Skip to main content

مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوٰىۚ

مَا
نہیں
ضَلَّ
بھٹکا
صَاحِبُكُمْ
ساتھی تمہارا
وَمَا
ا ور نہ
غَوَىٰ
وہ بہکا

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

تمہارا رفیق نہ بھٹکا ہے نہ بہکا ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

تمہارا رفیق نہ بھٹکا ہے نہ بہکا ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

تمہارے صاحب نہ بہکے نہ بے راہ چلے

احمد علی Ahmed Ali

تمہارا رفیق نہ گمراہ ہوا ہے اورنہ بہکا ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

کہ تمہارے ساتھی نے نہ راہ گم کی ہے اور نہ ٹیڑھی راہ پر ہے (١)

٢۔١ یہ جواب قسم ہے۔ صَاحِبِکُمْ (تمہارا ساتھی) کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کو واضح تر کیا گیا ہے کہ نبوت سے پہلے چالیس سال اس نے تمہارے ساتھ اور تمہارے درمیان گزارے ہیں، اس کے شب و روز کے تمام معمولات تمہارے سامنے ہیں، اس کا اخلاق و کردار تمہارا جانا پہچانا ہے۔ راست بازی اور امانت داری کے سوا تم نے اس کے کردار میں کبھی کچھ اور بھی دیکھا؟ اب چالیس سال کے بعد جو وہ نبوت کا دعوی کر رہا ہے تو ذرا سوچو، وہ کس طرح جھوٹ ہو سکتا ہے؟ چنانچہ واقعہ یہ کہ وہ نہ گمراہ ہوا ہے نہ بہکا ہے۔ ضلالت، راہ حق سے وہ انحراف ہے جو جہالت اور لاعلمی سے ہو اور غوابت، وہ کجی ہے جو جانتے بوجھتے حق کو چھوڑ کر اختیار کی جائے۔ اللہ تعالٰی نے دونوں قسم کی گمراہیوں سے اپنے پیغمبر کی تنزیہ بیان فرمائی۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

کہ تمہارے رفیق (محمدﷺ) نہ رستہ بھولے ہیں نہ بھٹکے ہیں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

کہ تمہارے ساتھی نے نہ راه گم کی ہے نہ وه ٹیڑھی راه پر ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

کہ تمہارا یہ ساتھی (پیغمبرِ اسلام(ص)) نہ گمراہ ہوا ہے اور نہ بہکا ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

تمہارا ساتھی نہ گمراہ ہوا ہے اور نہ بہکا

طاہر القادری Tahir ul Qadri

تمہیں (اپنی) صحبت سے نوازنے والے (یعنی تمہیں اپنے فیضِ صحبت سے صحابی بنانے والے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہ (کبھی) راہ بھولے اور نہ (کبھی) راہ سے بھٹکے،