Skip to main content

وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْيًا اَوْ مِنْ وَّرَاۤىٴِ حِجَابٍ اَوْ يُرْسِلَ رَسُوْلًا فَيُوْحِىَ بِاِذْنِهٖ مَا يَشَاۤءُۗ اِنَّهٗ عَلِىٌّ حَكِيْمٌ

And not
وَمَا
اور نہیں
is
كَانَ
ہے
for any human
لِبَشَرٍ
کسی بشر کے لیے
that
أَن
کہ
Allah should speak to him
يُكَلِّمَهُ
کلام کرے اس سے
Allah should speak to him
ٱللَّهُ
اللہ
except
إِلَّا
مگر
(by) revelation
وَحْيًا
وحی کے طور پر
or
أَوْ
یا
from
مِن
سے
behind
وَرَآئِ
پیچھے سے
a veil
حِجَابٍ
پردے کے
or
أَوْ
یا
(by) sending
يُرْسِلَ
وہ بھیجتے
a Messenger
رَسُولًا
کوئی پہنچانے والا
then he reveals
فَيُوحِىَ
تو وہ وحی کرے
by His permission
بِإِذْنِهِۦ
ساتھ اس کے اذن کے
what
مَا
جو
He wills
يَشَآءُۚ
وہ چاہے
Indeed, He
إِنَّهُۥ
یقینا وہ
(is) Most High
عَلِىٌّ
بلند ہے،
Most Wise
حَكِيمٌ
حکمت والا ہے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

کسی بشر کا یہ مقام نہیں ہے کہ اللہ اُس سے روبرو بات کرے اُس کی بات یا تو وحی (اشارے) کے طور پر ہوتی ہے، یا پردے کے پیچھے سے، یا پھر وہ کوئی پیغام بر (فرشتہ) بھیجتا ہے اور وہ اُس کے حکم سے جو کچھ وہ چاہتا ہے، وحی کرتا ہے، وہ برتر اور حکیم ہے

English Sahih:

And it is not for any human being that Allah should speak to him except by revelation or from behind a partition or that He sends a messenger [i.e., angel] to reveal, by His permission, what He wills. Indeed, He is Most High and Wise.

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

کسی بشر کا یہ مقام نہیں ہے کہ اللہ اُس سے روبرو بات کرے اُس کی بات یا تو وحی (اشارے) کے طور پر ہوتی ہے، یا پردے کے پیچھے سے، یا پھر وہ کوئی پیغام بر (فرشتہ) بھیجتا ہے اور وہ اُس کے حکم سے جو کچھ وہ چاہتا ہے، وحی کرتا ہے، وہ برتر اور حکیم ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور کسی آدمی کو نہیں پہنچتا کہ اللہ اس سے کلام فرمائے مگر وحی کے طور پر یا یوں کہ وہ بشر پر وہ عظمت کے ادھر ہو یا کوئی فرشتہ بھیجے کہ وہ اس کے حکم سے وحی کرے جو وہ چاہے بیشک وہ بلندی و حکمت والا ہے،

احمد علی Ahmed Ali

اور کسی انسان کا حق نہیں کہ اس سے الله کلام کر لے مگر بذریعہ وحی یا پردے کے پیچھے سے یا کوئی فرشتہ بھیج دے کہ وہ اس کے حکم سے القا کر لے جو چاہے بے شک وہ بڑاعالیشان حکمت والا ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

ناممکن ہے کہ کسی بندے سے اللہ تعالٰی کلام کرے مگر وحی کے ذریعے یا پردے کے پیچھے سے یا کسی فرشتہ کو بھیجے اور وہ اللہ کے حکم سے جو وہ چاہے وحی (١) کرے، بیشک وہ برتر حکمت والا ہے۔

٥١۔١ اس آیت میں وحی الٰہی کی تین صورتیں بیان کی گئی ہیں پہلی یہ کہ دل میں کسی بات کا ڈال دینا یا خواب میں بتلا دینا اور یقین کے ساتھ کہ یہ اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ دوسری، پردے کے پیچھے سے کلام کرنا، جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کوہ طور پر کیا گیا، تیسری، فرشتے کے ذریعے اپنی وحی بھیجنا، جیسے جبرائیل علیہ السلام اللہ کا پیغام لے کر آتے اور پیغمبروں کو سناتے رہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور کسی آدمی کے لئے ممکن نہیں کہ خدا اس سے بات کرے مگر الہام (کے ذریعے) سے یا پردے کے پیچھے سے یا کوئی فرشتہ بھیج دے تو وہ خدا کے حکم سے جو خدا چاہے القا کرے۔ بےشک وہ عالی رتبہ (اور) حکمت والا ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

ناممکن ہے کہ کسی بنده سے اللہ تعالیٰ کلام کرے مگر وحی کے ذریعہ یا پردے کے پیچھے سے یا کسی فرشتہ کو بھیجے اور وه اللہ کے حکم سے جو وه چاہے وحی کرے، بیشک وه برتر ہے حکمت واﻻ ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور کسی بشر کا یہ مقام نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے مگر وحی کے ذریعہ سےیا پردہ کے پیچھے سےیا وہ کوئی پیغام بر (فرشتہ) بھیجے اور اس کے حکم سے جو وہ چاہے وحی کرے۔ بیشک وہ بزرگ و برتر (اور) بڑا حکمت والا ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اورکسی انسان کے لئے یہ بات نہیں ہے کہ اللہ اس سے کلام کرے مگر یہ کہ وحی کردے یا پس پردہ سے بات کر لے یا کوئی نمائندہ فرشتہ بھیج دے اور پھر وہ اس کی اجازت سے جو وہ چاہتا ہے وہ پیغام پہنچا دے کہ وہ یقینا بلند و بالا اور صاحبِ حکمت ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور ہر بشر کی (یہ) مجال نہیں کہ اللہ اس سے (براہِ راست) کلام کرے مگر یہ کہ وحی کے ذریعے (کسی کو شانِ نبوت سے سرفراز فرما دے) یا پردے کے پیچھے سے (بات کرے جیسے موسٰی علیہ السلام سے طورِ سینا پر کی) یا کسی فرشتے کو فرستادہ بنا کر بھیجے اور وہ اُس کے اِذن سے جو اللہ چاہے وحی کرے (الغرض عالمِ بشریت کے لئے خطابِ اِلٰہی کا واسطہ اور وسیلہ صرف نبی اور رسول ہی ہوگا)، بیشک وہ بلند مرتبہ بڑی حکمت والا ہے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

قرآن حکیم شفا ہے
مقامات و مراتب و کیفیات وحی کا بیان ہو رہا ہے کہ کبھی تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل میں وحی ڈال دی جاتی ہے جس کے وحی اللہ ہونے میں آپکو کوئی شک نہیں رہتا جیسے صحیح ابن حبان کی حدیث میں ہے کہ روح القدس نے میرے دل میں یہ بات پھونکی ہے کہ کوئی شخص بھی جب تک اپنی روزی اور اپنا وقت پورا نہ کرلے ہرگز نہیں مرتا پس اللہ سے ڈرو اور روزی کی طلب میں اچھائی اختیار کرو۔ یا پردے کی اوٹ سے جیسے حضرت موسیٰ سے کلام ہوا۔ کیونکہ انہوں نے کلام سن کر جمال دیکھنا چاہا لیکن وہ پردے میں تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت جابر بن عبداللہ سے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی سے کلام نہیں کیا مگر پردے کے پیچھے سے لیکن تیرے باپ سے اپنے سامنے کلام کیا یہ جنت احد میں کفار کے ہاتھوں شہید کئے گئے تھے لیکن یہ یاد رہے کہ یہ کلام عالم برزخ کا ہے اور آیت میں جس کلام کا ذکر ہے اس سے مراد دنیا کا کلام ہے یا اپنے قاصد کو بھیج کر اپنی بات اس تک پہنچائے جیسے حضرت جبرائیل وغیرہ فرشتے انبیاء (علیہ السلام) کے پاس آتے رہے وہ علو اور بلندی اور بزرگی والا ہے ساتھ ہی حکیم اور حکمت والا ہے روح سے مراد قرآن ہے فرماتا ہے اس قرآن کو بذریعہ وحی کے ہم نے تیری طرف اتارا ہے کتاب اور ایمان کو جس تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہم نے اپنی کتاب میں ہے تو اس سے پہلے جانتا بھی نہ تھا لیکن ہم نے اس قرآن کو نور بنایا ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے ہم اپنے ایمان دار بندوں کو راہ راست دکھلائیں جیسے آیت میں ہے (قُلْ هُوَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّشِفَاۗءٌ 44؀ ) 41 ۔ فصلت ;44) کہہ دے کہ یہ ایمان والوں کے واسطے ہدایت و شفا ہے اور بےایمانوں کے کان بہرے اور آنکھیں اندھی ہیں پھر فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم صریح اور مضبوط حق کی رہنمائی کر رہے ہو پھر صراط مستقیم کی تشریح کی اور فرمایا اسے شرع مقرر کرنے والا خود اللہ ہے جس کی شان یہ ہے کہ آسمانوں زمینوں کا مالک اور رب وہی ہے ان میں تصرف کرنے والا اور حکم چلانے والا بھی وہی ہے کوئی اس کے کسی حکم کو ٹال نہیں سکتا تمام امور اس کی طرف پھیرے جاتے ہیں وہی سب کاموں کے فیصلے کرتا ہے اور حکم کرتا ہے وہ پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے جو اس کی نسبت ظالم اور منکرین کہتے ہیں وہ بلندیوں اور بڑائیوں والا ہے۔