Skip to main content

فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَمَا يَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۙ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ ۗ وَكُلًّا جَعَلْنَا نَبِيًّا

فَلَمَّا
تو جب
ٱعْتَزَلَهُمْ
جدا ہوا ان سے
وَمَا
اور جن کی
يَعْبُدُونَ
وہ عبادت کرتے تھے
مِن
کے
دُونِ
سوائے
ٱللَّهِ
اللہ کے
وَهَبْنَا
عطا کیا ہم نے
لَهُۥٓ
اس کے لیے
إِسْحَٰقَ
اسحاق کو
وَيَعْقُوبَۖ
اور یعقوب کو
وَكُلًّا
اور ہر ایک کو
جَعَلْنَا
بنایا ہم نے
نَبِيًّا
نبی

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

پس جب وہ اُن لوگوں سے اور اُن کے معبُودانِ غیر اللہ سے جُدا ہو گیا تو ہم نے اُس کو اسحاقؑ اور یعقوبؑ جیسی اولاد دی اور ہر ایک کو نبی بنایا

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

پس جب وہ اُن لوگوں سے اور اُن کے معبُودانِ غیر اللہ سے جُدا ہو گیا تو ہم نے اُس کو اسحاقؑ اور یعقوبؑ جیسی اولاد دی اور ہر ایک کو نبی بنایا

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

پھر جب ان سے اور اللہ کے سوا ان کے معبودوں سے کنارہ کر گیا ہم نے اسے اسحاق اور یعقوب عطا کیے، اور ہر ایک کو غیب کی خبریں بتانے والا کیا،

احمد علی Ahmed Ali

پھر جب ان سے علیحدٰہ ہوا اور اس چیز سے جنہیں وہ الله کے سوا پوجتے تھے ہم نے اسے اسحاق اور یعقوب عطا کیا اور ہم نے ہر ایک کو نبی بنایا

أحسن البيان Ahsanul Bayan

جب ابراہیم (علیہ السلام) ان سب کو اور اللہ کے سوا ان کے سب معبودوں کو چھوڑ چکے تو ہم نے انہیں اسحاق و یعقوب (علیہما السلام) عطا فرمائے، (١) اور دونوں کو نبی بنا دیا۔

٤٩۔١ حضرت یعقوب علیہ السلام، حضرت اسحاق علیہ السلام کے بیٹے یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پوتے تھے۔ اللہ تعالٰی نے ان کا ذکر بھی بیٹے کے ساتھ اور بیٹے ہی کی طرح کیا۔ مطلب یہ ہے کہ جب ابراہیم علیہ السلام توحید الٰہی کی خاطر باپ کو، گھر کو اور اپنے پیارے وطن کو چھوڑ کر بیت المقدس کی طرف ہجرت کر گئے، تو ہم نے انہیں اسحاق ویعقوب علیہما السلام سے نوازا تاکہ ان کی انس ومحبت، باپ کی جدائی کا صدمہ بھلا دے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور جب ابراہیم ان لوگوں سے اور جن کی وہ خدا کے سوا پرستش کرتے تھے اُن سے الگ ہوگئے تو ہم نے ان کو اسحاق اور (اسحاق کو) یعقوب بخشے۔ اور سب کو پیغمبر بنایا

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

جب ابراہیم (علیہ السلام) ان سب کو اور اللہ کے سوا ان کے سب معبودوں کو چھوڑ چکے تو ہم نے انہیں اسحاق ویعقوب (علیہما السلام) عطا فرمائے، اور دونوں کو نبی بنا دیا

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

پس جب وہ ان لوگوں کے اور ان کے خداؤں سے کنارہ کش ہوگئے تو ہم نے ان کو اسحاق و یعقوب جیسی اولاد عنایت فرمائی اور ہم نے سب کو نبی بنایا۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

پھر جب ابراہیم علیھ السّلامنے انہیں اور ان کے معبودوں کو چھوڑ دیا تو ہم نے انہیں اسحاق علیھ السّلامو یعقوب علیھ السّلام جیسی اولاد عطا کی اور سب کو نبی قرار دے دیا

طاہر القادری Tahir ul Qadri

پھر جب ابراہیم (علیہ السلام) ان لوگوں سے اور ان (بتوں) سے جن کی وہ اﷲ کے سوا پرستش کرتے تھے (میل ملاپ چھوڑ کر) بالکل جدا ہو گئے (تو) ہم نے انہیں اسحاق (بیٹے) اور یعقوب (پوتے، علیھما السلام) سے نوازا، اور ہم نے ہر (دو) کو نبی بنایا،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

لا تعلق ہونے کا اعلان۔
خلیل اللہ (علیہ السلام) ماں باپ کو رشتے کنبے کو قوم وملک کو اللہ کے دین پر قربان کرچکے سب سے یک طرف ہوگئے اپنی برات اور علیحدگی کا اعلان کردیا تو اللہ نے ان کی نسل جاری کردی آپ کے ہاں حضرت اسحاق (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور حضرت اسحاق کے ہاں یعقوب (علیہ السلام) ہوئے۔ جیسے فرمان ہے ( وَيَعْقُوْبَ نَافِلَةً ۭ وَكُلًّا جَعَلْنَا صٰلِحِيْنَ 72؀) 21 ۔ الأنبیاء ;72) اور آیت میں ہے (وَمِنْ وَّرَاۗءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ 71؀) 11 ۔ ھود ;71) یعنی اسحاق کے پیچھے یعقوب پس حضرت اسحاق حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے والد تھے جیسے سورة بقرہ کی آیت ( اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَاۗءَ اِذْ حَضَرَ يَعْقُوْبَ الْمَوْتُ\013\03 ) 2 ۔ البقرة ;133) ، میں صاف لفظ ہیں کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے انتقال کے وقت اپنے بچوں سے پوچھا کہ تم سب میرے بعد کس کی عبادت کروگے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ اسی اللہ کی جس کی عبادت آپ کرتے ہیں اور آپ کے والد ابراہیم اسماعیل اور اسحاق (علیہ السلام) ۔ پس یہاں مطلب یہ ہے کہ ہم نے اس کی نسل جاری رکھی بیٹا دیا بیٹے کے ہاں بیٹا دیا اور دونوں نبی بنا کر آپ کی آنکھیں ٹھنڈی کیں۔ یہ ظاہر ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بعد آپ کے فرزند حضرت یوسف (علیہ السلام) بھی نبی بنائے گئے تھے ان کا ذکر یہاں نہیں کیا اس لئے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی نبوت کے وقت خلیل اللہ (علیہ السلام) زندہ نہ تھے یہ دونوں نبوتیں یعنی حضرت اسحاق (علیہ السلام) و یعقوب (علیہ السلام) کی نبوت آپ کی زندگی میں آپ کے سامنے تھی اس لئے اس احسان کا ذکر بیان فرمایا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جب سوال ہوا کہ سب سے بہتر شخص کون ہے فرمایا، یوسف بن یعقوب نبی اللہ بن اسحاق نبی اللہ بن ابراہیم نبی اللہ وخلیل اللہ۔ اور حدیث میں ہے کریم بن کریم بن کریم بن کریم، یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم ہیں۔ علیہم الصلوۃ والسلام۔ ہم نے انہیں اپنی بہت ساری رحمتیں دیں اور ان کا ذکر خیر اور ثنا جمیل کو دنیا میں ان کے بعد بلندی کے ساتھ باقی رکھا یہاں تک کہ ہر مذہب والے ان کے گن گاتے ہیں۔ فصلوۃ اللہ وسلامہ علہیم اجمعین۔