Skip to main content

وَعَدَ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا وَمَسٰكِنَ طَيِّبَةً فِىْ جَنّٰتِ عَدْنٍ ۗ وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ ۗ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ

وَعَدَ
وعدہ کیا
ٱللَّهُ
اللہ نے
ٱلْمُؤْمِنِينَ
مومن مردوں سے
وَٱلْمُؤْمِنَٰتِ
اور مومن عورتوں سے
جَنَّٰتٍ
باغات کا
تَجْرِى
بہتی ہیں
مِن
کے
تَحْتِهَا
ان کے نیچے
ٱلْأَنْهَٰرُ
نہریں
خَٰلِدِينَ
ہمیشہ رہنے والے ہیں
فِيهَا
ان میں
وَمَسَٰكِنَ
اور گھر
طَيِّبَةً
پاکیزہ
فِى
میں
جَنَّٰتِ
باغات
عَدْنٍۚ
ہمیشگی
وَرِضْوَٰنٌ
اور رضامندی
مِّنَ
سے
ٱللَّهِ
اللہ کی
أَكْبَرُۚ
سب سے بڑی چیز ہے
ذَٰلِكَ
یہی
هُوَ
وہ
ٱلْفَوْزُ
کامیابی ہے
ٱلْعَظِيمُ
بڑی

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

ان مومن مردوں اور عورتوں سے اللہ کا وعدہ ہے کہ انہیں ایسے باغ دے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے ان سدا بہار باغوں میں ان کے لیے پاکیزہ قیام گاہیں ہوں گی، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ کی خوشنودی انہیں حاصل ہوگی یہی بڑی کامیابی ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

ان مومن مردوں اور عورتوں سے اللہ کا وعدہ ہے کہ انہیں ایسے باغ دے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے ان سدا بہار باغوں میں ان کے لیے پاکیزہ قیام گاہیں ہوں گی، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ کی خوشنودی انہیں حاصل ہوگی یہی بڑی کامیابی ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اللہ نے مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو باغوں کا وعدہ دیا ہے جن کے نیچے نہریں رواں ان میں ہمیشہ رہیں گے اور پاکیزہ مکانوں کا بسنے کے باغوں میں، اور اللہ کی رضا سب سے بڑی یہی ہے بڑی مراد پانی،

احمد علی Ahmed Ali

الله نے ایمان دار مردوں اورایمان والی عورتوں کو باغوں کا وعدہ دیا ہے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گیان میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے اورعمدہ مکانوں اور ہمیشگی کے باغوں میں اور الله کی رضا ان سب سے بڑی ہے یہی وہ بڑی کامیابی ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

ان ایماندار مردوں اور عورتوں سے اللہ نے ان جنتوں کا وعدہ فرمایا ہے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جہاں وہ ہمیشہ ہمیش رہنے والے ہیں اور ان صاف ستھرے پاکیزہ محلات (١) کا جو ان ہمیشگی والی جنتوں میں ہیں، اور اللہ کی رضامندی سب سے بڑی چیز ہے (٢) یہی زبردست کامیابی ہے۔

٧٢۔١ جو موتی اور یاقوت تیار کئے گئے ہوں گے۔ عدن کے کئی معنی کئے گئے ہیں۔ ایک معنی ہمیشگی کے ہیں۔
٧٢۔٢ حدیث میں بھی آتا ہے کہ جنت کی تمام نعمتوں کے بعد اہل جنت کو سب سے بڑی نعمت رضائے الٰہی کی صورت میں ملے گی (صحیح بخاری)

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

خدا نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے بہشتوں کا وعدہ کیا ہے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (وہ) ان میں ہمیشہ رہیں گے اور بہشت ہائے جاودانی میں نفیس مکانات کا (وعدہ کیا ہے) اور خدا کی رضا مندی تو سب سے بڑھ کر نعمت ہے یہی بڑی کامیابی ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

ان ایمان دار مردوں اور عورتوں سے اللہ نے ان جنتوں کا وعده فرمایا ہے جن کے نیچے نہریں لہریں لے رہی ہیں جہاں وه ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں اور ان صاف ستھرے پاکیزه محلات کا جو ان ہمیشگی والی جنتوں میں ہیں، اور اللہ کی رضامندی سب سے بڑی چیز ہے، یہی زبردست کامیابی ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اللہ نے مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں سے ان بہشتوں کا وعدہ کیا ہے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے نیز ان کے لئے ان ہمیشگی کے بہشتوں (سدا بہار باغوں) میں پاک و پاکیزہ مکانات ہوں گے۔ اور اللہ کی خوشنودی سب سے بڑی ہے۔ یہی ہے بہت بڑی کامیابی۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اللہ نے مومن مرد اور مومن عورتوں سے ان باغات کا وعدہ کیا ہے جن کی نیچے نہریں جاری ہوں گی -یہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں -ان جنااُ عدن میں پاکیزہ مکانات ہیں اور اللہ کی مرضی تو سب سے بڑی چیز ہے اور یہی ایک عظیم کامیابی ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اللہ نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے جنتوں کا وعدہ فرما لیا ہے جن کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں اور ایسے پاکیزہ مکانات کا بھی (وعدہ فرمایا ہے) جوجنت کے خاص مقام پر سدا بہار باغات میں ہیں، اور (پھر) اللہ کی رضا اور خوشنودی (ان سب نعمتوں سے) بڑھ کر ہے (جو بڑے اجر کے طور پر نصیب ہوگی)، یہی زبردست کامیابی ہے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

مومنوں کو نیکی کے انعامات
مومنو کی ان نیکیوں پر جو اجر وثواب انہیں ملے گا ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ابدی نعمتیں ہمیشگی کی راحتیں باقی رہنے والی جنتیں جہاں قدم قدم پر خوشگوار پانی کے چشمے ابل رہے ہیں جہاں بلند وبالا خوبصورت مزین صاف ستھرے آرائش و زیبائش والے محلات اور مکانات ہیں۔حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں دو جنتیں تو صرف سونے کی ہیں ان کے برتن اور جو کچھ بھی وہاں ہے سب سونے ہی سونے کا ہے اور دو جنتیں چاندی کی ہیں برتن بھی اور کل چیزیں بھی ان میں اور دیدارالٰہی میں کوئی حجاب بجز اس کبریائی کی چادر کے نہیں جو اللہ جل وعلا کے چہرے پر ہے یہ جنت عدن میں ہوں گے۔ اور حدیث میں ہے کہ مومن کے لئے جنت میں ایک خیمہ ہوگا ایک ہی موتی کا بنا ہوا اس کا طول ساٹھ میل کا ہوگا مومن کی بیویاں وہیں ہوں گی جن کے پاس یہ آتا جاتا رہے گا لیکن ایک دوسرے کو دکھائی نہ دیں گی۔ آپ کا فرمان ہے کہ جو اللہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائے نماز قائم رکھے رمضان کے روزے رکھے اللہ پر حق ہے کہ اسے جنت میں لے جائے اس نے ہجرت کی ہو یا اپنے وطن میں ہی رہا ہو لوگوں نے کہا پھر ہم اوروں سے بھی یہ حدیث بیان کردیں ؟ آپ نے فرمایا جنت میں ایک سو درجے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ کے مجاہدوں کے لئے بنائے ہیں ہر دو درجوں میں اتنا ہی فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان میں۔ پس جب بھی تم اللہ سے جنت کا سوال کرو تو جنت الفردوس طلب کرو وہ سب سے اونچی اور سب سے بہتر جنت ہے جنتوں کی سب نہریں وہیں سے نکلتی ہیں اس کی چھت رحمن کا عرش ہے فرماتے ہیں۔ اہل جنت جنتی بالاخانوں کو اس طرح دیکھیں گے جس طرح تم آسمان کے چمکتے دھمکتے ستاروں کو دیکھتے ہو۔ یہ بھی معلوم رہے کہ تمام جنتوں میں خالص ایک اعلیٰ مقام ہے جس کا نام وسیلہ ہے کیونکہ وہ عرش سے بالکل ہی قریب ہے یہ جگہ ہے حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی۔ آپ فرماتے جب تم مجھ پر درود پڑھو تو اللہ سے میرے لئے وسیلہ طلب کیا کرو۔ پوچھا گیا وسیلہ کیا ہے ؟ فرمایا جنت کا وہ اعلیٰ درجہ جو ایک ہی شخص کو ملے گا اور مجھے اللہ کی ذات سے قوی امید ہے وہ شخص میں ہی ہوں۔ آپ فرماتے ہیں موذن کی اذان کا جواب دو جیسے کلمات وہ کہتا ہے تم بھی کہو پھر مجھ پر درود پڑھو جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر اپنی دس رحمتیں نازل فرماتا ہے پھر میرے لئے وسیلہ طلب کرو اور جنت کی ایک منزل ہے جو تمام مخلوق الہیہ میں سے ایک ہی شخص کو ملے گی مجھے امید ہے کہ وہ مجھے ہی عنایت ہوگی جو شخص میرے لئے اللہ سے اس وسیلے کی طلب کرے اس کیلئے میری شفاعت روز قیامت حلال ہوگئی۔ فرماتے ہیں میرے لئے اللہ سے وسیلہ طلب کرو دنیا میں یہ جو بھی میرے لئے وسیلے کی دعا کرے گا میں قیامت کے دن اس کا گواہ اور سفارشی بنوں گا۔ صحابہ نے ایک دن آپ سے پوچھا کہ یارسول اللہ ہمیں جنت کی باتیں سنائیے انکی بنا کس چیز کی ہے ؟ فرمایا سونے چاندی کی اینٹوں کی، اس کا گارا خالص مشک ہے، اس کے کنکر لولو اور یاقوت ہے اس کی مٹی زعفران ہے اس میں جو جائے گا وہ نعمتوں میں ہوگا جو کبھی خالی نہ ہوں وہ ہمیشہ کی زندگی پائے گا جس کے بعد موت کا کھٹکا بھی نہیں نہ اس کے کپڑے خراب ہوں نہ اس کی جوانی ڈھلے۔ فرماتے ہیں جنت میں ایسے بالا خانے ہیں جنکا اندر کا حصہ باہر سے نظر آتا ہے اور باہر کا حصہ اندر سے۔ ایک اعرابی نے پوچھا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ بالا خانے کن کے لئے ہیں ؟ آپ نے فرمایا جو اچھا کلام کرے کھانا کھلائے روزے رکھے اور راتوں کو لوگوں کے سونے کے وقت تہجد کی نماز ادا کرے۔ فرماتے ہیں کوئی ہے جو جنت کا شائق اور اس کے لئے محنت کرنے والا ہو ؟ واللہ جنت کی کوئی چار دیواری محدود کرنے والا نہیں وہ تو ایک چمکتا ہوا بقعہ نور ہے اور مہکتا ہوا گلستان ہے اور بلند وبالا پاکیزہ محلات ہیں اور جاری وساری نہریں ہیں اور گدرائے ہوئے اور پکے میوؤں کے خوشے ہیں اور جوش جمال لدھے پھندے، سبزہ ہے پھیلا ہوا، کشادگی اور راحت ہے، امن اور چین ہے، نعمت اور رحمت ہے، عالیشان خوش منظر کو شک اور حویلیاں ہیں۔ یہ سنکر لوگ بول اٹھے کہ حضور ہم سب اس جنت کے مشتاق اور اس کے حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ آپ نے فرمایا انشاء اللہ کہو پس لوگوں نے انشاء اللہ کہا۔ پھر فرماتا ہے ان تمام نعمتوں سے اعلیٰ اور بالا نعمت اللہ کی رضامندی ہے۔ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ عزوجل جنتیوں کو پکارے گا کہ اے اہل جنت ! وہ کہیں گے لبیک ربنا وسعدیک والخیر فی یدیک۔ پوچھے گا کہو تم خوش ہوگئے ؟ وہ جواب دیں گے کہ خوش کیوں نہ ہوتے تو نے تو اے پروردگار ہمیں وہ دیا جو مخلوق میں سے کسی کو نہ ملا ہوگا اللہ تعالیٰ فرمائے گا لو میں تمہیں اس سے بہت ہی افضل و اعلیٰ چیز عطا فرماتا ہوں وہ کہیں گے یا اللہ اس سے بہتر چیز اور کیا ہوسکتی ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا سنو میں نے اپنی رضامندی تمہیں عطا فرمائی آج کے بعد میں کبھی بھی تم سے ناخوش نہ ہوؤں گا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں جب جنتی جنت میں پہنچ جائیں گے اللہ عزوجل فرمائے گا کچھ اور چاہیے تو دوں وہ کہیں گے یا اللہ جو تو نے ہمیں عطا فرما رکھا ہے اس سے بہتر تو کوئی اور چیز ہو ہی نہیں سکتی۔ اللہ فرمائے گا وہ میری رضامندی ہے جو سب سے بہتر ہے۔ امام حافظ ضیاء مقدسی نے صفت جنت میں ایک مستقل کتاب لکھی ہے اس میں اس حدیث کو شرط صحیح پر بتایا ہے۔ واللہ اعلم۔