Skip to main content

يٰۤـاَيُّهَا النَّبِىُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا وَزِيْنَتَهَا فَتَعَالَيْنَ اُمَتِّعْكُنَّ وَاُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيْلًا

يَٰٓأَيُّهَا
اے
ٱلنَّبِىُّ
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
قُل
کہہ دیجیے
لِّأَزْوَٰجِكَ
اپنی بیویوں سے
إِن
اگر
كُنتُنَّ
ہو تم
تُرِدْنَ
تم چاہتیں
ٱلْحَيَوٰةَ
زندگی
ٱلدُّنْيَا
دنیا کی
وَزِينَتَهَا
اور اس کی زینت
فَتَعَالَيْنَ
تو آؤ
أُمَتِّعْكُنَّ
میں فائدہ دوں تم کو
وَأُسَرِّحْكُنَّ
اور میں رخصت کردوں تم کو
سَرَاحًا
رخصت کرنا
جَمِيلًا
اچھے طریقے سے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اے نبیؐ، اپنی بیویوں سے کہو، اگر تم دنیا اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ، میں تمہیں کچھ دے دلا کر بھلے طریقے سے رخصت کر دوں

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اے نبیؐ، اپنی بیویوں سے کہو، اگر تم دنیا اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ، میں تمہیں کچھ دے دلا کر بھلے طریقے سے رخصت کر دوں

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اے غیب بتانے والے (نبی)! اپنی بیبیوں سے فرمادے اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی آرائش چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں مال دُوں اور اچھی طرح چھوڑ دُوں

احمد علی Ahmed Ali

اے نبی اپنی بیویوں سے کہہ دو اگر تمہیں دنیا کی زندگی اور اس کی آرائش منظور ہے تو آؤ میں تمہیں کچھ دے دلا کر اچھی طرح سے رخصت کر دوں

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم زندگانی دنیا اور زینت دنیا چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ دے دلا دوں اور تمہیں اچھائی کے ساتھ رخصت کر دوں۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اے پیغمبر اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت وآرائش کی خواستگار ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ مال دوں اور اچھی طرح سے رخصت کردوں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم زندگانی دنیا اور زینت دنیا چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ دے دﻻ دوں اور تمہیں اچھائی کے ساتھ رخصت کر دوں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دیجئے کہا گر تم دنیاوی زندگی اور اس کی زیب و زینت چاہتی ہو تو آؤ کہ تمہیں کچھ مال و متاع دے کر اچھے طریقے سے رخصت کروں۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

پیغمبر آپ اپنی بیویوں سے کہہ دیجئے کہ اگر تم لوگ زندگانی دنیا اور اس کی زینت کی طلبگار ہو تو آؤ میں تمہیں متاغِ دنیا دے کر خوبصورتی کے ساتھ رخصت کردوں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اے نبیِ (مکرَّم!) اپنی اَزواج سے فرما دیں کہ اگر تم دنیا اور اس کی زینت و آرائش کی خواہش مند ہو تو آؤ میں تمہیں مال و متاع دے دوں اور تمہیں حسنِ سلوک کے ساتھ رخصت کر دوں،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

امہات المومنین سے پرسش ! دین یا دنیا ؟
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیتا ہے کہ اپنی بیویوں کو دو باتوں میں سے ایک کی قبولیت کا اختیار دیں۔ اگر تم دنیا پر اور اس کی رونق پر مائل ہوئی ہو تو آؤ میں تمہیں اپنے نکاح سے الگ کردیتا ہوں اور اگر تم تنگی ترشی پر یہاں صبر کر کے اللہ کی خوشی رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رضامندی چاہتی ہو اور آخرت کی رونق پسند ہے تو صبر و سہار سے میرے ساتھ زندگی گذارو۔ اللہ تمہیں وہاں کی نعمتوں سے سرفراز فرمائے گا۔ اللہ آپ کی تمام بیویوں سے جو ہماری مائیں ہیں خوش رہے۔ سب نے اللہ کو اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اور دار آخرت کو ہی پسند فرمایا جس پر رب راضی ہو اور پھر آخرت کے ساتھ ہی دنیا کی مسرتیں بھی عطا فرمائیں۔ حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ اس آیت کے اترتے ہی اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس آئے اور مجھ سے فرمانے لگے کہ میں ایک بات کا تم سے ذکر کرنے والا ہوں تم جواب میں جلدی نہ کرنا اپنے ماں باپ سے مشورہ کر کے جواب دینا۔ یہ تو آپ جانتے ہی تھے کہ ناممکن ہے کہ میرے والدین مجھے آپ سے جدائی کرنے کا مشورہ دیں۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھ کر سنائی۔ میں نے فوراً جواب دیا کہ یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس میں ماں باپ سے مشورہ کرنے کی کونسی بات ہے۔ مجھے اللہ پسند ہے اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پسند ہیں اور آخرت کا گھر پسند ہے۔ آپ کی اور تمام بیویوں نے بھی وہی کیا جو میں نے کیا تھا اور روایت میں ہے کہ تین دفعہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عائشہ سے فرمایا کہ دیکھو بغیر اپنے ماں باپ سے مشورہ کئے کوئی فیصلہ نہ کرلینا پھر جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرا جواب سنا تو آپ خوش ہوگئے اور ہنس دیئے، پھر آپ دوسری ازواج مطہرات کے حجروں میں تشریف لے گئے ان سے پہلے ہی فرما دیتے تھے کہ عائشہ (رض) نے تو یہ جواب دیا ہے وہ کہتی تھیں یہی جواب ہمارا بھی ہے۔ فرماتی ہیں کہ اس اختیار کے بعد جب ہم نے آپ کو اختیار کیا تو اختیار طلاق میں شمار نہیں ہوا۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت ابوبکر نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہونا چاہا لوگ آپ کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے اور آپ اندر تشریف فرما تھے اجازت ملی نہیں۔ اتنے میں حضرت عمر بھی آگئے اجازت چاہی لیکن انہیں بھی اجازت نہ ملی تھوڑی دیر میں دونوں کو یاد فرمایا گیا۔ گئے دیکھا کہ آپ کی ازواج مطہرات آپ کے پاس بیٹھی ہیں اور آپ خاموش ہیں۔ حضرت عمر نے کہا دیکھو میں اللہ کے پیغمبر کو ہنسا دیتا ہوں۔ پھر کہنے لگے یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کاش کہ آپ دیکھتے میری بیوی نے آج مجھ سے روپیہ پیسہ مانگا میرے پاس تھا نہیں جب زیادہ ضد کرنے لگیں تو میں نے اٹھ کر گردن ناپی۔ یہ سنتے ہی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنس پڑے اور فرمانے لگے یہاں بھی یہی قصہ ہے دیکھو یہ سب بیٹھی ہوئی مجھ سے مال طلب کر رہی ہیں ؟ ابوبکر حضرت عائشہ کی طرف لپکے اور عمر حضرت حفصہ کی طرف اور فرمانے لگے افسوس تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے وہ مانگتی ہو جو آپ کے پاس نہیں۔ وہ تو کہئے خیر گذری جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں روک لیا ورنہ عجب نہیں دونوں برگ اپنی اپنی صاحبزادیوں کو مارتے۔ اب تو سب بیویاں کہنے لگیں کہ اچھا قصور ہوا اب سے ہم حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہرگز اس طرح تنگ نہ کریں گی۔ اب یہ آیتیں اتریں اور دنیا اور آخرت کی پسندیدگی میں اختیار دیا گیا۔ سب سے پہلے آپ حضرت صدیقہ کے پاس گئے انہوں نے آخرت کو پسند کیا جیسے کہ تفصیل وار بیان گذر چکا۔ ساتھ ہی درخواست کی کہ یارسول اللہ آپ اپنی کسی بیوی سے یہ نہ فرمائیے گا کہ میں نے آپ کو اختیار کیا۔ آپ نے جواب دیا کہ اللہ نے مجھے چھپانے والا بنا کر نہیں بھیجا بلکہ میں سکھانے والا آسانی کرنے والا بنا کر بھیجا گیا ہوں مجھ سے تو جو دریافت کرے گی میں صاف صاف بتادوں گا۔ حضرت علی کا فرمان ہے کہ طلاق کا اختیار نہیں دیا گیا تھا بلکہ دنیا یا آخرت کی ترجیح کا اختیار دیا تھا لیکن اس کی سند میں بھی انقطاع ہے اور یہ آیت کے ظاہری لفظوں کے بھی خلاف ہے کیونکہ پہلی آیت کے آخر میں صاف موجود ہے کہ آؤ میں تمہارے حقوق ادا کردوں اور تمہیں رہائی دے دوں اس میں علماء کرام کا گو اختلاف ہے کہ اگر آپ طلاق دے دیں تو پھر کسی کو ان سے نکاح جائز ہے یا نہیں ؟ لیکن صحیح قول یہ ہے کہ جائز ہے تاکہ اس طلاق سے وہ نتیجہ ملے یعنی دنیا طلبی اور دنیا کی زینت و رونق وہ انہیں حاصل ہو سکے واللہ اعلم۔ جب یہ آیت اتری اور جب اس کا حکم حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ازواج مطہرات امہات المومنین رضوان اللہ علیہن کو سنایا اس وقت آپ کی نوبیویاں تھیں۔ پانچ تو قریش سے تعلق رکھتی تھیں عائشہ، حفصہ، سودہ اور ام سلمہ (رض) اور صفیہ بنت جی قبیلہ نضر سے تھیں، میمونہ بنت حارث ہلالیہ تھیں، زینب بنت حجش اسدیہ تھیں اور جویریہ بنت حارث جو مصطلقیہ تھیں (رض) وارضاھن اجمعین۔