Skip to main content

اَشِحَّةً عَلَيْكُمْ ۖ فَاِذَا جَاۤءَ الْخَوْفُ رَاَيْتَهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ تَدُوْرُ اَعْيُنُهُمْ كَالَّذِىْ يُغْشٰى عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ ۚ فَاِذَا ذَهَبَ الْخَـوْفُ سَلَقُوْكُمْ بِاَ لْسِنَةٍ حِدَادٍ اَشِحَّةً عَلَى الْخَيْـرِ ۗ اُولٰۤٮِٕكَ لَمْ يُؤْمِنُوْا فَاَحْبَطَ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ ۗ وَكَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيْرًا

أَشِحَّةً
بخیلی کرتے ہوئے
عَلَيْكُمْۖ
تم پر
فَإِذَا
پھر جب
جَآءَ
آتا ہے
ٱلْخَوْفُ
خوف
رَأَيْتَهُمْ
تم دیکھتے ہو ان کو
يَنظُرُونَ
وہ نظر کرتے ہیں
إِلَيْكَ
آپ کی طرف
تَدُورُ
گھومتی ہیں
أَعْيُنُهُمْ
آنکھیں ان کی
كَٱلَّذِى
اس شخص کی طرح
يُغْشَىٰ
ڈھانپ لیا جاتا ہے
عَلَيْهِ
اس پر
مِنَ
سے
ٱلْمَوْتِۖ
موت
فَإِذَا
پھر جب
ذَهَبَ
چلا جاتا ہے
ٱلْخَوْفُ
خوف
سَلَقُوكُم
بد زبانی کرتے ہیں تم سے
بِأَلْسِنَةٍ
ساتھ زبانوں کے
حِدَادٍ
تیز
أَشِحَّةً
بخیلی کرنے والے
عَلَى
اوپر
ٱلْخَيْرِۚ
بھلائی کے
أُو۟لَٰٓئِكَ
یہی لوگ
لَمْ
نہیں
يُؤْمِنُوا۟
وہ ایمان لائے تو
فَأَحْبَطَ
ضائع کردیا
ٱللَّهُ
اللہ نے
أَعْمَٰلَهُمْۚ
ان کے اعمال کو
وَكَانَ
اور ہے
ذَٰلِكَ
یہ بات
عَلَى
پر
ٱللَّهِ
اللہ
يَسِيرًا
بہت آسان

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

جو تمہارا ساتھ دینے میں سخت بخیل ہیں خطرے کا وقت آ جائے تو اس طرح دیدے پھرا پھرا کر تمہاری طرف دیکھتے ہیں جیسے کسی مرنے والے پر غشی طاری ہو رہی ہو، مگر جب خطرہ گزر جاتا ہے تو یہی لوگ فائدوں کے حریص بن کر قینچی کی طرح چلتی ہوئی زبانیں لیے تمہارے استقبال کو آ جاتے ہیں یہ لوگ ہرگز ایمان نہیں لائے، اسی لیے اللہ نے ان کے سارے اعمال ضائع کر دیے اور ایسا کرنا اللہ کے لیے بہت آسان ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

جو تمہارا ساتھ دینے میں سخت بخیل ہیں خطرے کا وقت آ جائے تو اس طرح دیدے پھرا پھرا کر تمہاری طرف دیکھتے ہیں جیسے کسی مرنے والے پر غشی طاری ہو رہی ہو، مگر جب خطرہ گزر جاتا ہے تو یہی لوگ فائدوں کے حریص بن کر قینچی کی طرح چلتی ہوئی زبانیں لیے تمہارے استقبال کو آ جاتے ہیں یہ لوگ ہرگز ایمان نہیں لائے، اسی لیے اللہ نے ان کے سارے اعمال ضائع کر دیے اور ایسا کرنا اللہ کے لیے بہت آسان ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

تمہاری مدد میں گئی کرتے (کمی کرتے) ہیں پھر جب ڈر کا وقت آئے تم انہیں دیکھو گے تمہاری طرف یوں نظر کرتے ہیں کہ ان کی آنکھیں گھوم رہی ہیں جیسے کسی پر موت چھائی ہو پھر جب ڈر کا وقت نکل جائے تمہیں طعنے دینے لگیں تیز زبانوں سے مال غنیمت کے لالچ میں یہ لوگ ایمان لائے ہی نہیں تو اللہ نے ان کے عمل اکارت کردیے اور یہ اللہ کو آسان ہے،

احمد علی Ahmed Ali

تم سے ہمدردی کرتے ہوئے پھر جب ڈر کا وقت آجائے تو تُو انھیں دیکھے گا کہ تیری طرف دیکھتے ہیں ان کی آنکھیں پھرتی ہیں جیسے کسی پر موت کی بے ہوشی آئے پھر جب ڈر جاتا رہے تو تمہیں تیز زبانوں سے طعنہ دیتے ہیں مال کے لالچی ہیں یہ لوگ ایمان نہیں لائے تو الله نے ان کے تمام اعمال ضائع کر دیے اور یہ بات الله پر بالکل آسان ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

تمہاری مدد میں (پورے) بخیل ہیں (١) پھر جب خوف و دہشت کا موقعہ آجائے تو آپ انہیں دیکھیں گے کہ آپ کی طرف نظریں جما دیتے ہیں اور ان کی آنکھیں اس طرح گھومتی ہیں جیسے اس شخص کی جس پر موت کی غشی طاری ہو (٢) پھر جب خوف جاتا رہتا ہے تو تم پر اپنی تیز زبانوں سے بڑی باتیں بناتے ہیں مال کے بڑے ہی حریص ہیں (٣) یہ ایمان لائے ہی نہیں (٤) اللہ تعالٰی نے ان کے تمام اعمال نابود کر دئیے اور اللہ تعالٰی پر یہ بہت ہی آسان ہے (٥)۔

١٩۔١ یعنی تمہارے ساتھ خندق کھود کر تم سے تعاون کرنے میں یا اللہ کی راہ میں خرچ کرنے میں یا تمہارے ساتھ مل کر لڑنے میں بخیل ہیں۔
١٩۔٢ یہ ان کی بزدلی اور پست ہمتی کی کیفیت کا بیان ہے۔
١٩۔۳یعنی اپنی شجاعت ومردانگی کی ڈینگیں مارتے ہیں، جو سراسر جھوٹ پر مبنی ہوتی ہیں، یاغنیمت کی تقسیم کے وقت اپنی زبان کی تیزی وطراری سے لوگوں کو مثاثر کرکے زیادہ سے زیادہ مال حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، غنیمت کی تقسیم کے وقت یہ سب سے زیادہ بخیل اور سب سے زیادہ بڑا حصہ لینے والے اور لڑائی کے وقت سب سے زیادہ بزدل اور ساتھیوں کو بےیارو مددگار چھوڑنے والے ہیں۔
١٩۔۳ یا دوسرا مفہوم ہے کہ خیر کا جذبہ بھی ان کے اندر نہیں ہے۔ یعنی مذکورہ خرابیوں اور کوتاہیوں کے ساتھ خیر اور بھلائی سے بھی وہ محروم ہیں۔
١٩۔٤ یعنی دل سے بلکہ یہ منافق ہیں، کیونکہ ان کے دل کفر و عناد سے بھرے ہوئے ہیں۔
١٩۔۵ ان کے اعمال کا برباد کر دینا، یا ان کا نفاق۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

(یہ اس لئے کہ) تمہارے بارے میں بخل کرتے ہیں۔ پھر جب ڈر (کا وقت) آئے تو تم ان کو دیکھو کہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں (اور) اُن کی آنکھیں (اسی طرح) پھر رہی ہیں جیسے کسی کو موت سے غشی آرہی ہو۔ پھر جب خوف جاتا رہے تو تیز زبانوں کے ساتھ تمہارے بارے میں زبان درازی کریں اور مال میں بخل کریں۔ یہ لوگ (حقیقت میں) ایمان لائے ہی نہ تھے تو خدا نے ان کے اعمال برباد کر دیئے۔ اور یہ خدا کو آسان تھا

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

تمہاری مدد میں (پورے) بخیل ہیں، پھر جب خوف ودہشت کا موقعہ آجائے تو آپ انہیں دیکھیں گے کہ آپ کی طرف نظریں جما دیتے ہیں اور ان کی انکھیں اس طرح گھومتی ہیں جیسے اس شخص کی جس پر موت کی غشی طاری ہو۔ پھر جب خوف جاتا رہتا ہے تو تم پر اپنی تیز زبانوں سے بڑی باتیں بناتے ہیں مال کے بڑے ہی حریص ہیں، یہ ایمان ﻻئے ہی نہیں ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے تمام اعمال نابود کر دیئے ہیں، اور اللہ تعالیٰ پر یہ بہت ہی آسان ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

وہ تمہارے معاملہ میں سخت بخیل ہیں اور جب خوف (کا وقت) آجائے تو آپ انہیں دیکھیں گے کہ وہ آپ کی طرف اس طرح دیکھتے ہیں کہ ان کی آنکھیں اس شخص کی طرح گھوم رہی ہیں جس پر موت کی غشی طاری ہو پھر جب خوف جاتا رہے تو یہ لوگ (اپنی) تیز زبانوں سے طعنہ دیتے ہیں یہ مال (غنیمت) کے بڑے حریص ہیں (دراصل) یہ لوگ ایمان لائے ہی نہیں چنانچہ اللہ نے ان کے اعمال اکارت کر دیئے ہیں اور ایسا کرنا اللہ کیلئے بالکل آسان ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

یہ تم سے جان چراتے ہیں اور جب خوف سامنے آجائے گا تو آپ دیکھیں گے کہ آپ کی طرف اس طرح دیکھیں گے کہ جیسے ان کی آنکھیں یوں پھر رہی ہیں جیسے موت کی غشی طاری ہو اور جب خوف چلا جائے گا تو آپ پر تیز تر زبانوں کے ساتھ حملہ کریں گے اور انہیں مال غنیمت کی حرص ہوگی یہ لوگ شروع ہی سے ایمان نہیں لائے ہیں لہٰذا خدا نے ان کے اعمال کو برباد کردیا ہے اور خدا کے لئے یہ کام بڑا آسان ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

تمہارے حق میں بخیل ہو کر (ایسا کرتے ہیں)، پھر جب خوف (کی حالت) پیش آجائے تو آپ دیکھیں گے کہ وہ آپ کی طرف تکتے ہوں گے (اور) ان کی آنکھیں اس شخص کی طرح گھومتی ہوں گی جس پر موت کی غشی طاری ہو رہی ہو، پھر جب خوف جاتا رہے تو تمہیں تیز زبانوں کے ساتھ طعنے دیں گے (آزردہ کریں گے، ان کا حال یہ ہے کہ) مالِ غنیمت پر بڑے حریص ہیں۔ یہ لوگ (حقیقت میں) ایمان ہی نہیں لائے، سو اﷲ نے ان کے اعمال ضبط کر لئے ہیں اور یہ اﷲ پر آسان تھا،