Skip to main content

الَّذِىْ خَلَقَنِىْ فَهُوَ يَهْدِيْنِۙ

ٱلَّذِى
وہ ذات
خَلَقَنِى
جس نے پیدا کیا
فَهُوَ
پس وہ
يَهْدِينِ
ہدایت دیتا ہے مجھ کو

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

جس نے مجھے پیدا کیا، پھر وہی میری رہنمائی فرماتا ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

جس نے مجھے پیدا کیا، پھر وہی میری رہنمائی فرماتا ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

وہ جس نے مجھے پیدا کیا تو وہ مجھے راہ دے گا

احمد علی Ahmed Ali

جس نے مجھے پیدا کیا پھر وہی مجھے راہ دکھاتا ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی میری رہبری فرماتا ہے (١)

٧٨۔١ یعنی دین اور دنیا کے مصالح اور منافع کی طرف۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی مجھے رستہ دکھاتا ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی میری رہبری فرماتا ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ پھر وہی میری راہنمائی کرتا ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

کہ جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور پھر وہی ہدایت بھی دیتا ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

وہ جس نے مجھے پیدا کیا سو وہی مجھے ہدایت فرماتا ہے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

خلیل اللہ کی تعریف
حضرت خلیل اللہ (علیہ السلام) اپنے رب کی صفتیں بیان فرماتے ہیں کہ میں تو ان اوصاف والے رب کا ہی عابد ہوں۔ اس کے سوا اور کسی کی عبادت نہیں کرونگا۔ پہلا وصف یہ کہ وہ میرا خالق ہے اسی نے اندازہ مقرر کیا ہے اور وہی مخلوقات کی اس کی طرف رہبری کرتا ہے۔ دوسرا وصف یہ کہ وہ ہادی حقیقی ہے جسے چاہتا ہے اپنی راہ مستقیم پر چلاتا ہے جسے چاہتا ہے اسے غلط راہ پر لگا دیتا ہے۔ تیسر وصف میرے رب کا یہ ہے کہ وہ رازق ہے آسمان و زمین کے تمام اسباب اسی نے مہیا کئے ہیں۔ بادلوں کا اٹھانا پھیلانا ان سے بارش کا برسانا اس سے زمین کو زندہ کرنا پھر پیداوار اگانا اسی کا کام ہے۔ وہی میٹھا اور پیاس بجھانے والا پانی ہمیں دیتا ہے اور اپنی مخلوق کو بھی غرض کھلانے پلانے والا ہی ہے۔ ساتھ ہی بیمار تندرستی بھی اسی کے ہاتھ ہے لیکن خلیل اللہ (علیہ السلام) کا کمال ادب دیکھئے کہ بیماری کی نسبت تو اپنی طرف کی اور شفا کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہے۔ گو بیماری بھی اس قضا وقدر ہے اور اسی کی بنائی ہوئی چیز ہے۔ یہی لطافت سورة فاتحہ کی دعا میں بھی ہے کہ انعام و ہدایت کی اسناد تو اللہ عالم کی طرف کی ہے اور غضب کے فاعل کو حزف کردیا ہے اور ضلالت بندے کی طرف منسوب کردی ہے۔ سورة جن میں جنات کا قول بھی ملاحظہ ہو جہاں انہوں نے کہا ہے کہ ہمیں نہیں معلوم کہ زمین والی مخلوق کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے ساتھ ان کے رب نے بھلائی کا ارادہ کیا ہے ؟ یہاں بھی بھلائی کی نسبت رب کی طرف کی گئی اور برائی کے ارادے میں نسبت ظاہر نہیں کی گئی۔ اسی طرح کی آیت ہے کہ جب میں بیمار پڑتا ہوں تو میری شفا پر بجز اس اللہ کے اور کوئی قادر نہیں۔ دوا میں تاثیر پیدا کرنا بھی اسی کے بس کی چیز ہے۔ موت وحیات پر قادر بھی وہی ہے۔ ابتدا اسی کے ساتھ ہے اسی نے پہلی پیدائش کی ہے۔ وہی دوبارہ لوٹائے گا۔ دنیا اور آخرت میں گناہوں کی بخشش پر بھی وہی قادر ہے وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، غفور ورحیم وہی ہے۔