Skip to main content

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِىْ عَيْنٍ حَمِئَةٍ وَّوَجَدَ عِنْدَهَا قَوْمًا ۗ قُلْنَا يٰذَا الْقَرْنَيْنِ اِمَّاۤ اَنْ تُعَذِّبَ وَاِمَّاۤ اَنْ تَتَّخِذَ فِيْهِمْ حُسْنًا

حَتَّىٰٓ
یہاں تک کہ
إِذَا
جب
بَلَغَ
وہ پہنچ گیا
مَغْرِبَ
غروب ہونے کی جگہ
ٱلشَّمْسِ
سورج
وَجَدَهَا
پایا اس کو
تَغْرُبُ
غروب ہورہا ہے
فِى
میں
عَيْنٍ
ایک چشمے (میں)
حَمِئَةٍ
گدلے۔ کیچڑ والے
وَوَجَدَ
اور پایا
عِندَهَا
اس کے پاس
قَوْمًاۗ
ایک قوم کو
قُلْنَا
کہا ہم نے
يَٰذَا
اے
ٱلْقَرْنَيْنِ
ذوالقرنین
إِمَّآ
خواہ
أَن
یہ
تُعَذِّبَ
تو عذاب دے۔ سزا دے
وَإِمَّآ
اور خواہ یہ
أَن
کہ
تَتَّخِذَ
تو اختیار کرے
فِيهِمْ
ان کے معاملے میں
حُسْنًا
بھلائی

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

حتیٰ کہ جب وہ غروب آفتاب کی حَد تک پہنچ گیا تو اس نے سورج کو ایک کالے پانی میں ڈوبتے دیکھا اور وہاں اُسے ایک قوم ملی ہم نے کہا "اے ذوالقرنین، تجھے یہ مقدرت بھی حاصل ہے کہ ان کو تکلیف پہنچائے اور یہ بھی کہ اِن کے ساتھ نیک رویّہ اختیار کرے"

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

حتیٰ کہ جب وہ غروب آفتاب کی حَد تک پہنچ گیا تو اس نے سورج کو ایک کالے پانی میں ڈوبتے دیکھا اور وہاں اُسے ایک قوم ملی ہم نے کہا "اے ذوالقرنین، تجھے یہ مقدرت بھی حاصل ہے کہ ان کو تکلیف پہنچائے اور یہ بھی کہ اِن کے ساتھ نیک رویّہ اختیار کرے"

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

یہاں تک کہ جب سورج ڈوبنے کی جگہ پہنچا اسے ایک سیاہ کیچڑ کے چشمے میں ڈوبتا پایا اور وہاں ایک قوم ملی ہم نے فرمایا اے ذوالقرنین یا تو تُو انہیں عذاب دے یا ان کے ساتھ بھلائی اختیار کرے

احمد علی Ahmed Ali

یہاں تک کہ جب سورج ڈوبنے کی جگہ پہنچا تو اسے ایک گرم چشمے میں ڈوبتا ہوا پایا اور وہاں ایک قوم بھی پائی ہم نے کہااے ذوالقرنین یا انھیں سزا دے اور یا ان سے نیک سلوک کر

أحسن البيان Ahsanul Bayan

یہاں تک کہ سورج ڈوبنے کی جگہ پہنچ گیا اور اسے ایک دلدل کے چشمے میں غروب ہوتا ہوا پایا (١) اور اس چشمے کے پاس ایک قوم کو پایا ہم نے فرمایا (٢) کہ اے ذوالقرنین! یا تو انہیں تکلیف پہنچائے یا ان کے بارے میں تو کوئی بہترین روش اختیار کرے (٣)۔

٨٦۔١عین سے مراد چشمہ یا سمندر ہے حمثۃ، کیچڑ، دلدل، وجد (پایا) یعنی دکھایا محسوس کیا مطلب یہ ہے کہ ذوالقرنین جب مغربی جہت میں ملک پر ملک فتح کرتا ہوا، اس مقام پر پہنچ گیا جہاں آخری آبادی تھی وہاں گدلے پانی کا چشمہ یا سمندر تھا جو نیچے سے سیاہ معلوم ہوتا تھا اسے ایسا محسوس ہوا کہ گویا سورج اس چشمے میں ڈوب رہا ہے۔ ساحل سمندر سے دور سے، جس کے آگے حد نظر تک کچھ نہ ہو، غروب شمس کا نظارہ کرنے والوں کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سورج سمندر میں یا زمین میں ڈوب رہا ہے حالانکہ وہ اپنے مقام آسمان پر ہی ہوتا ہے۔
٨٦۔٢ قُلْنَا (ہم نے کہا) بذریعہ وحی، اسی سے بعض علماء نے نبوت پر ثبوت کیا ہے اور جو ان کی نبوت کے قائل نہیں ہیں، وہ کہتے ہیں کہ اس وقت کے پیغمبر کے ذریعے سے ہم نے اس سے کہا۔
٨٦۔٣ یعنی ہم نے اس قوم پر غلبہ دے کر اختیار دے دیا کہ چاہے تو اسے قتل کرے اور قیدی بنا لے یا فدیہ لے کر بطور احسان چھوڑ دے

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

یہاں تک کہ جب سورج کے غروب ہونے کی جگہ پہنچا تو اسے ایسا پایا کہ ایک کیچڑ کی ندی میں ڈوب رہا ہے اور اس (ندی) کے پاس ایک قوم دیکھی۔ ہم نے کہا ذوالقرنین! تم ان کو خواہ تکلیف دو خواہ ان (کے بارے) میں بھلائی اختیار کرو (دونوں باتوں میں تم کو قدرت ہے)

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

یہاں تک کہ سورج ڈوبنے کی جگہ پہنچ گیا اور اسے ایک دلدل کےچشمے میں غروب ہوتا ہوا پایا اور اس چشمے کے پاس ایک قوم کو بھی پایا، ہم نے فرما دیا کہ اے ذوالقرنین! یا تو تو انہیں تکلیف پہنچائے یا ان کے بارے میں تو کوئی بہترین روش اختیار کرے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

یہاں تک کہ وہ (چلتے چلتے) غروبِ آفتاب کے مقام پر پہنچ گیا تو اسے ایک سیاہ چشمے میں غروب ہوتا ہوا پایا۔ (محسوس کیا) اور اس کے پاس ایک قوم کو (آباد) پایا۔ ہم نے کہا اے ذوالقرنین! (تمہیں اختیار ہے) خواہ انہیں سزا دو یا ان کے ساتھ حسن سلوک کا رویہ اختیار کرو۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

یہاں تک کہ جب وہ غروب آفتاب کی منزل تک پہنچے تو دیکھا کہ وہ ایک کالی کیچڑ والے چشمہ میں ڈوب رہا ہے اور اس چشمہ کے پاس ایک قوم کو پایا تو ہم نے کہا کہ تمہیں اختیار ہے چاہے ان پر عذاب کرو یا ان کے درمیان حسن سلوک کی روش اختیار کرو

طاہر القادری Tahir ul Qadri

یہاں تک کہ وہ غروبِ آفتاب (کی سمت آبادی) کے آخری کنارے پر جا پہنچا وہاں اس نے سورج کے غروب کے منظر کو ایسے محسوس کیا جیسے وہ (کیچڑ کی طرح سیاہ رنگ) پانی کے گرم چشمہ میں ڈوب رہا ہو اور اس نے وہاں ایک قوم کو (آباد) پایا۔ ہم نے فرمایا: اے ذوالقرنین! (یہ تمہاری مرضی پر منحصر ہے) خواہ تم انہیں سزا دو یا ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو،