Skip to main content
ARBNDEENIDTRUR

اَيَوَدُّ اَحَدُكُمْ اَنْ تَكُوْنَ لَهٗ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِيْلٍ وَّاَعْنَابٍ تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُۙ لَهٗ فِيْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِۙ وَاَصَابَهُ الْكِبَرُ وَلَهٗ ذُرِّيَّةٌ ضُعَفَاۤءُ ۚ فَاَصَابَهَاۤ اِعْصَارٌ فِيْهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْۗ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَـكُمُ الْاٰيٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَ

اَيَوَدُّ
کیا چاہتا ہے
اَحَدُكُمْ
تم میں سے کوئی ایک
اَنْ
کہ
تَكُوْنَ
ہو
لَهٗ
اس کے لیے
جَنَّةٌ
ایک باغ
مِّنْ نَّخِيْلٍ
کھجوروں کا
وَّ
اور
اَعْنَابٍ
انگوروں کا
تَجْرِيْ
بہتی ہوں
مِنْ تَحْتِهَا
اس کے نیچے
الْاَنْهٰرُ ۙ
نہریں
لَهٗ
اس کے لیے
فِيْهَا
اس میں
مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ ۙ
ہر طرح کے پھل ہوں
وَ
اور
اَصَابَهُ
پہنچے اس کو
الْكِبَرُ
بڑھاپا
وَ
اور
لَهٗ
اولاد ہو
ذُرِّيَّةٌ
کمزور
ضُعَفَاۗءُ ښ
پھر پہنچے اس کو
فَاَصَابَهَآ
ایک بگولہ
اِعْصَارٌ
اس میں
فِيْهِ
آگ ہو
نَارٌ
تو مل جائے
فَاحْتَرَقَتْ ۭ
اسی طرح
كَذٰلِكَ
بیان کرتا ہے
يُبَيِّنُ
اللہ
اللّٰهُ
تمہارے لیے
لَكُمُ
نشانیاں
الْاٰيٰتِ
تاکہ تم
لَعَلَّكُمْ
تم غور و فکر کرو
تَتَفَكَّرُوْنَ
تم غور و فکر کرو

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے پاس ایک ہرا بھرا باغ ہو، نہروں سے سیراب، کھجوروں اور انگوروں اور ہرقسم کے پھلوں سے لدا ہوا، اور وہ عین اُس وقت ایک تیز بگولے کی زد میں آ کر جھلس جائے، جبکہ وہ خود بوڑھا ہو اور اس کے کم سن بچے ابھی کسی لائق نہ ہوں؟ اس طرح اللہ اپنی باتیں تمہارے سامنے بیان کرتا ہے، شاید کہ تم غور و فکر کرو

ابوالاعلی مودودی

کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے پاس ایک ہرا بھرا باغ ہو، نہروں سے سیراب، کھجوروں اور انگوروں اور ہرقسم کے پھلوں سے لدا ہوا، اور وہ عین اُس وقت ایک تیز بگولے کی زد میں آ کر جھلس جائے، جبکہ وہ خود بوڑھا ہو اور اس کے کم سن بچے ابھی کسی لائق نہ ہوں؟ اس طرح اللہ اپنی باتیں تمہارے سامنے بیان کرتا ہے، شاید کہ تم غور و فکر کرو

احمد رضا خان

کیا تم میں کوئی اسے پسند رکھے گا کہ اس کے پاس ایک باغ ہو کھجوروں اور انگوروں کا جس کے نیچے ندیاں بہتیں اس کے لئے اس میں ہر قسم کے پھلوں سے ہے اور اسے بڑھاپا آیا اور اس کے ناتوان بچے ہیں تو آیا اس پر ایک بگولا جس میں آگ تھی تو جل گیا ایسا ہی بیان کرتا ہے اللہ تم سے اپنی آیتیں کہ کہیں تم دھیان لگاؤ

احمد علی

کیا تم میں کسی کو یہ بات پسند آتی ہے کہ اس کا ایک باغ کھجور اور انگور کا ہو جس کے نیچے نہریں بہتی ہوں اسے اس باغ میں اوربھی ہر طرح کا میوہ حاصل ہو اور اس پر بڑھاپا آ گیا ہو اور اس کی اولاد ضعیف ہو تب اس باغ پرایک بگولہ آ پڑا جس میں آگ تھی جس سے وہ باغ جل گیا الله تمہیں اس طرح نشانیاں سمجھاتا ہے تاکہ تم سوچا کرو

جالندہری

بھلا تم میں کوئی یہ چاہتا ہے کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو جس میں نہریں بہہ رہی ہوں اور اس میں اس کے لئے ہر قسم کے میوے موجود ہوں اور اسے بڑھاپا آپکڑے اور اس کے ننھے ننھے بچے بھی ہوں۔ تو (ناگہاں) اس باغ پر آگ کا بھرا ہوا بگولا چلے اور وہ جل کر (راکھ کا ڈھیر ہو) جائے۔ اس طرح خدا تم سے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سوچو (اور سمجھو)

محمد جوناگڑھی

کیا تم میں سے کوئی بھی یہ چاہتا ہے کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو، جس میں نہریں بہہ رہی ہوں اور ہر قسم کے پھل موجود ہوں، اس شخص کا بڑھاپا آگیا ہو، اس کے ننھے ننھے سے بچے بھی ہوں اور اچانک باغ کو بگوﻻ لگ جائے جس میں آگ بھی ہو، پس وه باغ جل جائے، اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لئے آیتیں بیان کرتا ہے تاکہ تم غوروفکر کرو

محمد حسین نجفی

تم میں سے کوئی بھی یہ بات پسند کرے گا کہ اس کے پاس کھجوروں، انگوروں کا ہرا بھرا گھنا باغ ہو جس کے نیچے نہریں جاری ہوں اور اس کے لئے اس میں ہر قسم کے پھل اور میوے موجود ہوں اور اسے بڑھاپا گھیر لے۔ جبکہ اس کی (چھوٹی چھوٹی) کمزور و ناتواں اولاد ہو اور اچانک اس (باغ) کو ایک ایسا بگولہ اپنی لپیٹ میں لے لے جس میں آگ ہو جس سے وہ باغ جل کر رہ جائے۔ اس طرح خدا تمہارے لئے اپنے احکام کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم غور و فکر کرو۔

علامہ جوادی

کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے پاس کھجور اور انگور کے باغ ہوں. ان کے نیچے نہریں جاری ہوں ان میں ہر طرح کے پھل ہوں--- اور آدمی بوڑھاہوجائے . اس کے کمزور بچے ہوں اور پھراچانک تیز گرم ہوا جس میں آگ بھری ہو چل جائے اور سب جل کر خاک ہوجائے . خداا سی طرح اپنی آیات کو واضح کرکے بیان کرتا ہے کہ شاید تم فکر کرسکو

طاہر القادری

کیا تم میں سے کوئی شخص یہ پسند کرے گا کہ اس کے پاس کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ ہو جس کے نیچے نہریں بہتی ہوں اس کے لئے اس میں (کھجوروں اور انگوروں کے علاوہ بھی) ہر قسم کے پھل ہوں اور (ایسے وقت میں) اسے بڑھاپا آپہنچے اور (ابھی) اس کی اولاد بھی ناتواں ہو اور (ایسے وقت میں) اس باغ پر ایک بگولا آجائے جس میں (نِری) آگ ہو اور وہ باغ جل جائے (تو اس کی محرومی اور پریشانی کا عالم کیا ہو گا)، اسی طرح اﷲ تمہارے لئے نشانیاں واضح طور پر بیان فرماتا ہے تاکہ تم غور کرو (سو کیا تم چاہتے ہو کہ آخرت میں تمہارے اعمال کا باغ بھی ریاکاری کی آگ میں جل کر بھسم ہو جائے اور تمہیں سنبھالا دینے والا بھی کوئی نہ ہو)،

تفسير ابن كثير

کفر اور بڑھاپا
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ امیرالمومنین حضرت عمر بن خطاب نے ایک دن صحابہ سے پوچھا جانتے ہو کہ یہ آیت کس کے بارے میں نازل ہوئی ؟ انہوں نے کہا اللہ زیادہ جاننے والا، آپ نے ناراض ہو کر فرمایا تم جانتے ہو یا نہیں ؟ اس کا صاف جواب دو ، حضرت ابن عباس نے فرمایا امیرالمومنین میرے دل میں ایک بات ہے آپ نے فرمایا بھتیجے کہو اور اپنے نفس کو اتنا حقیر نہ کرو، فرمایا ایک عمل کی مثال دی گئی ہے، پوچھا کون سا عمل ؟ کہا ایک مالدار شخص جو اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کے کام کرتا ہے پھر شیطان اسے بہکاتا ہے اور وہ گناہوں میں مشغول ہوجاتا ہے اور اپنے نیک اعمال کو کھو دیتا ہے، پس یہ روایت اس آیت کی پوری تفسیر ہے اس میں بیان ہو رہا ہے کہ ایک شخص نے ابتداء اچھے عمل کئے پھر اس کے بعد اس کی حالت بدل گئی اور برائیوں میں پھنس گیا اور پہلے کی نیکیوں کا ذخیرہ برباد کردیا، اور آخری وقت جبکہ نیکیوں کی بہت زیادہ ضرورت تھی یہ خیال ہاتھ رہ گیا، جس طرح ایک شخص ہے جس نے باغ لگایا پھل اتارتا ہو، لیکن جب بڑھاپے کے زمانہ کو پہنچا چھوٹے بچے بھی ہیں آپ کسی کام کاج کے قابل بھی نہیں رہا، اب مدار زندگی صرف وہ ایک باغ ہے اتفاقاً آندھی چلی پھر برائیوں پر اتر آیا اور خاتمہ اچھا نہ ہوا تو جب ان نیکیوں کے بدلے کا وقت آیا تو خالی ہاتھ رہ گیا، کافر شخص بھی جب اللہ کے ہاں جاتا ہے تو وہاں تو کچھ کرنے کی طاقت نہیں جس طرح اس بڈھے کو، اور جو کیا ہے وہ کفر کی آگ والی آندھی نے برباد کردیا، اب پیچھے سے بھی کوئی اسے فائدہ نہیں پہنچا سکتا جس طرح اس بڈھے کی کم سن اولاد اسے کوئی کام نہیں دے سکتی، مستدرک حاکم میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک دعا یہ بھی تھی ( اللھم اجعل اوسع رزقک علی عند کبر سنی و انقضاء عمری) اے اللہ اپنی روزی کو سب سے زیادہ مجھے اس وقت عنایت فرما جب میری عمر بڑی ہوجائے اور ختم ہونے کو آئے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے سامنے یہ مثالیں بیان فرما دیں، تم بھی غور و فکر تدبر و تفکر کرو، سوچو سمجھو اور عبرت و نصیحت حاصل کرو جیسے فرمایا (آیت وتلک الامثال نضربھا للناس وما یعقلھا الا العالمون) ان مثالوں کو ہم نے لوگوں کیلئے بیان فرما دیا۔ انہیں علماء ہی خوب سمجھ سکتے ہیں۔