Skip to main content

وَاِنَّهَا لَبِسَبِيْلٍ مُّقِيْمٍ

وَإِنَّهَا
اور بیشک وہ
لَبِسَبِيلٍ
البتہ ایک راستے پر ہیں
مُّقِيمٍ
قائم۔ موجود

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اور وہ علاقہ (جہاں یہ واقعہ پیش آیا تھا) گزرگاہ عام پر واقع ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اور وہ علاقہ (جہاں یہ واقعہ پیش آیا تھا) گزرگاہ عام پر واقع ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور بیشک وہ بستی اس راہ پر ہے جو اب تک چلتی ہے،

احمد علی Ahmed Ali

اور بے شک یہ بستیاں سیدھے راستے پر واقع ہیں

أحسن البيان Ahsanul Bayan

یہ بستی راہ پر ہے جو برابر چلتی رہتی (عام گزرگاہ) ہے (١)۔

٧٦۔١ مراد شاہراہ ہے، یعنی قوم لوط کی بستیاں مدینے سے شام کو جاتے ہوئے راستے میں پڑتی ہیں۔ ہر آنے جانے والے کو انہی بستیوں سے گزر کر جانا پڑتا ہے۔ کہتے ہیں یہ پانچ بستیاں تھیں، کہا جاتا ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے اپنے بازو پر انہیں اٹھایا اور آسمان پر چڑھ گئے حتٰی کہ آسمان والوں نے ان کے کتوں کے بھونکنے اور مرغوں کے بولنے کی آوازیں سنیں اور پھر ان کو زمین پر دے مارا (ابن کثیر) مگر اس بات کی کوئی سند نہیں۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور وہ (شہر) اب تک سیدھے رستے پر (موجود) ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

یہ بستی ایسی راه پر ہے جو برابر چلتی رہتی (عام گذرگاه) ہے۔

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور وہ (بستی) ایک عام گزرگاہ پر واقع ہے جو اب تک قائم ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور یہ بستی ایک مستقل چلنے والے راستہ پر ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور بیشک وہ بستی ایک آباد راستہ پر واقع ہے،