Skip to main content

وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِىْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍۗ وَلَٮِٕنْ جِئْتَهُمْ بِاٰيَةٍ لَّيَقُوْلَنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُبْطِلُوْنَ

وَلَقَدْ
اور البتہ تحقیق
ضَرَبْنَا
بیان کیا ہم نے
لِلنَّاسِ
لوگوں کے لیے
فِى
میں
هَٰذَا
اس
ٱلْقُرْءَانِ
قرآن
مِن
کو
كُلِّ
ہر طرح کی
مَثَلٍۚ
مثال
وَلَئِن
اور البتہ اگر
جِئْتَهُم
لاؤ تم ان کے پاس
بِـَٔايَةٍ
کوئی نشانی
لَّيَقُولَنَّ
البتہ ضرور کہیں گے
ٱلَّذِينَ
وہ لوگ
كَفَرُوٓا۟
جنہوں نے کفر کیا
إِنْ
نہیں
أَنتُمْ
تم
إِلَّا
مگر
مُبْطِلُونَ
باطل پرست۔ باطل پر

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

ہم نے اِس قرآن میں لوگوں کو طرح طرح سے سمجھایا ہے تم خواہ کوئی نشانی لے آؤ، جن لوگوں نے ماننے سے انکار کر دیا ہے وہ یہی کہیں گے کہ تم باطل پر ہو

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

ہم نے اِس قرآن میں لوگوں کو طرح طرح سے سمجھایا ہے تم خواہ کوئی نشانی لے آؤ، جن لوگوں نے ماننے سے انکار کر دیا ہے وہ یہی کہیں گے کہ تم باطل پر ہو

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور بیشک ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی مثال بیان فرمائی اور اگر تم ان کے پاس کوئی نشانی لاؤ تو ضرور کافر کہیں گے تم تو نہیں مگر باطل پر،

احمد علی Ahmed Ali

اور ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر طرح کی مثال بیان کر دی ہے اور اگر تم ان کے سامنے کوئی نشانی پیش کرو تو کافر یہ کہہ دیں گے کہ تم تو جھوٹے ہو

أحسن البيان Ahsanul Bayan

بیشک ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے سامنے کل مثالیں بیان کر دی ہیں (١) آپ ان کے پاس کوئی بھی نشانی لائیں (٢) یہ کافر تو یہی کہیں گے کہ تم (بیہودہ گو) بالکل جھوٹے ہو۔ (۳)

٥٨۔١ جن سے اللہ کی توحید کا اثبات اور رسولوں کی صداقت واضح ہوتی ہے اور اسی طرح شرک کی تردید اور اس کا باطل ہونا نمایاں ہوتا ہے۔
٥٨۔٢ وہ قرآن کریم کی پیش کردہ کوئی دلیل ہو یا ان کی خواہش کے مطابق کوئی معجزہ وغیرہ
٥٨۔۳یعنی جادو وغیرہ کے پیروکار، مطلب یہ ہے کہ بڑی سے بڑی نشانی اور واضح سے واضح دلیل بھی اگر وہ دیکھ لیں، تب بھی ایمان بہرحال نہیں لائیں گے، کیوں؟ اس کی وجہ آگے بیان کر دی گئی ہے کہ اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے جو اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ ان کا کفر و طغیان اس آخری حد کو پہنچ گیا ہے جس کے بعد حق کی طرف واپسی کے تمام راستے ان کے لیے مسدود ہیں۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور ہم نے لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اس قرآن میں ہر طرح کی مثال بیان کر دی ہے اور اگر تم اُن کے سامنے کوئی نشانی پیش کرو تو یہ کافر کہہ دیں گے کہ تم تو جھوٹے ہو

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

بیشک ہم نےاس قرآن میں لوگوں کے سامنے کل مثالیں بیان کر دی ہیں۔ آپ ان کے پاس کوئی بھی نشانی ﻻئیں، یہ کافر تو یہی کہیں گے کہ تم (بے ہوده گو) بالکل جھوٹے ہو

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

بے شک ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے (سمجھانے) کیلئے ہر قسم کی مثال پیش کی ہے اور اگر آپ ان کے پاس کوئی نشانی (معجزہ) لے بھی آئیں تو بھی کافر لوگ یہی کہیں گے کہ تم باطل پر ہو۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور ہم نے اس قرآن میں ہر طرح کی مثال بیان کردی ہے اور اگر آپ ساری نشانیاں لے کر بھی آجائیں تو کافر یہی کہیں گے کہ آپ لوگ صرف اہل ه باطل ہیں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور درحقیقت ہم نے لوگوں (کے سمجھانے) کے لئے اس قرآن میں ہر طرح کی مثال بیان کر دی ہے، اور اگر آپ ان کے پاس کوئی (ظاہری) نشانی لے آئیں تب بھی یہ کافر لوگ ضرور (یہی) کہہ دیں گے کہ آپ محض باطل و فریب کار ہیں،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

نماز میں مقتدی اور امام کا تعلق
حق کو ہم نے اس کلام پاک میں پوری طرح واضح کردیا ہے اور مثالیں دے دے کر سمجھا دیا ہے کہ لوگوں پر حق کھل جائے اور اس کی تابعداری میں لگ جائیں۔ انکے پاس تو کوئی بھی معجزہ آجائے کیساہی نشان حق دیکھ لیں لیکن یہ جھٹ سے بلاغور علی الفور کہیں گے کہ یہ جادو ہے باطل ہے جھوٹ ہے۔ دیکھئے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے۔ خود قرآن کریم کی آیت ( اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ 96 ۝ ۙ ) 10 ۔ یونس ;96) میں ہے کہ جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے گو ان کے پاس تمام نشانیاں آجائیں یہاں تک کہ وہ دردناک عذاب کا معائنہ کرلیں۔ پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ بےعلم لوگوں کے دلوں پر اسی طرح اللہ کی مہر لگ جاتی ہے۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ صبر کیجئے ان کی مخالفت اور دشمنی پر درگزر کئے چلے جائیے۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے وہ ضرور تمہیں ایک دن ان پر غالب کرے گا اور تمہاری امداد فرمائے گا۔ اور دنیا اور آخرت میں تجھے اور تیرے تابعداروں کو مخالفین پر غلبہ دے گا۔ تہیں چاہیے کہ اپنے کام پر لگے رہو حق پر جم جاؤ اس سے ایک انچ ادھر ادھر نہ ہٹو اسی میں ساری ہدایت ہے باقی سب باطل کے ڈھیر ہیں۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) ایک مرتبہ صبح کی نماز میں تھے کہ ایک خارجی نے آپ کا نام لے کر زور سے اس آیت کی تلاوت کی۔ ( وَلَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ 65؀) 39 ۔ الزمر ;65) آپ نے خاموشی سے اس آیت کو سنا سمجھا اور نماز ہی میں اس کے جواب میں آیت ( فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّلَا يَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِيْنَ لَا يُوْقِنُوْنَ 60؀ ) 30 ۔ الروم ;60) تلاوت فرمائی۔ (ابن جریر ابن ابی حاتم) وہ حدیث جس سے اس مبارک سورة کی فضیلت اور اس کی قرأت کا صبح کی نماز میں مستحب ہونا ثابت ہوتا ہے) ایک صحابی عنہ فرماتے ہیں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دن صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے اسی سورت کی قرأت کی۔ اثناء قرأت میں آپ کو وہم ساہو گیا فارغ ہو کر فرمانے لگے تم میں بعض ایسے لوگ بھی ہیں جو ہمارے ساتھ نماز میں شامل ہوتے ہیں لیکن باقاعدہ ٹھیک ٹھاک وضو نہیں کرتے۔ تم میں سے جو بھی ہمارے ساتھ نماز میں شامل ہو اسے اچھی طرح وضو کرنا چائیے ( مسند احمد) اس کی اسناد حسن ہے متن بھی حسن ہے اور اسمیں ایک عجیب بھید ہے اور بہت بڑی خیر ہے اور وہ یہ کہ آپ کے مقتدیوں کے وضو بالکل درست نہ ہونے کا اثر آپ پر بھی پڑا۔ پس ثابت ہوا کہ مقتدیوں کی نماز امام کی نماز کے ساتھ معلق ہے۔