Skip to main content

وَقَلِيْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَۗ

وَقَلِيلٌ
اور تھوڑے ہیں
مِّنَ
میں سے
ٱلْءَاخِرِينَ
پچھلوں

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اور پچھلوں میں سے کم

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اور پچھلوں میں سے کم

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور پچھلوں میں سے تھوڑے

احمد علی Ahmed Ali

اور پچھلوں میں سے تھوڑے سے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور تھوڑے سے پچھلے لوگوں میں سے (١)

١٤۔١ کہا جاتا ہے کہ اولین سے مراد حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک کی امت کے لوگ ہیں اور آخرین سے امت محمدیہ کے افراد مطلب یہ ہے کہ پچھلی امتوں میں سابقین کا ایک بڑا گروہ ہے، کیونکہ ان کا زمانہ بہت لمبا ہے جس میں ہزاروں انبیاء کے سابقین شامل ہیں ان کے مقابلے میں امت محمدیہ کا زمانہ (قیامت تک) تھوڑا ہے، اس لیے ان میں سابقین بھی بہ نسبت گذشتہ امتوں کے تھوڑے ہوں گے۔ اور ایک حدیث میں آتا ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ، مجھے امید ہے کہ تم جنتیوں کا نصف ہو گے۔ تو یہ آیت مذکورہ مفہوم کے مخالف نہیں۔ کیونکہ امت محمدیہ کے سابقین اور عام مومنین ملا کر باقی تمام امتوں سے جنت میں جانے والوں کا نصف ہوجائیں گے، اس لیے محض سابقین کی کثرت (سابقہ امتوں میں) سے حدیث میں بیان کردہ تعداد کی نفی نہیں ہوگی۔ مگر یہ قول محل نظر ہے اور بعض نے اولین و آخرین سے اسی امت محمدیہ کے افراد مراد لیے ہیں۔ یعنی اس کے پہلے لوگوں میں سابقین کی تعداد زیادہ اور پچھلے لوگوں میں تھوڑی ہوگی۔ امام ابن کثیر نے اسی دوسرے قول کو ترجیح دی ہے۔ اور یہی زیادہ درست معلوم ہوتا ہے۔ یہ جملہ معترضہ ہے، فی جنت النعیم اور علی سرر موضونۃ کے درمیان۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور تھوڑے سے پچھلوں میں سے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور تھوڑے سے پچھلے لوگوں میں سے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور بہت تھوڑے پچھلوں میں سے ہوں گے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور کچھ آخر دور کے ہوں گے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور پچھلے لوگوں میں سے (ان میں) تھوڑے ہوں گے،