Skip to main content

وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِۚ

وَمِن
اور
دُونِهِمَا
ان دونوں کے علاوہ
جَنَّتَانِ
دو باغ ہیں

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اور اُن دو باغوں کے علاوہ دو باغ اور ہوں گے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اور اُن دو باغوں کے علاوہ دو باغ اور ہوں گے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور ان کے سوا دو جنتیں اور ہیں

احمد علی Ahmed Ali

اور ان دو کے علاوہ اور دو باغ ہوں گے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور ان کے سوا دو جنتیں اور ہیں (١)۔

٦٢۔١ دُوْنِھِمَا سے یہ ثابت بھی کیا گیا ہے کہ یہ دو باغ شان اور فضیلت میں پچھلے دو باغوں سے، جن کا ذکر آیت ٢٦ میں گزرا، کم تر ہونگے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور ان باغوں کے علاوہ دو باغ اور ہیں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور ان کے سوا دو جنتیں اور ہیں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا اور کیا ہے؟

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور ان دونوں کے علاوہ دو باغات اور ہوں گے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور (اُن کے لئے) اِن دو کے سوا دو اور بہشتیں بھی ہیں،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

اصحاب یمین اور مقربین
یہ دونوں جنتیں ہیں جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے ان جنتوں سے کم مرتبہ ہیں جن کا ذکر پہلے گذرا اور وہ حدیث بھی بیان ہوچکی جس میں ہے دو جنتیں سونے کی اور دو چاندی کی۔ پہلی دو تو مقربین خاص کی جگہ ہیں اور یہ دوسری دو اصحاب یمین کی الغرض درجے اور فضیلت میں یہ دو ان دو سے کم ہیں جس کی دلیلیں بہت سی ہیں ایک یہ کہ ان کا ذکر اور صف ان سے پہلے بیان ہوئی اور یہ تقدیم بیان بھی دلیل ہے ان کی فضیلت کی، پھر یہاں آیت ( وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ 62۝ۚ ) 55 ۔ الرحمن ;62) فرمانا صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ ان سے کم مرتبہ ہیں وہاں ان کی تعریف میں آیت ( ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ 48۝ۚ ) 55 ۔ الرحمن ;48) یعنی بکثرت مختلف مزے کے میووں والی شاخ دار۔ یہاں فرمایا آیت ( مُدْهَاۗمَّتٰنِ 64۝ۚ ) 55 ۔ الرحمن ;64) یعنی پانی کی پوری تری سے سیاہ ابن عباس فرماتے ہیں سبز، محمد بن کعب فرماتے ہیں سبزی سے پُر، قتادہ فرماتے ہیں اس قدر پھل پکے ہوئے تیار ہیں کہ وہ ساری جنت سرسبز معلوم ہو رہی ہے الغرض وہاں شاخوں کی پھیلاوٹ بیان ہوئی یہاں درختوں کی کثرت بیان فرمائی گئی تو ظاہر ہے کہ اس میں اور اس میں بھی بہت فرق ہے ان کی نہروں کی بابت لفظ آیت (تجریان) ہے اور یہاں لفظ آیت ( فِيْهِمَا عَيْنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ 66۝ۚ ) 55 ۔ الرحمن ;66) ہے یعنی ابلنے والی اور یہ ظاہر ہے کہ نضخ سے جری یعنی ابلنے سے بہنا بہت برتری والا ہے حضرت ضحاک فرماتے ہیں یعنی پُر ہیں پانی رکتا نہیں اور لیجئے وہاں فرمایا تھا کہ ہر قسم کے میووں کے جوڑے ہیں اور یہاں فرمایا اس میں میوے اور کھجوریں اور انار ہیں تو ظاہر ہے کہ پہلے کے الفاظ عمومیت کے لئے ہوئے ہیں وہ قسم کے اعتبار سے اور کمیت کے اعتبار سے بھی اس سے افضلیت رکھتے ہیں کیونکہ یہاں لفظ فاکھہ گو نکرہ ہے لیکن سیاق میں اثبات کے ہے اس لئے عام نہ ہوگا اسی لئے بطور تفسیر کے بعد میں نخل و رمان کہہ دیا۔ جیسے عطف خاص عام پر ہوتا ہے امام بخاری وغیرہ کی تحقیق بھی یہی ہے کھجور اور انار کو خاصۃ اس لئے ذکر کیا کہ اور میووں پر انہیں شرف ہے۔ مسند عبد بن حمید میں ہے یہودیوں نے آکر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا کہ کیا جنت میں میوے ہیں ؟ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا ہاں ہیں انہوں نے پوچھا کیا جنتی دنیا کی طرح وہاں بھی کھائیں پئیں گے ؟ آپ نے فرمایا ہاں بلکہ بہت کچھ زیادہ اور بہت کچھ زیادہ انہوں نے کہا پھر وہاں فضلہ بھی نکلے گا ؟ آپ نے فرمایا نہیں نہیں بلکہ پسینہ آ کر سب ہضم ہوجائے گا ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے جنتی کھجور کے درختوں کے ریش کا جنتیوں کا لباس بنائیں گے۔ یہ سرخ رنگ سونے کے ہوں گے اس کے تنے سبز زمرد میں ہوں گے اس کے پھل شہد سے زیادہ میٹھے اور مکھن سے زیادہ نرم ہوں گے گھٹلی بالکل نہ ہوگی۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ میں نے جنت کے انار دیکھے اتنے بڑے تھے جیسے اونٹ مع ہودج۔ خیرات کے معنی بہ کثرت اور بہت حسین نہایت نیک خلق اور بہتر خلق ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ معنی مروی ہے ایک اور حدیث میں ہے کہ حور عین جو گانا گائیں گی ان میں یہ بھی ہوگا ہم خوش خلق خوبصورت ہیں جو بزرگ خاوندوں کے لئے پیدا کی گئی ہیں یہ پوری حدیث سورة واقعہ کی تفسیر میں ابھی آئے گی انشاء اللہ تعالیٰ ۔ یہ لفظ تشدید سے بھی پڑھا گیا ہے پھر سوال ہوتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرتے ہو ؟ حوریں ہیں جو خیموں میں رہتی سہتی ہیں یہاں بھی وہی فرق ملاحظہ ہو کہ وہاں تو فرمایا تھا کہ خود وہ حوریں اپنی نگاہ نیچی رکھتی ہیں اور یہاں فرمایا ان کی نگاہیں نیچی کی گئی ہیں، پس اپنے آپ ایک کام کرنا اور دوسرے سے کرایا جانا ان دونوں میں کس قدر فرق ہے گو پردہ دونوں صورتوں میں حاصل ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں ہر مسلمان کے لئے خیرہ یعنی نیک اور بہترین نورانی حور اور ہر خیرہ کے لئے خیمہ ہے اور خیمہ کے چار دروازے ہیں جن میں سے ہر روز تحفہ کرامت ہدیہ اور انعام آتا رہتا ہے۔ نہ وہاں کوئی فساد ہے نہ سختی نہ گندگی نہ بدبو۔ حوروں کی صحبت ہے جو اچھوتے صاف سفید چمکیلے موتیوں جیسی ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں جنت میں ایک خیمہ ہے در مجوف، جس کا عرض ساٹھ میل کا ہے اس کے ہر ہر کونے میں جنتی کی بیویاں ہیں جو دوسرے کونے والیوں کو نظر نہیں آتیں مومن ان سب کے پاس آتا جاتا رہے گا۔ دوسری روایت میں چوڑائی کا تیس میل ہونا مروی ہے یہ حدیث صحیح مسلم شریف میں بھی ہے حضرت ابو درداء فرماتے ہیں خیمہ ایک ہی لؤلؤ کا ہے جس میں ستر دروازے موتی کے ہیں ابن عباس فرماتے ہیں جنت میں ایک خیمہ ہوگا جو ایک موتی کا بنا ہوا ہوگا چار فرسخ چوڑا جس کے چار ہزار دروازے ہوں گے اور چوکھٹیں سب کی سونے کی ہوں گی ایک مرفوع حدیث میں ہے ادنیٰ درجے کے جنتی کے اسی ہزار خادم ہوں گے اور بہتر بیویاں ہوں گی اور لؤلؤ زبرجد کا محل ہوگا جو جابیہ سے صنعاء تک پہنچے پھر فرماتا ہے ان بےمثل حسینوں کے پنڈے اچھوتے ہیں کسی جن و انس کا گذر ان کے پاس سے نہیں ہوا۔ پہلے بھی اس قسم کی آیت مع تفسیر گذر چکی ہے ہاں پہلی جنتوں کی حوروں کے اوصاف میں اتنا جملہ وہاں تھا کہ وہ یاقوت و مرجان جیسی ہیں یہاں ان کے لئے یہ نہیں فرمایا گیا پھر سوال ہوا کہ حوروں کے اوصاف میں اتنا جملہ وہاں تھا کہ وہ یاقوت و مرجان جیسی ہیں، یہاں ان کے لئے یہ نہیں فرمایا گیا پھر سوال ہوا کہ تمہیں رب کی کس کس نعمت کا انکار ہے ؟ یعنی کسی نعمت کا انکار نہ کرنا چاہیے یہ جنتی سبز رنگ اعلیٰ قیمتی فرشوں غالیچوں اور تکیوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے ہوں گے تخت ہوں گے اور تختوں پر پاکیزہ اعلیٰ فرش ہوں گے اور بہترین منقش تکئے لگے ہوئے ہوں گے یہ تخت یہ فرش یہ تکئے جنت کے باغیچوں اور ان کی کیا ریوں پر ہوں گے اور یہی ان کے فرش ہوں گے کوئی سرخ رنگ ہوگا کوئی زرد رنگ اور کوئی سبز رنگ جنتیوں کے کپڑے بھی ایسے ہی اعلیٰ اور بالا ہوں گے دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں جس سے انہیں تشبیہ دی جاسکے یہ بسترے مخملی ہوں گے جو بہت نرم اور بالکل خالص ہوں گے کئی کئی رنگ کے ملے جلے نقش ان میں بنے ہوئے ہوں گے ابو عبیدہ فرماتے ہیں عبقرہ ایک جگہ کا نام ہے جہاں منقش بہترین کپڑے بنے جاتے تھے، خلیل بن احمد فرماتے ہیں ہر نفیس اور اعلیٰ چیز کو عرب عبقری کہتے ہیں چناچہ ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر بن خطاب کی نسبت فرمایا میں نے کسی عبقری کو نہیں دیکھا جو عمر کی طرح پانی کے بڑے بڑے ڈول کھینچتا ہو یہاں یہ بھی خیال فرمائیے کہ پہلی دو جنتوں کے فرش و فروش اور وہاں کے تکیوں کی جو صفت بیان کی گئی ہے وہ ان سے اعلیٰ ہے وہاں بیان فرمایا گیا تھا کہ ان کے استر یعنی اندر کا کپڑا خالص دبیز ریشم ہوگا پھر اوپر کے کپڑے کا بیان نہیں ہوا تھا اس لئے کہ جس کا استر اتنا اعلیٰ ہے اس کے ابرے یعنی اوپر کے کپڑے کا تو کہنا ہی کیا ہے ؟ پھر اگلی دو جنتوں کے اوصاف میں احسان کو بیان فرمایا جو اعلیٰ مرتبہ اور غایت ہے جیسے کہ حضرت جبرائیل والی حدیث میں ہے کہ انہوں نے اسلام کے بارے میں سوال کیا پھر ایمان کے بارے پھر احسان کے بارے میں پس یہ کئی کئی وجوہ ہیں جن سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ پہلے کہ دو جنتوں کو ان دو جنتوں پر بہترین فضیلت حاصل ہے اللہ تعالیٰ کریم و وہاب سے ہمارا سوال ہے کہ وہ ہمیں بھی ان جنتیوں میں سے کرے جو ان دو جنتوں میں ہوں گے جن کے اوصاف پہلے بیان ہوئے ہیں۔ آمین۔
وہی مستحق احترام و اکرام ہے
پھر فرماتا ہے تیرے رب ذوالجلال والاکرام کا نام بابرکت ہے وہ جلال والا ہے یعنی اس لائق ہے کہ اس کا جلال مانا جائے اور اس کی بزرگی کا پاس کر کے اس کی نافرمانی نہ کی جائے بلکہ کامل اطاعت گذاری کی جائے اور وہ اس قابل ہے کہ اس کا اکرام کیا جائے یعنی اس کی عبادت کی جائے اس کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کی جائے اس کا شکر کیا جائے ناشکری نہ کی جائے اس کا ذکر کیا جائے اور اسے بھلایا نہ جائے۔ وہ عظمت اور کبریائی والا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا اجلال کرو اس کی عظمت کو مانو وہ تمہیں بخش دے گا (احمد) ایک اور حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کی عظمت ماننے میں یہ بھی داخل ہے کہ بوڑھے مسلمان کی اور بادشاہ کی اور عامل قرآن جو قرآن میں کمی زیادتی نہ کرتا ہو یعنی نہ اس میں غلو کرتا ہو نہ کمی کرتا ہو عزت کی جائے۔ ابو یعلیٰ میں ہے (یا ذا الجلال والاکرام) کے ساتھ چمٹ جاؤ ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے امام ترمذی اس کی سند کو غیر محفوظ اور غریب بتاتے ہیں مسند احمد میں دوسری سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے اس میں یا کا لفظ نہیں جوہری فرماتے ہیں کہ جب کوئی کسی کو چمٹ جائے اسے تھام لو تو عرب کہتے ہیں (اَلَظَّ ) یعنی لفظ اس حدیث میں آیا ہے تو مطلب یہ ہے کہ الحاح و خلوص عاجزی اور مسکینی کے ساتھ ہمیشگی اور لزوم سے دامن الہیہ میں لٹک جاؤ صحیح مسلم اور سنن اربعہ میں حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے سلام پھیرنے کے بعد صرف اتنی ہی دیر بیٹھتے تھے کہ یہ کلمات کہہ لیں دعا (اللھم انت السلام ومنک السلام تبارکت یا ذالجلال والاکرام) الحمد اللہ اللہ کے فضل و کرم سے سورة الرحمن کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا شکر ہے۔