Skip to main content

اِنَّ الَّذِيْنَ هُمْ مِّنْ خَشْيَةِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۙ

إِنَّ
بیشک
ٱلَّذِينَ
وہ لوگ
هُم
وہ
مِّنْ
سے
خَشْيَةِ
(ڈر) ہیبت سے
رَبِّهِم
اپنے رب کی
مُّشْفِقُونَ
ڈرنے والے ہیں

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

جو اپنے رب کے خوف سے ڈرے رہتے ہیں

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

جو اپنے رب کے خوف سے ڈرے رہتے ہیں

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

بیشک وہ جو اپنے رب کے ڈر سے سہمے ہوئے ہیں

احمد علی Ahmed Ali

بے شک جو اپنے رب کی ہیبت سے ڈرنے والے ہیں

أحسن البيان Ahsanul Bayan

یقیناً جو لوگ اپنے رب کی ہیبت سے ڈرتے ہیں۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

جو اپنے پروردگار کے خوف سے ڈرتے ہیں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

یقیناً جو لوگ اپنے رب کی ہیبت سے ڈرتے ہیں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

بےشک جو لوگ اپنے پروردگار کی ہیبت سے ڈرتے ہیں۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

بیشک جو لوگ خوف پروردگار سے لرزاں رہتے ہیں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

بیشک جو لوگ اپنے رب کی خشیّت سے مضطرب اور لرزاں رہتے ہیں،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

مؤمن کی تعریف
فرمان ہے کہ احسان اور ایمان کے ساتھ ہی ساتھ نیک اعمال اور پھر اللہ کی ہیبت سے تھرتھرانا اور کانپتے رہنا یہ ان کی صفت ہے۔ یہ ان کی صفت ہے حسن (رح) فرماتے ہیں کہ مومن نیکی اور خوف الٰہی کا مجموعہ ہوتا ہے۔ منافق برائی کے ساتھ نڈر اور بےخوف ہوتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی شرعی اور فطری آیات اور نشانیوں پر یقین رکھتے ہیں جیسے حضرت مریم (علیہا السلام) کا وصف بیان ہوا ہے کہ وہ اپنے رب کے کلمات اور اس کی کتابوں کا یقین رکھتی تھیں اللہ کی قدرت قضا اور شرع کا انہیں کامل یقین تھا۔ اللہ کے ہر امر کو وہ محبوب رکھتے ہیں اللہ کے منع کردہ ہر کام کو وہ ناپسند رکھتے ہیں، ہر خبر کو وہ سچ مانتے ہیں وہ موحد ہوتے ہیں شرک سے بیزار رہتے ہیں، اللہ کو واحد اور بےنیاز جانتے ہیں اسے بےاولاد اور بیوی کے بغیر مانتے ہیں، بینظیر اور بےکفو سمجھتے ہیں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے اللہ کے نام پر خیراتیں کرتے ہیں لیکن خوف زدہ رہتے ہیں کہ ایسا نہ ہو قبول نہ ہوئی ہو۔ حضرت عائشہ (رض) نے حضور اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا کہ کیا یہ وہ لوگ ہیں جن سے زنا، چوری، اور شراب خواری ہوجاتی ہے ؟ لیکن ان کے دل میں خوف الٰہی ہوتا ہے ؟ آپ نے فرمایا اے صدیق کی لڑکی یہ نہیں بلکہ یہ وہ ہیں جو نمازیں پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں، صدقے کرتے ہیں، لیکن قبول نہ ہونے سے ڈرتے ہیں، یہی ہیں جو نیکیوں میں سبقت کرتے ہیں (ترمذی) اس آیت کی دوسری قرأت یاتون ما اتوا بھی ہے یعنی کرتے ہیں جو کرتے ہیں لیکن دل ان کے ڈرتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت عائشہ (رض) کے پاس ابو عاصم گئے۔ آپ نے مرحبا کہا اور کہا برابر آتے کیوں نہیں ہو ؟ جواب دیا اس لئے کہ کہیں آپ کو تکلیف نہ ہو لیکن آج میں ایک آیت کے الفاظ کی تحقیق کے لئے حاضر ہوا ہوں آیت ( وَالَّذِيْنَ يُؤْتُوْنَ مَآ اٰتَوْا وَّقُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَ 60؀ۙ ) 23 ۔ المؤمنون ;60) ہیں ؟ آپ نے فرمایا کیا ہونا تمہارے لئے مناسب ہے میں نے کہا آخر کے الفاظ اگر ہوں تو گویا میں نے ساری دنیا پالی۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ خوشی مجھے ہوگی آپ نے فرمایا پھر تم خوش ہوجاؤ۔ واللہ میں نے اسی طرح انہی الفاظ کو پڑھتے ہوئے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سنا ہے۔ اس کا ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ضعیف ہے۔ ساتوں مشہور قرأتوں اور جمہور کی قرأت میں وہی ہے جو موجودہ قرآن میں ہے اور معنی کی رو سے بھی زیادہ ظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کیونکہ انہیں سابق قرار دیا ہے اور اگر دوسری قرأت کو لیں تو یہ سابق نہیں بلکہ ہیں واللہ اعلم۔