Skip to main content

قُلْ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاۤءَكُمُ الْحَـقُّ مِنْ رَّبِّكُمْۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا يَهْتَدِىْ لِنَفْسِهٖۚ وَمَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَاۚ وَمَاۤ اَنَاۡ عَلَيْكُمْ بِوَكِيْلٍۗ

قُلْ
کہہ دیجیے
يَٰٓأَيُّهَا
اے
ٱلنَّاسُ
لوگو
قَدْ
تحقیق
جَآءَكُمُ
آچکا تمہارے پاس
ٱلْحَقُّ
حق
مِن
طرف سے
رَّبِّكُمْۖ
تمہارے رب کی
فَمَنِ
تو جس نے
ٱهْتَدَىٰ
ہدایت پائی
فَإِنَّمَا
تو بیشک
يَهْتَدِى
وہ ہدایت پائے گا
لِنَفْسِهِۦۖ
اپنی ذات کے لیے
وَمَن
اور جو
ضَلَّ
بھٹک گیا
فَإِنَّمَا
تو بیشک
يَضِلُّ
وہ بھٹکے گا
عَلَيْهَاۖ
اپنے اوپر
وَمَآ
اور نہیں ہوں
أَنَا۠
میں
عَلَيْكُم
تم پر
بِوَكِيلٍ
کارساز۔ حوالہ دار

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اے محمدؐ، کہہ دو کہ “لوگو، تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق آ چکا ہے اب جو سیدھی راہ اختیار کرے اس کی راست روی اسی کے لیے مفید ہے، اور جو گمراہ رہے اس کی گمراہی اسی کے لیے تباہ کن ہے اور میں تمہارے اوپر کوئی حوالہ دار نہیں ہوں"

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اے محمدؐ، کہہ دو کہ “لوگو، تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق آ چکا ہے اب جو سیدھی راہ اختیار کرے اس کی راست روی اسی کے لیے مفید ہے، اور جو گمراہ رہے اس کی گمراہی اسی کے لیے تباہ کن ہے اور میں تمہارے اوپر کوئی حوالہ دار نہیں ہوں"

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

تم فرماؤ اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق آیا تو جو راہ پر آیا وہ اپنے بھلے کو راہ پر آیا اور جو بہکا وہ اپنے برے کو بہکا اور کچھ میں کڑوڑا (حاکمِ اعلیٰ) نہیں

احمد علی Ahmed Ali

کہہ دو اے لوگو تمہیں تمہارے رب سے حق پہنچ چکا ہے پس جو کوئی راہ پر آئے سو وہ اپنے بھلے کے لیے راہ پاتا ہے اور جو گمراہ رہے گا اس کا وبال اسی پر پڑے گا اور میں تمہارا ذمہ دارنہیں ہوں

أحسن البيان Ahsanul Bayan

آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! تمہارے پاس حق تمہارے رب کی طرف سے پہنچ چکا ہے (١) اس لئے جو شخص راہ راست پر آجائے سو وہ اپنے واسطے راہ راست پر آئے گا (٢) اور جو شخص بےراہ رہے گا تو اس کا بےراہ ہونا اسی پر پڑے گا (٣) اور میں تم پر مسلط نہیں کیا گیا۔

١٠٨۔١ حق سے مراد قرآن اور دین اسلام ہے، جس میں توحید الٰہی اور رسالت محمدیہ پر ایمان نہایت ضروری ہے۔
١٠٨۔٢ یعنی اس کا فائدہ اسی کو ہوگا کہ قیامت والے دن اللہ کے عذاب سے بچ جائے گا۔
١٠٨۔ ٣ یعنی اس کا نقصان اور وبال اسی پر پڑے گا کہ قیامت کو جہنم کی آگ میں جلے گا۔ گویا کوئی ہدایت کا راستہ اپنائے گا تو، تو اس سے کوئی اللہ کی طاقت میں اضافہ نہیں ہو جائے گا اور اگر کوئی کفر اور ضلالت کو اختیار کرے گا تو اس سے اللہ کی حکومت و طاقت میں کوئی فرق واقع نہیں ہو جائے گا۔ گویا ایمان و ہدایت کی ترغیب اور کفر و ضلالت سے بچنے کی تاکید و ترتیب، دونوں سے مقصد انسانوں ہی کی بھلائی اور خیر خواہی ہے۔ اللہ کی اپنی کوئی غرض نہیں۔
١٠٨۔٤یعنی یہ ذمہ داری مجھے نہیں سونپی گئی ہے کہ میں ہر صورت میں تمہیں مسلمان بنا کر چھوڑوں بلکہ میں تو صرف بشیر اور نذیر اور مبلغ اور داعی ہوں۔ میرا کام صرف اہل ایمان کو خوشخبری دینا، نافرمانوں کو اللہ کے عذاب اور اس کے مواخذے سے ڈرانا اور اللہ کے پیغام کی دعوت وتبلیغ ہے۔ کوئی اس دعوت کو مان کر ایمان لاتا ہے تو ٹھیک ہے، کوئی نہیں مانتا تو میں اس بات کا مکلف نہیں ہوں کہ اس سے زبردستی منوا کر چھوڑوں۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

کہہ دو کہ لوگو تمہارے پروردگار کے ہاں سے تمہارے پاس حق آچکا ہے تو جو کوئی ہدایت حاصل کرتا ہے تو ہدایت سے اپنے ہی حق میں بھلائی کرتا ہے۔ اور جو گمراہی اختیار کرتا ہے تو گمراہی سے اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔ اور میں تمہارا وکیل نہیں ہوں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! تمہارے پاس حق تمہارے رب کی طرف سے پہنچ چکا ہے، اس لیے جو شخص راه راست پر آجائے سو وه اپنے واسطے راه راست پر آئے گا اور جو شخص بے راه رہے گا تو اس کا بے راه ہونا اسی پر پڑے گا اور میں تم پر مسلط نہیں کیا گیا

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

(اے رسول) کہہ دیجئے! اے لوگو تمہارے پروردگار کی طرف سے حق آچکا ہے پس جو ہدایت حاصل کرے گا تو وہ اپنے فائدہ کے لئے کرے گا اور جو گمراہ ہوگا اس کا نقصان بھی اسی کو ہوگا میں تم پر نگہبان و نگران نہیں ہوں۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

پیغمبر آپ کہہ دیجئے کہ تمہارے پاس پروردگار کی طرف سے حق آچکا ہے اب جو ہدایت حاصل کرے گا وہ اپنے فائدہ کے لئے کرے گا اور جو گمراہ ہوجائے گا اس کا نقصان بھی اسی کو ہوگا اور میں تمہارا ذمہ دار نہیں ہوں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

فرما دیجئے: اے لوگو! بیشک تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے حق آگیا ہے، سو جس نے راہِ ہدایت اختیار کی بس وہ اپنے ہی فائدے کے لئے ہدایت اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ ہوگیا بس وہ اپنی ہی ہلاکت کے لئے گمراہ ہوتا ہے اور میں تمہارے اوپر داروغہ نہیں ہوں (کہ تمہیں سختی سے راہِ ہدایت پر لے آؤں)،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

نافرمان کا اپنا نقصان ہے
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے حبیب حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرماتا ہے کہ لوگوں کو آپ خبردار کریں کہ جو میں لایا ہوں، وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ بلا شک و شبہ وہ نرا حق ہے جو اس کی اتباع کرے گا وہ اپنے نفع کو جمع کرے گا۔ اور جو اس سے بھٹک جائے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا۔ میں تم پر وکیل نہیں ہوں کہ تمہیں ایمان پر مجبور کروں۔ میں تو کہنے سننے والا ہوں۔ ہادی صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو خود بھی میرے احکام اور وحی کا تابعدار رہ اور اسی پر مضبوطی سے جما رہ۔ لوگوں کی مخالفت کی کوئی پرواہ نہ کر۔ ان کی ایذاؤں پر صبر و تحمل سے کام لے یہاں تک کہ خود اللہ تجھ میں اور ان میں فیصلہ کر دے۔ وہ بہترین فیصلے کرنے والا ہے جس کا کوئی فیصلہ عدل سے حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔