Skip to main content

فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًا ۙ

فَٱلْمُقَسِّمَٰتِ
پھر تقسیم کرنے والے۔ پھر تقسیم کرنے والیاں ہیں
أَمْرًا
کام کو

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

پھر ایک بڑے کام (بارش) کی تقسیم کرنے والی ہیں

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

پھر ایک بڑے کام (بارش) کی تقسیم کرنے والی ہیں

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

پھر حکم سے بانٹنے والیاں

احمد علی Ahmed Ali

پھر ان فرشتوں کی جو حکم کے موافق چیزیں تقسیم کرنے واے ہیں

أحسن البيان Ahsanul Bayan

پھر کام کو تقسیم کرنے والیاں (١)۔

٤۔١ مقسمات، اس سے مراد فرشتے ہیں جو کام کو تقسیم کر لیتے ہیں، کوئی رحمت کا فرشتہ ہے تو کوئی عذاب کا، کوئی پانی کا ہے تو کوئی سختی کا، کوئی ہواؤں کا فرشتہ ہے تو کوئی موت اور حوادث کا۔ بعض نے ان سب سے صرف ہوائیں مراد لی ہیں اور ان سب کو ہواؤں کی صفت بتایا ہے۔ جیسے کہ فاضل مترجم نے بھی اسی کے مطابق ترجمہ کیا ہے۔ لیکن ہم نے امام ابن کثیر اور امام شوکانی کی تفسیر کے مطابق تشریح کی ہے۔ قسم سے مقصد مقسم علیہ کی سچائی کو بیان کرنا ہوتا ہے یا بعض دفعہ صرف تاکید مقصود ہوتی ہے اور بعض دفعہ مقسم علیہ کو دلیل کے طور پر پیش کرنا مقصود ہوتا ہے۔ یہاں قسم کی یہی تیسری قسم ہے۔ آگے جواب قسم یہ بیان کیا گیا ہے کہ تمک سے جو وعدے کیے جاتے ہیں یقیناً وہ سچے ہیں اور قیامت برپا ہو کر رہے گی جس میں انصاف کیا جائے گا۔ یہ ہواؤں کا چلنا، بادلوں کا پانی کو اٹھانا، سمندروں میں کشتیوں کا چلنا اور فرشتوں کا مختلف امور کو سر انجام دینا، قیامت کے وقوع پر دلیل ہے، کیونکہ جو ذات یہ سارے کام کرتی ہے جو بظاہر نہایت مشکل اور اسباب عادیہ کے خلاف ہیں، وہی ذات قیامت والے دن تمام انسانوں کو دوبارہ زندہ بھی کر سکتی ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

پھر چیزیں تقسیم کرتی ہیں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

پھر کام کو تقسیم کرنے والیاں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

پھر ان (فرشتوں کی) جو معاملہ کے تقسیم کرنے والے ہیں۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

پھر ایک امر کی تقسیم کرنے والی ہیں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور کام تقسیم کرنے والے فرشتوں کی قَسم،