Skip to main content

اَوْ مِسْكِيْنًا ذَا مَتْرَبَةٍ ۗ

أَوْ
یا
مِسْكِينًا
کسی مسکین کو
ذَا
مَتْرَبَةٍ
خاک نشین کو

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

یا خاک نشین مسکین کو کھانا کھلانا

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

یا خاک نشین مسکین کو کھانا کھلانا

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

یا خاک نشین مسکین کو

احمد علی Ahmed Ali

یا کسی خاک نشین مسکین کو

أحسن البيان Ahsanul Bayan

یا خاکسار مسکین کو۔ (۱)

۱٦۔۱یعنی جو فقر و غربت کی وجہ سے مٹی پر پڑا ہو، اس کا گھر بار بھی نہ ہو، مطلب یہ ہے کہ کسی گردن کو آزاد کرنا، کسی بھوکے رشتے دار کو کھانا کھلا دینا، یہ دشوار گزار گھاٹی میں داخل ہونا ہے جس کے ذریعے سے انسان جہنم سے بچ کر جنت میں جا پہنچے گا یتیم کی کفالت ویسے ہی بڑے اجر کا کام ہے، لیکن اگر وہ رشتے دار بھی ہو تو اس کی کفالت کا اجر بھی دگنا ہے ایک صدقے کا، دوسرا صلہ رحمی کا، اسی طرح غلام آزاد کرنے کی بھی بڑی فضیلت احادیث میں آئی ہے، آج کل اس کی ایک صورت کسی مقروض کو قرض کے بوجھ سے نجات دلا دینا ہو سکتی ہے، یہ بھی ایک گونہ فک رقبہ ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

یا فقیر خاکسار کو

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

یا خاکسار مسکین کو

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

یاخاکسار مسکین کو کھانا کھلانا۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

یا خاکسار مسکین کو

طاہر القادری Tahir ul Qadri

یا شدید غربت کے مارے ہوئے محتاج کو جو محض خاک نشین (اور بے گھر) ہے،