Skip to main content

اَلَمْ نُهْلِكِ الْاَوَّلِيْنَۗ

أَلَمْ
کیا نہیں
نُهْلِكِ
ہم نے ہلاک کیا
ٱلْأَوَّلِينَ
پہلوں کو

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

کیا ہم نے اگلوں کو ہلاک نہیں کیا؟

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

کیا ہم نے اگلوں کو ہلاک نہیں کیا؟

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

کیا ہم نے اگلوں کو ہلاک نہ فرمایا

احمد علی Ahmed Ali

کیا ہم نے پہلوں کو ہلاک نہیں کر ڈالا

أحسن البيان Ahsanul Bayan

کیا ہم نے اگلوں کو ہلاک نہیں کیا؟

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

کیا ہم نے پہلے لوگوں کو ہلاک نہیں کر ڈالا

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

کیا ہم نے اگلوں کو ہلاک نہیں کیا؟

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

کیا ہم نے پہلے والوں کو ہلاک نہیں کیا۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

کیا ہم نے ان کے پہلے والوں کو ہلاک نہیں کردیا ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

کیا ہم نے اگلے (جھٹلانے والے) لوگوں کو ہلاک نہیں کر ڈالا تھا،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

حسرت و افسوس کا وقت آنے سے پہلے
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم سے پہلے بھی جن لوگوں نے میرے رسولوں کی رسالت کو جھٹلایا میں نے انہیں نیست و نابود کردیا پھر ان کے بعد اور لوگ آئے انہوں نے بھی ایسا ہی کیا اور ہم نے بھی انہیں اسی طرح غارت کردیا ہم مجرموں کی غفلت کا یہی بدلہ دیتے چلے آئے ہیں، اس دن ان جھٹلانے والوں کی درگت ہوگی، پھر اپنی مخلوق کو اپنا احسان یاد دلاتا ہے اور منکرین قیامت کے سامنے دلیل پیش کرتا ہے کہ ہم نے اسے حقیر اور ذلیل قطرے سے پیدا کیا جو خالق کائنات کی قدرت کے سامنے ناچیز محض تھا، جیسے سورة یس کی تفسیر میں گذر چکا کہ اے ابن آدم بھلا تو مجھے کیا عاجز کرسکے گا میں نے تو تجھے اسی جیسی چیز سے پیدا کیا ہے، پھر اس قطرے کو ہم نے رحم میں جمع کیا جو اس پانی کے جمع ہونے کی جگہ ہے اسے بڑھاتا ہے اور محفوظ رکھتا ہے، مدت مقررہ تک وہ وہیں رہا یعنی چھ مہینے یا نو مہینے، ہمارے اس اندازے کو دیکھو کہ کس قدر صحیح اور بہترین ہے، پھر بھی اگر تم اس آنے والے دن کو نہ مانو گے تو یقین جانو کہ تمہیں قیامت کے دن بڑی حسرت اور سخت افسوس ہوگا۔ پھر فرمایا کیا ہم نے زمین کو یہ خدمت سپرد نہیں کی ؟ کہ وہ تمہیں زندگی میں بھی اپنی پیٹھ پر چلاتی رہے اور موت کے بعد بھی تمہیں اپنے پیٹ میں چھپا رکھے، پھر زمین کے نہ ہلنے جلنے کے لئے ہم نے مضبوط وزنی بلند پہاڑ اس میں گاڑ دیئے اور بادلوں سے برستا ہوا اور چشموں سے رستا ہوا ہلکا زور ہضم خوش گوار پانی ہم نے تمہیں پلایا، ان نعمتوں کے باوجود بھی اگر تم میری باتوں کو جھٹلاتے ہی رہے تو یاد رکھو وہ وقت آ رہا ہے جب حسرت و افسوس کرو گے اور کچھ کام نہ آئے۔