Skip to main content

اِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشٰىۙ

إِذْ
جب
يَغْشَى
چھا رہا تھا
ٱلسِّدْرَةَ
سدرہ پر
مَا
جو کچھ
يَغْشَىٰ
چھا رہا تھا

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اُس وقت سدرہ پر چھا رہا تھا جو کچھ کہ چھا رہا تھا

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اُس وقت سدرہ پر چھا رہا تھا جو کچھ کہ چھا رہا تھا

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

جب سدرہ پر چھا رہا تھا جو چھا رہا تھا

احمد علی Ahmed Ali

جب کہ اس سدرة پر چھا رہا تھا جو چھا رہا تھا (یعنی نور)

أحسن البيان Ahsanul Bayan

جب کہ سدرہ کو چھپائے لیتی تھی وہ چیز جو اس پر چھا رہی تھی (۱)

١٦۔١ سدرۃ المنتہیٰ کی اس کیفیت کا بیان ہے جب شب معراج میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا مشاہدہ کیا، سونے کے پروانے اس کے گرد منڈلا رہے تھے، فرشتوں کا عکس اس پر پڑ رہا تھا، اور رب کی تجلیات کا مظہر بھی وہی تھا (ابن کثیر) اس مقام پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تین چیزوں سے نوازا گیا، پانچ وقت کی نمازیں، سورہ بقرہ کی آخری آیات اور اس مسلمان کی مغفرت کا وعدہ جو شرک کی آلودگیوں سے پاک ہوگا۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

جب کہ اس بیری پر چھا رہا تھا جو چھا رہا تھا

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

جب کہ سدره کو چھپائے لیتی تھی وه چیز جو اس پر چھا رہی تھی

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

جب کہ سدرہ پر چھا رہا تھا (وہ نور) جو چھا رہا تھا۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

جب سدرہ پر چھا رہا تھا جو کچھ کہ چھا رہا تھا

طاہر القادری Tahir ul Qadri

جب نورِ حق کی تجلیّات سِدرَۃ (المنتہٰی) کو (بھی) ڈھانپ رہی تھیں جو کہ (اس پر) سایہ فگن تھیں٭، ٭ یہ معنی بھی امام حسن بصری رضی اللہ عنہ و دیگر ائمہ کے اقوال پر ہے۔