہ کہ یوحی مضارع کا۔
جواب : مضارع کا صیغہ حکایت حال ماضیہ کے طور پر استمرار وحی پر دلالت کرنے کے لئے استعمال ہوا ہے، اور مضارع بمعنی ماضی ہے جیسا کہ مفسر (رح) تعالیٰ نے اَوْحٰی محذوف مان کر اشارہ کردیا ہے۔
قولہ : فریق منھم، فریق ٌ مبتداء اور فی الجنۃ اس کی خبر ہے۔
سوال : فریق نکرہ ہے اس کا مبتداء بننا کیسے درست ہے ؟
جواب : مفسر علام نے مِنْھم محذوف مان کر اشارہ کردیا کہ فریق موصوف ہے اور اس کی صفت محذوف ہے، تقدیر یہ ہے فریق کائنٌ منھم فی الجنۃ لہٰذا اب اس کا مبتداء بننا صحیح ہوگیا، یہی ترکیب فریقٌ فی السعیر میں ہے۔
تفسیر وتشریح
کَذٰلِکَ یُوحِیْ اِلَیْکَ (الآیۃ) یعنی جس طرح یہ قرآن تیری طرف نازل کیا گیا ہے اسی طرح تجھ سے پہلے بھی انبیاء پر صحیفے اور کتابیں نازل کی گئیں، وحی اللہ کا وہ کلام ہے جو فرشتے کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کے پاس بھیجتا رہا ہے، ایک صحابی نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے وحی کی کیفیت معلوم کی تو آپ نے فرمایا : کبھی تو یہ میرے پاس گھنٹی کی آواز کے مثل آتی ہے اور یہ صورت مجھ پر سب سے گراں ہوتی ہے، جب یہ آواز ختم ہوتی ہے تو مجھے وہ وحی یاد ہوچکی ہوتی ہے، اور کبھی فرشتہ انسانی شکل میں آتا ہے، اور مجھ سے کلام کرتا ہے اور وہ جو کہتا ہے میں اسے یاد کرلیتا ہوں، حضرت عائشہ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں میں نے سخت سردی میں مشاہدہ کیا کہ جب وحی کی کیفیت ختم ہوئی تو آپ پسینے میں شرابور ہوتے اور آپ کی پیشانی سے قطرے ٹپک رہے ہوتی۔
(صحیح بخاری باب بدء الوحی)
وَمَا اَتَتْ عَلَیْھِمْ بِوَکِیْلٍ یعنی آپ اس بات کے مکلّف نہیں ہیں کہ ان کو ہدایت کے راستہ پر لگا دیں، یہ کام ہمارا ہے آپ کا کام صرف پہنچا دیتا ہے۔
جس طرح ہم نے ہر رسول پر اس کی اور اس کی قوم کی زبان میں وحی نازل کی، اسی طرح ہم نے آپ پر عربی زبان میں قرآن نازل کیا ہے، اس لئے کہ آپ کی قوم کی زبان عربی ہی ہے۔
“ ام القریٰ ” مکہ کا نام ہے، اسے بستیوں کی ماں، اس لئے کہتے ہیں کہ یہ عرب کی قدیم ترین بستی ہے گویا کہ یہ تمام بستیوں کی ماں ہے، اور مراد اہل مکہ ہیں اور مَنْ حولَھَا میں اس کے چاروں طرف کے علاقے شرقاً غرباً شمالاً جنوباً شامل ہیں۔
فَا للہ ھو الولی (الآیۃ) جب یہ بات ہے کہ اللہ ہی محی اور ممیت ہے اور ہر شئ پر قادر ہے تو پھر وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اسی کو ولی اور کارساز مانا جائے، نہ کہ ان کو جن کے پاس کوئی اختیار ہی نہیں ہے، اور جو نہ سننے کی اور نہ جواب دینے کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ نفع نقصان پہنچانے کی صلاحیت۔
10 Tafsir as-Saadi
حٰم
11 Mufti Taqi Usmani
Haa-Meem .
12 Tafsir Ibn Kathir
حم عسق کی تفسیر :
حروف مقطعات کی بحث پہلے گزر چکی ہے۔ ابن جریر (رح) نے یہاں پر ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے جو منکر ہے اس میں ہے کہ ایک شخص حضرت ابن عباس کے پاس آیا اس وقت آپ کے پاس حضرت حذیفہ بن یمان بھی تھے۔ اس نے ان حروف کی تفسیر آپ سے پوچھی آپ نے ذرا سی دیر سر نیچا کرلیا پھر منہ پھیرلیا اس شخص نے دوبارہ یہی سوال کیا تو آپ نے پھر بھی منہ پھیرلیا اور اس کے سوال کو برا جانا اس نے پھر تیسری مرتبہ پوچھا۔ آپ نے پھر بھی کوئی جواب نہ دیا اس پر حضرت حذیفہ نے کہا میں تجھے بتاتا ہوں اور مجھے یہ معلوم ہے کہ حضرت ابن عباس اسے کیوں ناپسند کر رہے ہیں۔ ان کے اہل بیت میں سے ایک شخص کے بارے میں یہ نازل ہوئی ہے جسے (عبد الا لہ) اور عبداللہ کہا جاتا ہوگا وہ مشرق کی نہروں میں سے ایک نہر کے پاس اترے گا۔ اور وہاں دو شہر بسائے گا نہر کو کاٹ کر دونوں شہروں میں لے جائے گا جب اللہ تعالیٰ ان کے ملک کے زوال اور ان کی دولت کا استیصال کا ارادہ کرے گا۔ اور ان کا وقت ختم ہونے کا ہوگا تو ان دونوں شہروں میں سے ایک پر رات کے وقت آگ آئے گی جو اسے جلا کر بھسم کر دے گی وہاں کے لوگ صبح کو اسے دیکھ کر تعجب کریں گے ایسا معلوم ہوگا کہ گویا یہاں کچھ تھا ہی نہیں صبح ہی صبح وہاں تمام بڑے بڑے سرکش متکبر مخالف حق لوگ جمع ہوں گے اسی وقت اللہ تعالیٰ ان سب کو اس شہر سمیت غارت کر دے گا۔ یہی معنی ہیں (حم عسق) کے یعنی اللہ کی طرف سے یہ عزیمت یعنی ضروری ہے یہ فتنہ قضا کیا ہوا یعنی فیصل شدہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عین سے مراد عدل سین سے مراد سیکون یعنی یہ عنقریب ہو کر رہے گا (ق) سے مراد واقع ہونے والا ان دونوں شہروں میں۔ اس سے بھی زیادہ غربت والی ایک اور روایت میں مسند حافظ ابو یعلی کی دوسری جلد میں مسند ابن عباس میں ہے جو مرفوع بھی ہے لیکن اس کی سند بالکل ضعف ہے اور منقطع بھی ہے اس میں ہے کہ کسی نے ان حروف کی تفسیر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہے حضرت ابن عباس جلدی سے اکھٹے ہوئے اور فرمایا ہاں میں نے سنی ہے (حم) اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے عین سے مراد (عاین المولون عذاب یوم بدر) ہے۔ سین سے مراد ( اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا وَّانْتَــصَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا ۭ وَسَـيَعْلَمُ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْٓا اَيَّ مُنْقَلَبٍ يَّنْقَلِبُوْنَ\022\07 ) 26 ۔ الشعراء :227) (ق) سے کیا مراد ہے اسے آپ نہ بتاسکے تو حضرت ابوذر کھڑے ہوئے اور حضرت ابن عباس کی تفسیر کے مطابق تفسیر کی اور فرمایا (ق) سے مراد (قارعہ) آسمانی ہے جو تمام لوگوں کو ڈھانپ لے گا ترجمہ یہ ہوا کہ بدر کے دن پیٹھ موڑ کر بھاگنے والے کفار نے عذاب کا مزہ چکھ لیا۔ ان ظالموں کو عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ ان کا کتنا برا انجام ہوا ؟ ان پر آسمانی عذاب آئے گا جو انہیں تباہ و برباد کر دے گا پھر فرماتا ہے کہ اے نبی جس طرح تم پر اس قرآن کی وحی نازل ہوئی ہے اسی طرح تم سے پہلے کے پیغمبروں پر کتابیں اور صحیفے نازل ہوچکے ہیں یہ سب اس اللہ کی طرف سے اترے ہیں جو اپنا انتقام لینے میں غالب اور زبردست ہے جو اپنے اقوال و افعال میں حکمت والا ہے حضرت حارث بن ہشام نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کہ آپ پر وحی کس طرح نازل ہوتی ہے ؟ آپ نے فرمایا کبھی تو گھنٹی کی مسلسل آواز کی طرح جو مجھ پر بہت بھاری پڑتی ہے جب وہ ختم ہوتی ہے تو مجھے جو کچھ کہا گیا وہ سب یاد ہوتا ہے اور کبھی فرشتہ انسانی صورت میں میرے پاس آتا ہے مجھ سے باتیں کرجاتا ہے جو وہ کہتا ہے میں اسے یاد رکھ لیتا ہوں حضرت صدیقہ فرماتی ہیں سخت جاڑوں کے ایام میں بھی جب آپ پر وحی اترتی تھی تو شدت وحی سے آپ پانی پانی ہوجاتے تھے یہاں تک کہ پیشانی سے پسینہ کی بوندیں ٹپکنے لگتی تھیں۔ (بخاری مسلم) مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے وحی کی کیفیت پوچھی تو آپ نے فرمایا میں ایک زنجیر کی سی گھڑگھڑاہٹ سنتا ہوں پھر کان لگا لیتا ہوں ایسی وحی میں مجھ پر اتنی شدت سی ہوتی ہے کہ ہر مرتبہ مجھے اپنی روح نکل جانے کا گمان ہوتا ہے۔ شرح صحیح بخاری کے شروع میں ہم کیفیت وحی پر مفصل کلام کرچکے ہیں فالحمد للہ، پھر فرماتا ہے کہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق اس کی غلام ہے اس کی ملکیت ہے اس کے دباؤ تلے اور اس کے سامنے عاجز و مجبور ہے وہ بلندیوں والا اور بڑائیوں والا ہے وہ بہت بڑا اور بہت بلند ہے وہ اونچائی والا اور کبریائی والا ہے اس کی عظمت اور جلالت کا یہ حال ہے کہ قریب ہے آسمان پھٹ پڑیں۔ فرشتے اس کی عظمت سے کپکپاتے ہوئے اس کی پاکی اور تعریف بیان کرتے رہتے ہیں اور زمین والوں کے لئے مغفرت طلب کرتے رہتے ہیں جیسے اور جگہ ارشاد ہے آیت ( اَلَّذِيْنَ يَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهٗ يُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَيَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَّحْمَةً وَّعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِيْنَ تَابُوْا وَاتَّبَعُوْا سَبِيْلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَــحِيْمِ ) 40 ۔ غافر :7) یعنی حاملان عرش اور اس کے قرب و جوار کے فرشتے اپنے رب کی تسبیح اور حمد بیان کرتے رہتے ہیں اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان والوں کے لئے استغفار کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب تو نے اپنی رحمت و علم سے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے پس تو انہیں بخش دے جنہوں نے توبہ کی ہے اور تیرے راستے کے تابع ہیں انہیں عذاب جہنم سے بچا لے۔ پھر فرمایا جان لو کہ اللہ غفور و رحیم ہے، پھر فرماتا ہے کہ مشرکوں کے اعمال کی دیکھ بھال میں آپ کر رہا ہوں انہیں خود ہی پورا پورا بدلہ دوں گا۔ تیرا کام صرف انہیں آگاہ کردینا ہے تو کچھ ان پر داروغہ نہیں۔