Skip to main content

اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً ۖ وَّاَنَاۡ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْنِ

إِنَّ
یقینا
هَٰذِهِۦٓ
یہ
أُمَّتُكُمْ
امت ہے تمہاری
أُمَّةً
امت
وَٰحِدَةً
ایک ہی
وَأَنَا۠
اور میں
رَبُّكُمْ
تمہارا رب ہوں
فَٱعْبُدُونِ
پس عبادت کرو میری

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

یہ تمہاری امّت حقیقت میں ایک ہی امّت ہے اور میں تمہارا رب ہوں، پس تم میری عبادت کرو

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

یہ تمہاری امّت حقیقت میں ایک ہی امّت ہے اور میں تمہارا رب ہوں، پس تم میری عبادت کرو

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

بیشک تمہارا یہ دین ایک ہی دین ہے اور میں تمہارا رب ہوں تو میری عبادت کرو،

احمد علی Ahmed Ali

یہ لوگ تمہارے گروہ کے ہیں جو ایک ہی گروہ ہے اور میں تمہارا رب ہوں پھر میری ہی عبادت کرو

أحسن البيان Ahsanul Bayan

یہ تمہاری امت ہے جو حقیقت میں ایک ہی امت ہے (١) اور میں تم سب کا پروردگار ہوں پس تم میری ہی عبادت کرو۔

٩٢۔١ امۃ سے مراد یہاں دین یا ملت یعنی تمہارا دین یا ملت ایک ہی ہے اور وہ دین ہے دین توحید، جس کی دعوت تمام انبیاء نے دی اور ملت، ملت اسلام ہے جو تمام انبیاء کی ملت رہی۔ جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' ہم انبیاء کی جماعت اولاد علات ہیں، (جن کا باپ ایک اور مائیں مختلف ہوں) ہمارا دین ایک ہی ہے ' (ابن کثیر)

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

یہ تمہاری جماعت ایک ہی جماعت ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں تو میری ہی عبادت کیا کرو

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

یہ تمہاری امت ہے جو حقیقت میں ایک ہی امت ہے، اور میں تم سب کا پروردگار ہوں پس تم میری ہی عبادت کرو

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

(اے ایمان والو) یہ تمہاری (ملت) ہے جو درحقیقت ملت واحدہ ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں۔ بس تم میری ہی عبادت کرو۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

بیشک یہ تمہارا دین ایک ہی دین اسلام ہے اور میں تم سب کا پروردگار ہوں لہذا میری ہی عبادت کیا کرو

طاہر القادری Tahir ul Qadri

بیشک یہ تمہاری ملت ہے (سب) ایک ہی ملت ہے اور میں تمہارا رب ہوں پس تم میری (ہی) عبادت کیا کرو،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

تمام شریعتوں کی روح توحید
فرمان ہے کہ تم سب کا دین ایک ہی ہے۔ اوامر ونواہی کے احکام تم سب میں یکساں ہیں۔ ہذہ اسم ہے ان کا اور امتکم خبر ہے اور امتہ واحدۃ حال ہے۔ یعنی یہ شریعت جو بیان ہوئی تم سب کی متفق علیہ شریعت ہے۔ جس کا اصلی مقصود توحید الٰہی ہے جیسے آیت ( يٰٓاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا ۭ اِنِّىْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ 51۝ۭ ) 23 ۔ المؤمنون ;51) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں ہم انبیاء کی جماعت اگرچہ احکامات شرع مختلف ہیں جیسے فرمان قرآن ہے آیت (لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّمِنْهَاجًا 48؀ۙ ) 5 ۔ المآئدہ ;48) ہر ایک کی راہ اور طریقہ ہے۔ پھر لوگوں نے اختلاف کیا بعض اپنوں نبیوں پر ایمان لائے اور بعض نہ لائے۔ قیامت کے دن سب کا لوٹنا ہماری طرف ہے ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا نیکوں کو نیک بدلہ اور بروں کو بری سزا۔ جس کے دل میں ایمان ہو اور جس کے اعمال نیک ہوں اس کے اعمال اکارت نہ ہوں گے۔ جیسے فرمان ہے آیت ( اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِيْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًا 30؀ۚ ) 18 ۔ الكهف ;30) نیک کام کرنے والوں کا اجر ہم ضا ئع نہیں کرتے۔ ایسے اعمال کی قدردانی کرتے ہیں ایک ذرے کے برابر ہم ظلم روا نہیں رکھتے تمام اعمال لکھ لیتے ہیں کوئی چیز چھوڑتے نہیں۔