Skip to main content

وَدَخَلَ الْمَدِيْنَةَ عَلٰى حِيْنِ غَفْلَةٍ مِّنْ اَهْلِهَا فَوَجَدَ فِيْهَا رَجُلَيْنِ يَقْتَتِلٰنِ ۖ هٰذَا مِنْ شِيْعَتِهٖ وَهٰذَا مِنْ عَدُوِّهٖۚ فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِىْ مِنْ شِيْعَتِهٖ عَلَى الَّذِىْ مِنْ عَدُوِّهٖۙ فَوَكَزَهٗ مُوْسٰى فَقَضٰى عَلَيْهِ ۖ قَالَ هٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ ۗ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيْنٌ

وَدَخَلَ
اور داخل ہوا
ٱلْمَدِينَةَ
شہر میں
عَلَىٰ
میں
حِينِ
وقت میں
غَفْلَةٍ
غفلت (کے وقت میں)
مِّنْ
کے
أَهْلِهَا
اس کے رہنے والوں کی
فَوَجَدَ
تو اس نے پایا
فِيهَا
اس میں
رَجُلَيْنِ
دو لوگوں کو/ دو مردوں کو
يَقْتَتِلَانِ
وہ دونوں لڑ رہے تھے
هَٰذَا
یہ
مِن
سے
شِيعَتِهِۦ
اس کے گروہ میں سے تھا
وَهَٰذَا
اور یہ
مِنْ
سے
عَدُوِّهِۦۖ
جو اس کے دشمنوں میں (سے) تھا
فَٱسْتَغَٰثَهُ
پس مدد طلب کی اس سے
ٱلَّذِى
اس نے
مِن
جو
شِيعَتِهِۦ
اس کے اپنے گروہ میں سے تھا
عَلَى
پر
ٱلَّذِى
اس کے خلاف سے جو
مِنْ
سے
عَدُوِّهِۦ
اس کے دشمنوں میں (سے) تھا
فَوَكَزَهُۥ
تو گھونسہ مارا اس کو
مُوسَىٰ
موسیٰ نے
فَقَضَىٰ
تو پوری کردی
عَلَيْهِۖ
اس پر (زندگی)
قَالَ
بولا
هَٰذَا
یہ
مِنْ
سے
عَمَلِ
کام میں (سے) ہے
ٱلشَّيْطَٰنِۖ
شیطان کے
إِنَّهُۥ
یقیناً وہ
عَدُوٌّ
دشمن ہے
مُّضِلٌّ
گمراہ کرنے والا
مُّبِينٌ
کھلم کھلا

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

(ایک روز) وہ شہر میں ایسے وقت میں داخل ہوا جبکہ اہلِ شہر غفلت میں تھے وہاں اس نے دیکھا کہ دو آدمی لڑ رہے ہیں ایک اس کی اپنی قوم کا تھا اور دُوسرا اس کی دشمن قوم سے تعلق رکھتا تھا اس کی قوم کے آدمی نے دشمن قوم والے کے خلاف اسے مدد کے لیے پکارا موسیٰؑ نے اس کو ایک گھونسا مارا اور اس کا کام تمام کر دیا (یہ حرکت سرزد ہوتے ہی) موسیٰؑ نے کہا "یہ شیطان کی کارفرمائی ہے، وہ سخت دشمن اور کھلا گمراہ کن ہے"

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

(ایک روز) وہ شہر میں ایسے وقت میں داخل ہوا جبکہ اہلِ شہر غفلت میں تھے وہاں اس نے دیکھا کہ دو آدمی لڑ رہے ہیں ایک اس کی اپنی قوم کا تھا اور دُوسرا اس کی دشمن قوم سے تعلق رکھتا تھا اس کی قوم کے آدمی نے دشمن قوم والے کے خلاف اسے مدد کے لیے پکارا موسیٰؑ نے اس کو ایک گھونسا مارا اور اس کا کام تمام کر دیا (یہ حرکت سرزد ہوتے ہی) موسیٰؑ نے کہا "یہ شیطان کی کارفرمائی ہے، وہ سخت دشمن اور کھلا گمراہ کن ہے"

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور اس شہر میں داخل ہوا جس وقت شہر والے دوپہر کے خواب میں بے خبر تھے تو اس میں دو مرد لڑتے پائے، ایک موسیٰ، کے گروہ سے تھا اور دوسرا اس کے دشمنوں سے تو وہ جو اس کے گروہ سے تھا اس نے موسیٰ سے مدد مانگی، اس پر جو اس کے دشمنوں سے تھا، تو موسیٰ نے اس کے گھونسا مارا تو اس کا کام تما م کردیا کہا یہ کام شیطان کی طرف سے ہوا بیشک وہ دشمن ہے کھلا گمراہ کرنے والا،

احمد علی Ahmed Ali

اور شہر میں لوگوں کی بے خبری کے وقت داخل ہوا پھر وہاں دو شخصوں کو لڑتے ہوئے پایا یہ ایک اس کی جماعت کا تھااوریہ دوسرا اس کے دشمنوں میں سے تھا پھر اس نے جو اس کی جماعت کا تھا اپنے دشمن پر اس سے مدد چاہی تب موسیٰ نے اس پر مکا مارا پس اس کا کام تمام کر دیا کہا یہ تو شیطانی حرکت ہے بے شک وہ کھلا دشمن اور گمراہ کرنے والا ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور موسیٰ (علیہ السلام) ایک ایسے وقت شہر میں آئے جبکہ شہر کے لوگ غفلت میں تھے (١) یہاں دو شخصوں کو لڑتے ہوئے پایا، یہ ایک تو اس کے رفیق میں سے تھا اور دوسرا اس کے دشمنوں میں سے (٢) اس کی قوم والے نے اس کے خلاف جو اس کے دشمنوں میں سے تھا اس سے فریاد کی، جس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کے مکا مارا جس سے وہ مر گیا موسیٰ (علیہ السلام) کہنے لگے یہ تو شیطانی کام ہے (٣) یقیناً شیطان دشمن اور کھلے طور پر بہکانے والا ہے (٤)۔

١٥۔١ اس سے بعض نے مغرب اور عشاء کے درمیان کا وقت اور بعض نے نصف النہار مراد لیا۔ جبکہ لوگ آرام کر رہے ہوتے ہیں۔
١٥۔٢ یعنی فرعون کی قوم قبط میں سے تھا۔
١٥۔٣ اسے شیطانی فعل اس لئے قرار دیا کہ قتل ایک نہایت سنگین جرم ہے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مقصد اسے ہرگز قتل کرنا نہیں تھا۔
١٥۔٤ جس کی انسان سے دشمنی بھی واضح ہے اور انسان کو گمراہ کرنے کے لئے وہ جو جو جتن کرتا ہے وہ بھی مخفی نہیں۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے بےخبر ہو رہے تھے تو دیکھا کہ وہاں دو شخص لڑ رہے تھے ایک تو موسٰی کی قوم کا ہے اور دوسرا اُن کے دشمنوں میں سے تو جو شخص اُن کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو موسٰی کے دشمنوں میں سے تھا مدد طلب کی تو اُنہوں نے اس کو مکا مارا اور اس کا کام تمام کر دیا کہنے لگے کہ یہ کام تو (اغوائے) شیطان سے ہوا بیشک وہ (انسان کا) دشمن اور صریح بہکانے والا ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور موسیٰ (علیہ السلام) ایک ایسے وقت شہر میں آئے جبکہ شہر کے لوگ غفلت میں تھے۔ یہاں دو شخصوں کو لڑتے ہوئے پایا، یہ ایک تو اس کے رفیقوں میں سے تھا اور یہ دوسرا اس کے دشمنوں میں سے، اس کی قوم والے نے اس کے خلاف جو اس کے دشمنوں میں سے تھا اس سے فریاد کی، جس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو مکا مارا جس سے وه مر گیا موسیٰ (علیہ السلام) کہنے لگے یہ تو شیطانی کام ہے، یقیناً شیطان دشمن اور کھلے طور پر بہکانے واﻻ ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

وہ (جوان) ایسے وقت شہر میں داخل ہوا جب کہ اس شہر کے باشندے بے خبر تھے۔ تو اس نے وہاں دو آدمیوں کو آپس میں لڑتے ہوئے پایا۔ یہ ایک ان کے گروہ میں سے تھا۔ اور یہ دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا پس جو اس کے گروہ میں سے تھا اس نے (موسیٰ) کو اس کے خلاف جو اس کے دشمنوں میں سے تھا مدد کیلئے پکارا تو موسیٰ نے اسے ایک مکا مارا۔ بس اس کا کام تمام کر دیا اور کہا یہ (ان کی لڑائی) شیطان کی کاروائی تھی۔ بےشک وہ کھلا ہوا گمراہ کرنے والا دشمن ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور موسٰی شہر میں اس وقت داخل ہوئے جب لوگ غفلت کی نیند میں تھے تو انہوں نے دو آدمیوں کو لڑتے ہوئے دیکھا ایک ان کے شیعوں میں سے تھا اور ایک دشمنوں میں سے تو جو ان کے شیعوں میں سے تھا اس نے دشمن کے ظلم کی فریاد کی تو موسٰی نے اسے ایک گھونسہ مار کر اس کی زندگی کا فیصلہ کردیا اور کہا کہ یہ یقینا شیطان کے عمل سے تھا اور یقینا شیطان دشمن اور کھنَا ہوا گمراہ کرنے والا ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور موسٰی (علیہ السلام) شہرِ (مصر) میں داخل ہوئے اس حال میں کہ شہر کے باشندے (نیند میں) غافل پڑے تھے، تو انہوں نے اس میں دو مَردوں کو باہم لڑتے ہوئے پایا یہ (ایک) تو ان کے (اپنے) گروہ (بنی اسرائیل) میں سے تھا اور یہ (دوسرا) ان کے دشمنوں (قومِ فرعون) میں سے تھا، پس اس شخص نے جو انہی کے گروہ میں سے تھا آپ سے اس شخص کے خلاف مدد طلب کی جو آپ کے دشمنوں میں سے تھا پس موسٰی (علیہ السلام) نے اسے مکّا مارا تو اس کا کام تمام کردیا، (پھر) فرمانے لگے: یہ شیطان کا کام ہے (جو مجھ سے سرزَد ہوا ہے)، بیشک وہ صریح بہکانے والا دشمن ہے،