Skip to main content
ARBNDEENIDRUTRUR

الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۙ

ٱلرَّحْمَٰنِ
جو بہت مہربان
ٱلرَّحِيمِ
بار بار رحم فرمانے والا ہے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

رحمان اور رحیم ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

رحمان اور رحیم ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

بہت مہربان رحمت والا،

احمد علی Ahmed Ali

بڑا مہربان نہایت رحم والا

أحسن البيان Ahsanul Bayan

بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا (١)۔

ف۱ رحمن بروز فعلان اور رحیم بروزن فعیل ہے ۔ دونوں مبالغے کے صیغے ہیں ۔ جن میں کثرت اور دوام کا مفہوم پایا جاتا ہے ۔ یعنی اللہ تعالٰی بہت رحم کرنے والا ہے اور اس کی یہ صفت دیگر صفات کی طرح دائمی ہے۔ بعض علماء کہتے ہیں رحمٰن میں رحیم کی نسبت زیادہ مبالغہ ہے اسی لیے رحمٰن الدنیا والآخرہ کہا جاتا ہے۔ دنیا میں اس کی رحمت جس میں بلا تخصیص کافر و مومن سب فیض یاب ہو رہے ہیں اور آخرت میں وہ صرف رحیم ہو گا۔ یعنی اس کی رحمت صرف مومنین کے لئے خاص ہوگی۔ اللھم اجعلنا منھم ۔آمین

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

بڑا مہربان نہایت رحم والا

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

بڑا مہربان نہایت رحم کرنے واﻻ

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

جو (سب پر) بڑا مہربان (اور خاص بندوں پر) نہایت رحم کرنے والا ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

وہ عظیم اوردائمی رحمتوں والا ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

نہایت مہربان بہت رحم فرمانے والا ہے

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

بہت بخشش کرنے والا بڑا مہربان
اس کی تفسیر پہلے پوری گزر چکی ہے اب اعادہ کی ضرورت نہیں۔ قرطبی فرماتے ہیں آیت (رب العلمین کے وصف کے بعد آیت (الرحمن الرحیم کا وصف ترہیب یعنی ڈراوے کے بعد ترغیب یعنی امید ہے۔ جیسے فرمایا آیت (نبی عبادی الخ یعنی میرے بندوں کو خبر دو کہ میں ہی بخشنے والا مہربان ہوں اور میرے عذاب بھی دردناک عذاب ہیں۔ اور فرمایا تیرا رب جلد سزا کرنے والا اور مہربان اور بخشش بھی کرنے والا ہے۔ رب کے لفظ میں ڈراوا ہے اور رحمن اور رحیم کے لفظ میں امید ہے۔ صحیح مسلم شریف میں بروایت حضرت ابوہریرہ مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر ایماندار اللہ کے غضب و غصہ سے اور اس کے سخت عذاب سے پورا وقف ہوتا تو اس کے دل سے جنت کی طمع ہٹ جاتی اور اگر کافر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کی رحمتوں کو پوری طرح جان لیتا تو کبھی ناامید نہ ہوتا۔