Skip to main content

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الْاَرْضِۚ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ

سَبَّحَ
تسبیح کی ہے
لِلَّهِ
اللہ کے لیے
مَا
ہر اس چیز نے
فِى
میں
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
جو آسمانوں میں ہے
وَمَا
اور جو
فِى
میں
ٱلْأَرْضِۖ
زمین میں ہے
وَهُوَ
اور وہ
ٱلْعَزِيزُ
زبردست ہے
ٱلْحَكِيمُ
حکمت والا ہے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اللہ ہی کی تسبیح کی ہے ہر اُس چیز نے جو آسمانوں اور زمین میں ہے، اور وہی غالب اور حکیم ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اللہ ہی کی تسبیح کی ہے ہر اُس چیز نے جو آسمانوں اور زمین میں ہے، اور وہی غالب اور حکیم ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اللہ کی پاکی بولتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں، اور وہ وہی عزت و حکمت والا ہے

احمد علی Ahmed Ali

جو مخلوقات آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے الله کی تسبیح کرتی ہے اور وہی غالب حکمت والا ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

آسمان اور زمین کی ہرچیز اللہ تعالٰی کی پاکی بیان کرتی ہے، اور وہ غالب با حکمت ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

جو چیزیں آسمانوں میں ہیں اور جو چیزیں زمین میں ہیں (سب) خدا کی تسبیح کرتی ہیں۔ اور وہ غالب حکمت والا ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتی ہے، اور وه غالب باحکمت ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اللہ ہی کی تسبیح کرتی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور وہ زبردست، بڑا حکمت والا ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اللہ ہی کے لئے محہُ تسبیح ہے جو کچھ بھی زمین و آسمان میں ہے اور وہی صاحب هعزت اور صاحب هحکمت ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے (سب) اللہ کی تسبیح کرتے ہیں، اور وہی غالب ہے حکمت والا ہے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی ہر ایک چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح تقدیس تمجید تکبیر توحید میں مشغول ہے، جیسے اور جگہ فرمان ہے (وَاِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّايُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَلٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِيْحَهُمْ ۭ اِنَّهٗ كَانَ حَلِــيْمًا غَفُوْرًا 44؀) 17 ۔ الإسراء ;44) یعنی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی اور ثناء خوانی کرتی ہے، وہ غلبہ والا اور بلند جناب والا اور عالی سرکار والا ہے اور اپنے تمام احکام و فرمان میں حکمت والا ہے۔ جس نے اہل کتاب کے کافروں یعنی قبیلہ بنو نضیر کے یہودیوں کو ان کے گھروں سے نکالا، اس کا مختصر قصہ یہ ہے کہ مدینہ میں آ کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان یہودیوں سے صلح کرلی تھی کہ نہ آپ ان سے لڑیں نہ یہ آپ سے لڑیں، لیکن ان لوگوں نے اس عہد کو توڑ دیا جن کی وجہ سے اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان پر غالب کیا اور آپ نے انہیں یہاں سے نکال دیا، مسلمانوں کو کبھی اس کا خیال تک نہ تھا، خود یہ یہود بھی سمجھ رہے تھے کہ ان مضبوط قلعوں کے ہوتے ہوئے کوئی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، لیکن جب اللہ کی پکڑ آئی یہ سب چیزیں یونہی رکھی کی رکھی رہ گئیں اور اچانک اس طرح گرفت میں آگئے کہ حیران رہ گئے اور آپ نے انہیں مدینہ سے نکلوا دیا، بعض تو شام کی زراعتی زمینوں میں چلے گئے جو حشر و نشر کی جگہ ہے اور بعض خیبر کی طرف جا نکلے، ان سے کہہ دیا گیا تھا کہ اپنے اونٹوں پر لاد کر جو لے جا سکو اپنے ساتھ لے جاؤ، اس لئے انہوں نے اپنے گھروں کو توڑ پھوڑ کر جو چیزیں لے جاسکتے تھے اپنے ساتھ اٹھالیں، جو رہ گئیں وہ مسلمانوں کے ہاتھ لگیں، اس واقعہ کو بیان کر کے فرماتا ہے کہ اللہ کے اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مخالفین کا انجام دیکھو اور اس سے عبرت حاصل کرو کہ کس طرح ان پر عذاب الٰہی اچانک آپڑا اور دنیا میں بھی تباہ و برباد کئے گئے اور آخرت میں بھی ذلیل و رسوا ہوگئے اور درد ناک عذاب میں جا پڑا۔ ابو داؤد میں ہے کہ ابن ابی اور اس کے مشرک ساتھیوں کو جو قبیلہ اوس و خزرج میں سے تھے کفار قریش نے خط لکھا یہ خط انہیںحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے میدان بدر سے واپس لوٹنے سے پہلے مل گیا تھا اس میں تحریر تھا کہ تم نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے شہر میں ٹھہرایا ہے پس یا تو تم اس سے لڑائی کرو اور اسے نکال کر باہر کرو یا ہم تمہیں نکال دیں گے اور اپنے تمام لشکروں کو لے کر تم پر حملہ کریں گے اور تمہارے تمام لڑنے والوں کو ہم تہ تیغ کردیں گے اور تمہاری عورتوں لڑکیوں کو لونڈیاں بنالیں گے اللہ کی قسم یہ ہو کر ہی رہے گا اب تم سوچ سمجھ لو، عبداللہ بن ابی اور اس کے بت پرست ساتھیوں نے اس خط کو پا کر آپس میں مشورہ کیا اور خفیہ طور پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لڑائی کرنے کی تجویز بالاتفاق منظور کرلی، جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ خبریں معلوم ہوئیں تو آپ خود ان کے پاس گئے اور ان سے فرمایا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ قریشیوں کا خط کام کر گیا اور تم لوگ اپنی موت کے سامان اپنے ہاتھوں کرنے لگے ہو تم اپنی اولادوں اور اپنے بھائیوں کو اپنے ہاتھوں ذبح کرنا چاہتے ہو میں تمہیں پھر ایک مرتبہ موقعہ دیتا ہوں کہ سوچ سمجھ لو اور اپنے اس بد ارادے سے باز آؤ، حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس ارشاد نے ان پر اثر کیا اور وہ لوگ اپنی اپنی جگہ چلے گئے لیکن قریش نے بدر سے فارغ ہو کر انہیں پھر ایک خط لکھا اور اسی طرح دھمکایا انہیں ان کی قوت ان کی تعداد اور ان کے مضبوط قلعے یاد دلائے مگر یہ پھر اکڑ میں آگئے اور بنو نضیر نے صاف طور پر بد عہدی پر کمر باندھ لی اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس قاصد بھیجا کہ آپ تیس آدمی لے کر آیئے ہم میں سے بھی تیس ذی علم آدمی آتے ہیں، ہمارے تمہارے درمیان کی جگہ پر یہ ساٹھ آدمی ملیں اور آپس میں بات چیت ہو اگر یہ لوگ آپ کو سچا مان لیں اور ایمان لے آئیں تو ہم بھی آپ کے ساتھ ہیں۔ اس بد عہدی کی وجہ سے دوسرے دن صبح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا لشکر لے جا کر ان کا محاصرہ کرلیا اور ان سے فرمایا کہ اب اگر تم نئے سرے سے امن وامان کا عہد و پیمان کرو تو خیر ورنہ تمہیں امن نہیں انہوں نے صاف انکار کردیا اور لڑنے مرنے پر تیار ہوگئے، چناچہ دن بھر لڑائی ہوتی رہی، دوسری صبح کو آپ بنو قریظہ کی طرف لشکر لے کر بڑھے اور بنو نضیر کو یونہی چھوڑا ان سے بھی یہی فرمایا کہ تم نئے سرے سے عہد و پیمان کرو انہوں نے منظور کرلیا اور معاہدہ ہوگیا، آپ وہاں سے فارغ ہو کر پھر بنو نضیر کے پاس آئے لڑائی شروع ہوئی، آخر یہ ہارے اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں حکم دیا کہ تم مدینہ خالی کردو جو اسباب لے جانا چاہو اور اونٹوں پر لاد کرلے جاؤ چناچہ انہوں نے گھر بار کا اسباب یہاں تک کہ دروازے اور لکڑیاں بھی اونٹوں پر لادیں اور جلا وطن ہوگئے، ان کے کھجوروں کے درخت خاصتہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہوگئے اللہ تعالیٰ نے یہ آپ کو ہی دلوا دیئے، جیسے آیت ( وَمَآ اَفَاۗءَ اللّٰهُ عَلٰي رَسُوْلِهٖ مِنْهُمْ فَمَآ اَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَّلَا رِكَابٍ وَّلٰكِنَّ اللّٰهَ يُسَلِّــطُ رُسُلَهٗ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ۝) 59 ۔ الحشر ;6) میں ہے، لیکن آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اکثر حصہ مہاجرین کو دے دیا وہاں انصاریوں میں سے صرف دو ہی حاجت مندوں کو حصہ دیا باقی سب مہاجرین میں تقسیم کردیا۔ تقسیم کے بعد جو باقی رہ گیا تھا یہی وہ مال تھا جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا صدقہ تھا اور جو بنو فاطمہ کے ہاتھ لگا۔ غزوہ بنو نضیر کا مختصر قصہ اور سبب یہ ہے کہ مشرکوں نے دھوکہ بازی سے صحابہ کرام کو بیئر معونہ میں شہید کردیا ان کی تعداد ستر تھی ان میں سے ایک حضرت عمرو بن امیہ ضمری (رض) بچ کر بھاگ نکلے مدینہ شریف کی طرف آئے آتے آتے موقعہ پا کر انہوں نے قبیلہ بنو عامر کے دو شخصوں کو قتل کردیا حالانکہ یہ قبیلہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے معاہدہ کرچکا تھا اور آپ نے انہیں امن وامان دے رکھا تھا لیکن اس کی خبر حضرت عمر و کو نہ تھی، جب یہ مدینے پہنچے اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا تم نے انہیں قتل کر ڈالا اب مھے ان کے وارثوں کو دیت یعنی جرمانہ قتل ادا کرنا پڑے گا، بنو نضیر اور بنو عامر میں بھی حلف و عقد اور آپس میں مصالحت تھی اس لئے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی طرف چلے تاکہ کچھ یہ دیں کچھ آپ دیں اور بنو عامر کو راضی کرلیا جائے۔ قبیلہ بنو نضیر کی گڑھی مدینہ کے مشرق کی جانب کئی میل کے فاصلے پر تھی جب آپ یہاں پہنچے تو انہوں نے کہاں ہاں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم میں موجود ہیں ابھی ابھی جمع کر کے اپنے حصے کے مطابق آپ کی خدمت میں حاضر کرتے ہیں ادھر آپ سے ہٹ کر یہ لوگ آپس میں مشورہ کرنے لگے کہ اس سے بہتر موقعہ کب ہاتھ لگے گا۔ اس وقت آپ قبضے میں ہیں آؤ کام تمام کر ڈالو، چناچہ یہ مشورہ ہوا کہ جس دیوار سے آپ لگے بیٹھے ہیں اس گھر پر کوئی چڑھ جائے اور وہاں سے بڑا سا پتھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر پھینک دے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دب جائیں، عمرو بن مجاش بن کعب اس کام پر مقرر ہوا اس نے آپ کی جان لینے کا بیڑا اٹھایا اور چھت پر چڑھ گیا چاہتا تھا کہ پتھر لڑھکا دے اتنے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بھیجا اور حکم دیا کہ آپ یہاں سے اٹھ کھڑے ہوں چناچہ آپ فوراً ہٹ گئے اور یہ بدباطن اپنے برے ارادے میں ناکام رہے۔ آپ کے ساتھ اس وقت چند صحابہ تھے مثلاً حضرت ابوبکر صدیق (رض) ، حضرت عمر فاروق (رض) ، حضرت علی (رض) وغیرہ آپ یہاں سے فوراً مدینہ شریف کی طرف چل پڑے، ادھر جو صحابہ آپ کے ساتھ نہ تھے اور مدینہ میں آپ کے منتظر تھے انہیں دیر لگنے کے باعث خیال ہوا اور وہ آپ کو ڈھونڈنے کے لئے نکل کھڑے ہوئے لیکن ایک شخص سے معلوم ہوا کہ آپ مدینہ شریف پہنچ گئے ہیں چناچہ یہ لوگ وہیں آئے پوچھا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا واقعہ ہے ؟ آپ نے سارا قصہ کہہ سنایا اور حکم دیا کہ جہاد کی تیاری کرو مجاہدین نے کمریں باندھ لیں اور اللہ کی راہ میں نکل کھڑے ہوئے۔ یہودیوں نے لشکروں کو دیکھ کر اپنے قلعہ کے پھاٹک بند کردیئے اور پناہ گزین ہوگئے آپ نے محاصرہ کرلیا پھر حکم دیا کہ ان کے کھجور کے درخت جو آس پاس ہیں وہ کاٹ دیئے جائیں اور جلا دیئے جائیں، اب تو یہود چیخنے لگے کہ یہ کیا ہو رہا ہے ؟ آپ تو زمین میں فساد کرنے سے اوروں کو روکتے تھے اور فسادیوں کو برا کہتے تھے پھر یہ کیا ہونے لگا ؟ پس ادھر تو درخت کٹنے کا غم، ادھر جو کمک آنے والی تھی اس کی طرف سے مایوسی ان دونوں چیزوں نے ان یہودیوں کی کمر توڑ دی۔ کمک کا واقعہ یہ ہے کہ بنو عوف بن خزرج کا قبیلہ جس میں عبداللہ بن ابی بن سلول اور ودیعہ بن مالک، ابن ابو قوقل اور سوید اور داعس وغیرہ تھے ان لوگوں نے بنو نضیر کو کہلوا بھیجا تھا کہ تم مقابلے پر جمے رہو اور قلعہ خالی نہ کرو ہم تمہاری مدد پر ہیں تمہارا دشمن ہمارا دشمن ہے ہم تمہارے ساتھ مل کر اس سے لڑیں گے اور اگر تم نکلے تو ہم بھی نکلیں گے، لیکن اب تک ان کا یہ وعدہ پورا نہ ہوا اور انہوں نے یہودیوں کی کوئی مدد نہ کی، ادھر ان کے دل مرعوب ہوگئے تو انہوں نے درخواست کی کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہماری جان بخشی کیجئے ہم مدینہ چھوڑ جاتے ہیں لیکن ہم اپنا جو مال اونٹوں پر لاد کرلے جاسکیں وہ ہمیں دے دیا جائے آپ نے ان پر رحم کھا کر ان کی یہ درخواست منظور فرمالی اور یہ لوگ یہاں سے چلے گئے جاتے وقت اپنے دروازوں تک کو اکھیڑ کرلے گئے گھروں کو گرا گئے اور شام اور خیبر میں جا کر آباد ہوگئے، ان کے باقی کے اہل خاص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہوگئے کہ آپ جس طرح چاہیں انہیں خرچ کریں چناچہ آپ نے مہاجرین اولین کو یہ مال تقسیم کردیا، ہاں انصار میں سے صرف دو شخصوں کو یعنی سہل بن حنیف اور ابو دجانہ سماک بن خرشہ کو دیا اس لئے کہ یہ دونوں حضرات مساکین تھے، بنو نضیر میں سے صرف دو شخص مسلمان ہوئے جن کے مال انہی کے پاس رہے ایک تو یامین بن عمیر جو عمرو بن حجاش کے چچا کے لڑکے کا لڑکا تھا یہ عمرو وہ ہے جس نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر پتھر پھینکنے کا بیڑا اٹھایا تھا، دوسرے ابو سعد بن وہب ایک مرتبہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت یامین سے فرمایا کہ اے یامین تیرے اس چچا زاد بھائی نے دیکھ تو میرے ساتھ کس قدر برا برتاؤ برتا اور مجھے نقصان پہنچانے کی کس بےباکی سے کوشش کی ؟ حضرت یامین نے ایک شخص کو کچھ دینا کر کے عمرو کو قتل کرا دیا، سورة حشر اسی واقعہ بنو نضیر کے بارے میں اتری ہے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں جسے اس میں شک ہو کہ محشر کی زمین شام کا ملک ہے وہ اس آیت کو پڑھ لے، ان یہودیوں سے جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تم یہاں سے نکل جاؤ تو انہوں نے کہا ہم کہاں جائیں ؟ آپ نے فرمایا محشر کی زمین کی طرف، حضرت حسن فرماتے ہیں کہ جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو نضیر کو جلا وطن کیا تو فرمایا یہ اول حشر ہے اور ہم بھی اس کے پیچھے ہی پیچھے ہیں (ابن جریر) بنو نضیر کے ان قلعوں کا محاصرہ صرف چھ روز رہا تھا، محاصرین کو قلعہ کی مضبوطی یہودیوں کی زیادتی یکجہتی منافقین کی سازشیں اور خفیہ چالیں وغیرہ دیکھ کر ہرگز یہ یقین نہ تھا کہ اس قدر جلد یہ قلعہ خالی کردیں گے ادھر خود یہود بھی اپنے قلعہ کی مضبوطی پر نازاں تھے اور جانتے تھے کہ وہ ہر طرح محفوظ ہیں، لیکن امر اللہ ایسی جگہ سے آگیا جو ان کے خیال میں بھی نہ تھی، یہی دستور اللہ کا ہے کہ مکار اپنی مکاری میں ہی رہتے ہیں اور بیخبر ان پر عذاب الٰہی آجاتا ہے، ان کے دلوں میں رعب چھا گیا بھلا رعب کیوں نہ چھاتا محاصرہ کرنے والے وہ تھے جنہیں اللہ کی طرف سے رعب دیا گیا تھا کہ دشمن مہینہ بھر کی راہ پر ہو اور وہیں اس کا دل دہلنے لگا تھا صلوات اللہ وسلامہ علیہ۔ یہودی اپنے ہاتھوں اپنے گھروں کو برباد کرنے لگے چھتوں کی لکڑی اور دروازے لے جانے کے لئے توڑنے پھوڑنے شروع کردیئے مقاتل فرماتے ہیں مسلمانوں نے بھی ان کے گھر توڑے اس طرح کہ جیسے جیسے آگے بڑھتے گئے ان کے جو جو مکانات وغیرہ قبضے میں آتے گئے میدان کشادہ کرنے کے لئے انہیں ڈھاتے گئے، اسی طرح خود یہود بھی اپنے مکانوں کو آگے سے تو محفوظ کرتے جاتے تھے اور پیچھے سے نقب لگا کر نکلنے کے راستے بناتے جاتے تھے، پھر فرماتا ہے، اے آنکھوں والو ! عبرت حاصل کرو اور اس اللہ سے ڈرو جس کی لاٹھی میں آواز نہیں۔ اگر ان یہودیوں کے مقدر میں جلا وطنی نہ ہوتی تو انہیں اس سے بھی سخت عذاب دیا جاتا، یہ قتل ہوتے اور قید کر لئے جاتے وغیرہ وغیرہ، پھر آخرت کے بدترین عذاب بھی ان کے لئے تیار ہیں۔ بنو نضیر کی یہ لڑائی جنگ بدر کے چھ ماہ بعد ہوئی، مال جو اونٹوں پر لد جائیں انہیں لے جانے کی اجازت تھی مگر ہتھیار لے جانے کی اجازت نہ تھی، یہ اس قبیلے کے لوگ تھے جنہیں اس سے پہلے کبھی جلا وطنی ہوئی ہی نہ تھی بقول حضرت عروہ بن زبیر شروع سورت سے فاسقین تک آیتیں اسی واقعہ کے بیان میں نازل ہوئی ہیں۔ جلاء کے معنی قتل و فنا کے بھی کئے گئے ہیں، حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں جلا وطنی کے وقت تین تین میں ایک ایک اونٹ اور ایک ایک مشک دی تھی، اس فیصلہ کے بعد بھی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے محمد بن مسلمہ (رض) کو ان کے پاس بھیجا تھا اور انہیں اجازت دی تھی کہ تین دن میں اپنا سامان ٹھیک کر کے چلے آئیں، اس دنیوی عذاب کے ساتھ ہی اخروی عذاب کا بھی بیان ہو رہا ہے کہ وہاں بھی ان کے لئے حتمی اور لازمی طور پر جہنم کی آگ ہے۔ ان کی اس درگت کی اصلی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کا اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خلاف کیا اور ایک اعتبار سے تمام نبیوں کو جھٹلایا اس لئے کہ ہر نبی نے آپ کی بابت پیش گوئی کی تھی، یہ لوگ آپ کو پوری طرح جانتے تھے بلکہ اولاد کو ان کا باپ جس قدر پہچانتا ہے اس سے بھی زیادہ یہ لوگ نبی آخری الزماں کو جانتے تھے لیکن تاہم سرکشی اور حسد کی وجہ سے مانے نہیں، بلکہ مقابلے پر تل گئے اور یہ ظاہر بات ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی اپنے مخالفوں پر سخت عذاب نازل فرماتا ہے۔ لینہ کہتے ہیں اچھی کھجوروں کے درختوں کو عجوہ اور برفی جو کھجور کی قسمیں ہیں بقول بعض وہ لینہ میں داخل نہیں اور بعض کہتے ہیں صرف عجوہ نہیں اور بعض کہتے ہیں ہر قسم کی کھجوریں اس میں داخل ہیں جن میں بویرہ بھی داخل ہے، یہودیوں نے جو بطور طعنہ کے کہا تھا کہ کھجوروں کے درخت کٹوا کر اپنے قول کے خلاف فعل کر کے زمین میں فساد کیوں پھیلاتے ہیں ؟ یہ اس کا جواب ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ حکم رب سے اور اجازت اللہ سے دشمنان اللہ کو ذلیل و ناکام کرنے اور انہیں پست و بدنصیب کرنے کے لئے ہو رہا ہے جو درخت باقی رکھے جائیں وہ اجازت سے اور جو کاٹے جاتے ہیں وہ بھی مصلحت کے ساتھ، یہ بھی مروی ہے کہ بعض مہاجرین نے بعض کو ان درختوں کے کاٹنے سے منع کیا تھا کہ آخر کار تو یہ مسلمانوں کو بطور مال غنیمت ملنے والے ہیں پھر انہیں کیوں کاٹا جائے ؟ جس پر یہ آیت اتری کہ روکنے والے بھی حق بجانب ہیں اور کاٹنے والے بھی برحق ہیں ان کی نیت مسلمانوں کے نفع کی ہے اور ان کی نیت کافروں کو غیظ و غضب میں لانے اور انہیں ان کی شرارت کا مزہ چکھانے کی ہے، اور یہ بھی ارادہ ہے کہ اس سے جل کر وہ غصے میں پھر کر میدان میں آئیں تو پھر دو دو ہاتھ ہوجائیں اور اعداء دین کو کیفر کردار تک پہنچا دیا جائے، صحابہ نے یہ فعل کر تو لیا پھر ڈرے کہ ایسا نہ ہو کاٹنے میں یا باقی چھوڑنے میں اللہ کی طرف سے کوئی مواخذہ ہو تو انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا اور یہ آیت نازل ہوئی۔ یعنی دونوں باتوں پر اجر ہے کاٹنے پر بھی اور چھوڑنے پر بھی، بعض روایتوں میں ہے کٹوائے بھی تھے اور جلوائے بھی تھے۔ بنو قریظہ کے یہودیوں پر اس وقت حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احسان کیا اور ان کو مدینہ شریف میں ہی رہنے دیا لیکن بالآخر جب یہ بھی مقابلے پر آئے اور منہ کی کھائی تو ان کے لڑنے والے مرد تو قتل کئے گئے اور عورتیں، بچے اور مال مسلمانوں میں تقسیم کردیئے گئے ہاں جو لوگ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوگئے اور ایمان لائے وہ بچ رہے، پھر مدینہ سے تمام یہودیوں کو نکال دیا بنو قینقاع کو بھی جن میں سے حضرت عبداللہ بن سلام (رض) تھے اور بنو حارثہ کو بھی اور کل یہودیوں کو جلا وطن کیا۔ ان تمام واقعات کو عرب شاعروں نے اپنے اشعار میں بھی نہایت خوبی سے ادا کیا ہے، جو سیرۃ ابن اسحاق میں مروی ہیں یہ واقعہ بقول ابن اسحاق کے احد اور بیر معونہ کے بعد کا ہے اور بقول عروہ بدر کے چھ مہینے بعد کا ہے واللہ اعلم۔