Skip to main content

سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَىۙ

سَبِّحِ
تسبیح کیجئے
ٱسْمَ
نام کی
رَبِّكَ
اپنے رب کے
ٱلْأَعْلَى
جو سب سے بلند ہے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

(اے نبیؐ) اپنے رب برتر کے نام کی تسبیح کرو

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

(اے نبیؐ) اپنے رب برتر کے نام کی تسبیح کرو

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اپنے رب کے نام کی پاکی بولو جب سے بلند ہے

احمد علی Ahmed Ali

اپنے رب کے نام کی تسبیح کیا کر جو سب سے اعلیٰ ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اپنے بہت ہی بلند اللہ کے نام کی پاکیزگی بیان کر (١)

١۔١ یعنی ایسی چیزوں سے اللہ کی پاکیزگی اس کے لائق نہیں ہے حدیث میں آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے جواب میں پڑھا کرتے تھے، سُبْحَانَ رَبَّیَ ا لاَّعْلَیٰ (مسند احمد ٢٣٢۔١)

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

(اے پیغمبر) اپنے پروردگار جلیل الشان کے نام کی تسبیح کرو

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اپنے بہت ہی بلند اللہ کے نام کی پاکیزگی بیان کر

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

(اے نبی(ص)) اپنے بلند و برتر پروردگار کے نام کی تسبیح کیجئے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اپنے بلند ترین رب کے نام کی تسبیح کرو

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اپنے رب کے نام کی تسبیح کریں جو سب سے بلند ہے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

مسند احمد میں ہے عقبہ بن عامر جہنی (رض) فرماتے ہیں کہ جب آیت ( فَسَبِّحْ باسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ 74۝ۧ) 56 ۔ الواقعة ;74) اتری تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اسے تم اپنے رکوع میں کرلو جب آیت ( سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى ۝ ۙ ) 87 ۔ الأعلی ;1) اتری تو آپ نے فرمایا اسے اپنے سجدے میں کرلو ابو داؤد وغیرہ کی حدیث میں ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آیت ( سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى ۝ ۙ ) 87 ۔ الأعلی ;1) پڑھتے تو کہتے سبحان ربی الاعلی حضرت علی سے بھی یہ مروی ہے حضرت ابن عباس (رض) سے بھی یہ مروی ہے اور آپ جب آیت (لا اقسم بیوم القیامۃ) پڑھتے اور آخری آیت ( اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى 40؀ ) 75 ۔ القیامة ;40) پر پہنچتے تو فرماتے سبحانک و بلی اللہ تعالیٰ یہاں ارشاد فرماتا ہے اپنے بلندیوں والے پرورش کرنے والے اللہ کے پاک نام کی پاکیزگی اور تسبیح بیان کرو جس نے تمام مخلوق کو پیدا کیا اور سب کو اچھی ہیئت بخشی انسان کو سعادت شقاوت کے چہرے دکھا دئیے اور جانور کو چرنے چگنے وغیرہ کے سامان مہیا کیے جیسے اور جگہ ہے آیت (رَبُّنَا الَّذِيْٓ اَعْطٰي كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى 50؀) 20 ۔ طه ;50) یعنی ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی پیدائش عطا فرمائی پھر رہبری کی صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ زمین آسمان کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی تقدیر لکھی اس کا عرش پانی پر تھا جس نے ہر قسم کے نباتات اور کھیت نکالے پھر ان سرسبز چاروں کو خشک اور سیاہ رنگ کردیا بعض عارفان کلام عرب نے کہا ہے کہ یہاں بعض الفاظ جو ذکر میں موخر ہیں معنی کے لحاظ سے مقدم ہیں یعنی مطلب یہ ہے کہ جس نے گھاس چارہ سبز رنگ سیاہی مائل پیدا کیا پھر اسے خشک کردیا گویہ معنی بھی بن سکتے ہیں لیکن کچھ زیادہ ٹھیک نظر نہیں آتے کیونکہ مفسرین کے اقوال کے خلاف ہیں پھر فرماتا ہے کہ تجھے ہم اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایسا پڑھائیں گے جسے تو بھولے نہیں ہاں اگر خود اللہ کوئی آیت بھلا دینا چاہے تو اور بات ہے امام ابن جریر تو اسی مطلب کو پسند کرتے ہیں اور مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ جو قرآن ہم تجھے پڑھاتے ہیں اسے نہ بھول ہاں جسے ہم خود منسوخ کردیں اس کی اور بات ہے اللہ پر بندوں کے چھپے کھلے اعمال احوال عقائد سب ظاہر ہیں ہم تجھ پر بھلائی کے کام اچھی باتیں شرعی امر آسان کردیں گے نہ اس میں کجی ہوگی نہ سختی نہ جرم ہوگا تو نصیحت کر اگر نصیحت فائدے دے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نالائقوں کو نہ سکھانا چاہیے جیسے کہ امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ اگر تم دوسروں کے ساتھ وہ باتیں کرو گے جو ان کی عقل میں نہ آسکیں تو نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہاری بھلی باتیں ان کے لیے بری بن جائیں گی اور باعث فتنہ ہوجائیں گی بلکہ لوگوں سے ان کی سمجھ کے مطابق بات چیت کرو تاکہ لوگ اللہ اور رسول کو نہ جھٹلائیں۔ پھر فرمایا کہ اس سے نصیحت وہ حاصل کریگا جس کے دل میں اللہ کا خوف ہے جو اس کی ملاقات پر یقین رکھتا ہے اور اس سے وہ عبرت و نصیحت حاصل نہیں کرسکتا جو بدبخت ہو جو جہنم میں جانے والا ہو جہاں نہ تو راحت کی زندگی ہے نہ بھلی موت ہے بلکہ وہ لازوال عذاب اور دائمی برائی ہے اس میں طرح طرح کے عذاب اور بدترین سزائیں ہیں مسند احمد میں ہے کہ جو اصلی جہنمی ہیں انہیں نہ تو موت آئیگی نہ کار آمد زندگی ملے گی ہاں جن کے ساتھ اللہ کا ارادہ رحمت کا ہے وہ آگ میں گرتے ہی جل کر مرجائیں گے پھر سفارشی لوگ جائیں گے اور ان میں سے اکثر کو چھڑا لائیں گے پھر نہر حیاۃ میں ڈال دئیے جائیں گے جنتی نہروں کا پانی ان پر ڈالا جائیگا اور وہ اس طرح جی اٹھیں گے جس طرح دانہ نالی کے کنارے کوڑے پر اگ آتا ہے کہ پہلے سبز ہوتا ہے پھر زرد پھر ہرا لوگ کہنے لگے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو اس طرح بیان فرماتے ہیں جیسے آپ جنگل سے واقف ہوں یہ حدیث مختلف الفاظ سے بہت سی کتب میں مروی ہے قرآن کریم میں اور جگہ وارد ہے آیت ( وَنَادَوْا يٰمٰلِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ ۭ قَالَ اِنَّكُمْ مّٰكِثُوْنَ 77؀) 43 ۔ الزخرف ;77) یعنی جہنمی لوگ پکار پکار کر کہیں گے کہ اے مالک داروغہ جہنم اللہ سے کہہ وہ ہمیں موت دے دے جواب ملے گا تم تو اب اسی میں پڑے رہنے والے ہو اور جگہ ہے آیت (لَا يُقْضٰى عَلَيْهِمْ فَيَمُوْتُوْا وَلَا يُخَـفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا ۭ كَذٰلِكَ نَجْزِيْ كُلَّ كَفُوْرٍ 36؀ۚ ) 35 ۔ فاطر ;36) یعنی نہ تو ان کی موت آئیگی نہ عذاب کم ہوں گے اس معنی کی آیتیں اور بھی ہیں۔