Skip to main content

قُلْ مَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَاۤءِ وَالْاَرْضِ اَمَّنْ يَّمْلِكُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَ مَنْ يُّخْرِجُ الْحَـىَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَـىِّ وَمَنْ يُّدَبِّرُ الْاَمْرَۗ فَسَيَـقُوْلُوْنَ اللّٰهُۚ فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ

قُلْ
کہہ دیجیے
مَن
کون
يَرْزُقُكُم
رزق دیتا ہے تم کو
مِّنَ
سے
ٱلسَّمَآءِ
آسمان
وَٱلْأَرْضِ
اور زمین سے
أَمَّن
یا کون
يَمْلِكُ
مالک ہوسکتا ہے
ٱلسَّمْعَ
سماعت کا
وَٱلْأَبْصَٰرَ
اور نگاہوں کا
وَمَن
اور کون
يُخْرِجُ
نکالتا ہے
ٱلْحَىَّ
زندہ کو
مِنَ
سے
ٱلْمَيِّتِ
مردہ
وَيُخْرِجُ
اور نکالتا ہے
ٱلْمَيِّتَ
مردہ کو
مِنَ
سے
ٱلْحَىِّ
زندہ سے
وَمَن
اور کون
يُدَبِّرُ
تدبیر کرتا ہے
ٱلْأَمْرَۚ
کام کی
فَسَيَقُولُونَ
پس عنقریب وہ کہیں گے
ٱللَّهُۚ
اللہ تعالیٰ
فَقُلْ
تو کہہ دیجیے
أَفَلَا
کیا بھلا نہیں
تَتَّقُونَ
تم تقوی کرتے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اِن سے پُوچھو، کون تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے؟ یہ سماعت اور بینائی کی قوتیں کس کے اختیار میں ہیں؟ کون بے جان میں سے جاندار کو اور جاندار میں سے بے جان کو نکالتا ہے؟ کون اِس نظم عالم کی تدبیر کر رہا ہے؟ وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ کہو، پھر تم (حقیقت کے خلاف چلنے سے) پرہیز نہیں کرتے؟

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اِن سے پُوچھو، کون تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے؟ یہ سماعت اور بینائی کی قوتیں کس کے اختیار میں ہیں؟ کون بے جان میں سے جاندار کو اور جاندار میں سے بے جان کو نکالتا ہے؟ کون اِس نظم عالم کی تدبیر کر رہا ہے؟ وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ کہو، پھر تم (حقیقت کے خلاف چلنے سے) پرہیز نہیں کرتے؟

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

تم فرماؤ تمہیں کون روزی دیتا ہے آسمان اور زمین سے یا کون مالک ہے کان اور آنکھوں کا اور کون نکالتا ہے زندہ کو مردے سے اور نکالتا ہے مردہ کو زندہ سے اور کون تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے تو اب کہیں گے کہ اللہ تو تم فرماؤ تو کیوں نہیں ڈرتے

احمد علی Ahmed Ali

کہو تمہیں آسمان اور زمین سے کون روزی دیتا ہے یا کانوں اور آنکھوں کا کون مالک ہے اور زندہ کو مردہ سے کون نکلتا ہے اور مردہ کو زندہ سے کون نکلتا ہے اور سب کاموں کا کون انتظام کرتا ہے سو کہیں گے کہ اللہ تو کہہ دو کہ پھر (اللہ) سے کیوں نہیں ڈرتے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

آپ کہئے کہ وہ کون ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق پہنچاتا ہے یا وہ کون ہے جو کانوں اور آنکھوں پر پورا اختیار رکھتا ہے اور وہ کون ہے جو زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے اور وہ کون ہے جو تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے؟ ضرور وہ یہی کہیں گے کہ ' اللہ ' (١) تو ان سے کہیئے کہ پھر کیوں نہیں ڈرتے۔

٣١۔١ اس آیت سے بھی واضح ہے کہ مشرکین اللہ تعالٰی کی مالکیت، خالقیت، ربویت اور اس کے مدبر
الامور ہونے کو تسلیم کرتے تھے۔ لیکن اس کے باوجود چونکہ وہ اس کی الوہیت میں دوسروں کو شریک ٹھہراتے تھے، اس لئے اللہ تعالٰی انہیں جہنم کا ایندھن قرار دیا۔ آج کل کے مدعیان ایمان بھی اسی توحید الوہیت کے منکر ہیں۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

(ان سے) پوچھو کہ تم کو آسمان اور زمین میں رزق کون دیتا ہے یا (تمہارے) کانوں اور آنکھوں کا مالک کون ہے اور بےجان سے جاندار کون پیدا کرتا ہے اور دنیا کے کاموں کا انتظام کون کرتا ہے۔ جھٹ کہہ دیں گے کہ خدا۔ تو کہو کہ پھر تم (خدا سے) ڈرتے کیوں نہیں؟

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

آپ کہیے کہ وه کون ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق پہنچاتا ہے یا وه کون ہے جو کانوں اور آنکھوں پر پورا اختیار رکھتا ہے اور وه کون ہے جو زنده کو مرده سے نکالتا ہے اور مرده کو زنده سے نکالتا ہے اور وه کون ہے جو تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے؟ ضرور وه یہی کہیں گے کہ اللہ تو ان سے کہیے کہ پھر کیوں نہیں ڈرتے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اے پیغمبر) ان لوگوں سے کہو (پوچھو) وہ کون ہے جو تمہیں آسمان و زمین سے روزی دیتا ہے؟ وہ کون ہے جو سمع و بصر (سننے اور دیکھنے کی طاقت) کا مالک ہے؟ وہ کون ہے جو زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ سے؟ اور وہ کون ہے جو کائنات کا انتظام کر رہا ہے؟ اس سوال پر وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ پس تم کہو (کہ اگر حقیقت حال یہی ہے) تو تم کیوں نہیں ڈرتے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

پیغمبر ذرا ان سے پوچھئے کہ تمہیں زمین و آسمان سے کون رزق دیتا ہے اور کون تمہاری سماعت و بصارت کا مالک ہے اور کون لَردہ سے زندہ اور زندہ سے لَردہ کو نکالتا ہے اور کون سارے امور کی تدبیرکرتا ہے تو یہ سب یہی کہیں گے کہ اللہ !تو آپ کہئے کہ پھر اس سے کیوں نہیں ڈرتے ہو

طاہر القادری Tahir ul Qadri

آپ (ان سے) فرما دیجئے: تمہیں آسمان اور زمین (یعنی اوپر اور نیچے) سے رزق کون دیتا ہے، یا (تمہارے) کان اور آنکھوں (یعنی سماعت و بصارت) کا مالک کون ہے، اور زندہ کو مُردہ (یعنی جاندار کو بے جان) سے کون نکالتا ہے اور مُردہ کو زندہ (یعنی بے جان کو جاندار) سے کون نکالتا ہے، اور (نظام ہائے کائنات کی) تدبیر کون فرماتا ہے؟ سو وہ کہہ اٹھیں گے کہ اللہ، تو آپ فرمائیے: پھرکیا تم (اس سے) ڈرتے نہیں،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

اللہ کی الوہیت کے منکر
اللہ کی ربوبیت کو مانتے ہوئے اس کی الوہیت کا انکار کرنے والے قریشیوں پر اللہ کی حجت پوری ہو رہی ہے کہ ان سے پوچھو گے کہ آسمانوں سے بارش کون برساتا ہے ؟ پھر اپنی قدرت سے زمین کو پھاڑ کر کھیتی و باغ کون اگاتا ہے ؟ دانے اور پھل کون پیدا کرتا ہے ؟ اس کے جواب میں یہ سب کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی۔ اس کے ہاتھ میں ہے چاہے روزی دے چاہے روک لے۔ کان آنکھیں بھی اس کے قبضے میں ہیں۔ دیکھنے کی سننے کی حالت بھی اسی کی دی ہوئی ہے اگر وہ چاہے اندھا بہرا بنا دے۔ پیدا کرنے والا وہی، اعضا کا دینے والا وہی ہے۔ وہ اسی قوت کو چھین لے تو کوئی نہیں دے سکتا۔ اس کی قدرت و عظمت کو دیکھو کہ مردے سے زندے کو پیدا کر دے، زندے سے مردے کو نکالے۔ وہی تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے۔ ہر چیز کی بادشاہت اسی کے ہاتھ ہے۔ سب کو وہی پناہ دیتا ہے اس کے مجرم کو کوئی پناہ نہیں دے سکتا۔ وہی متصرف و حاکم ہے کوئی اس سے باز پرس نہیں کرسکتا وہ سب پر حاکم ہے آسمان و زمین اس کے قبضے میں ہر تر و خشک کا مالک وہی ہے عالم بالا اور سفلی اسی کا ہے۔ کل انس و جن فرشتے اور مخلوق اس کے سامنے عاجز و بےکس ہیں۔ ہر ایک پست و لاچار ہے۔ ان سب باتوں کا ان مشرکین کو بھی اقرار ہے۔ پھر کیا بات ہے جو یہ تقویٰ اور پرہیزگاری اختیار نہیں کرتے۔ جہالت وغبادت سے دوسروں کی عبادت کرتے ہیں۔ فاعل خود مختار اللہ کو جانتے ہوئے رب ومالک مانتے ہوئے معبود سمجھتے ہوئے پھر بھی دوسروں کی پوجا کرتے ہیں۔ وہی ہے تم سب کا سچا معبود اللہ تعالیٰ وکیل ہے اس کے سوا تمام معبود باطل ہیں وہ اکیلا ہے بےشریک ہے۔ مستحق عبادت صرف وہی ہے۔ حق ایک ہی ہے۔ اس کے سوا سب کچھ باطل ہے۔ پس تمہیں اس کی عبادت سے ہٹ کر اوروں کی عبادت کی طرف نہ جانا چاہیے یاد رکھو وہی رب العلمین ہے وہی ہر چیز میں متصرف ہے۔ کافروں پر اللہ کی بات ثابت ہوچکی ہے، ان کی عقل ماری گئی ہے۔ خالق رازق متصرف مالک صرف اللہ کو مانتے ہوئے اس کے رسولوں کا خلاف کر کے اس کی توحید کو نہیں مانتے۔ اپنی بدبختی سے جہنم کی طرف بڑھتے جا رہے ہیں۔ انہیں ایمان نصیب نہیں ہوگا۔