Skip to main content

وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِيْهِ ۗ وَ لَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَـقُضِىَ بَيْنَهُمْ ۗ وَاِنَّهُمْ لَفِىْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِيْبٍ

وَلَقَدْ
اور البتہ تحقیق
ءَاتَيْنَا
دی ہم نے
مُوسَى
موسیٰ کو
ٱلْكِتَٰبَ
کتاب
فَٱخْتُلِفَ
پس اختلاف کیا گیا
فِيهِۚ
اس میں
وَلَوْلَا
اور اگر نہ ہوتی
كَلِمَةٌ
ایک بات
سَبَقَتْ
جو گزر چکی
مِن
سے
رَّبِّكَ
تیرے رب کی طرف سے
لَقُضِىَ
البتہ فیصلہ کردیا جاتا
بَيْنَهُمْۚ
ان کے درمیان
وَإِنَّهُمْ
اور بیشک وہ
لَفِى
البتہ میں ہیں
شَكٍّ
شک (میں ہیں)
مِّنْهُ
اس کی طرف سے
مُرِيبٍ
بےچین کرنے والے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

ہم اس سے پہلے موسیٰؑ کو بھی کتاب دے چکے ہیں اور اس کے بارے میں بھی اختلاف کیا گیا تھا (جس طرح آج اِس کتاب کے بارے میں کیا جا رہا ہے جو تمہیں دی گئی ہے) اگر تیرے رب کی طرف سے ایک بات پہلے ہی طے نہ کر دی گئی ہوتی تو اِن اختلاف کرنے والوں کے درمیان کبھی کا فیصلہ چکا دیا گیا ہوتا یہ واقعہ ہے کہ یہ لوگ اس کی طرف سے شک اور خلجان میں پڑے ہوئے ہیں

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

ہم اس سے پہلے موسیٰؑ کو بھی کتاب دے چکے ہیں اور اس کے بارے میں بھی اختلاف کیا گیا تھا (جس طرح آج اِس کتاب کے بارے میں کیا جا رہا ہے جو تمہیں دی گئی ہے) اگر تیرے رب کی طرف سے ایک بات پہلے ہی طے نہ کر دی گئی ہوتی تو اِن اختلاف کرنے والوں کے درمیان کبھی کا فیصلہ چکا دیا گیا ہوتا یہ واقعہ ہے کہ یہ لوگ اس کی طرف سے شک اور خلجان میں پڑے ہوئے ہیں

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو اس میں پھوٹ پڑگئی اگر تمہارے رب کی ایک بات پہلے نہ ہوچکی ہوتی تو جبھی ان کا فیصلہ کردیا جاتا اور بیشک وہ اس کی طرف سے دھوکا ڈالنے والے شک میں ہیں

احمد علی Ahmed Ali

اور البتہ ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی پھراس میں اختلاف کیا گیا اور اگر تیرے رب کی طرف سے ایک بات مقرر نہ ہو چکی ہوتی تو ان میں فیصلہ ہو جاتا اور بے شک اس کی طرف سے ایسے شک میں ہیں کہ مطمئن نہیں ہو نے دیتا

أحسن البيان Ahsanul Bayan

یقیناً ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی۔ پھر اس میں اختلاف کیا گیا، (١) اگر پہلے ہی آپ کے رب کی بات صادر نہ ہوگئی ہوتی تو یقیناً ان کا فیصلہ کر دیا جاتا (٢) انہیں تو اس میں سخت شبہ ہے۔

١١٠۔١ یعنی کسی نے اس کتاب کو مانا اور کسی نے نہیں مانا۔ یہ نبی کو تسلی دی جا رہی ہے کہ پچھلے انبیاء کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوتا آیا ہے، کچھ لوگ ان پر ایمان لانے والے ہوتے اور دوسرے تکذیب کرنے والے۔ اس لئے آپ اپنی تکذیب سے نہ گھبرائیں۔
١١٠۔٢ اس سے مراد یہ ہے کہ اگر اللہ تعالٰی نے پہلے ہی سے ان کے لئے عذاب کا ایک وقت مقرر کیا ہوا نہ ہوتا تو وہ انہیں فورا ہلاک کر ڈالتا۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو اس میں اختلاف کیا گیا اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے نہ ہوچکی ہوتی تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔ اور وہ تو اس سے قوی شبہے میں (پڑے ہوئے) ہیں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

یقیناً ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی۔ پھر اس میں اختلاف کیا گیا، اگر پہلے ہی آپ کے رب کی بات صادر نہ ہوگئی ہوتی تو یقیناً ان کا فیصلہ کر دیا جاتا، انہیں تو اس میں سخت شبہ ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور بے شک ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی تو اس میں اختلاف کیا گیا اور اگر آپ کے پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے سے طئے نہ کر دی گئی ہوتی (کہ سزا دینے میں جلدی نہیں کرنی) تو کبھی کا ان کے درمیان فیصلہ کر دیا جاتا اور وہ اس (عذاب) کے بارے میں تردد انگیز شک میں مبتلا ہیں۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور ہم نے موسٰی علیھ السّلام کو کتاب دی تو اس میں بھی اختلاف پیدا کردیا گیا اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے پہلے بات نہ ہوگئی ہوتی تو ان کے درمیان فیصلہ کردیا جاتا اور یہ لوگ اس عذاب کی طرف سے شک میں پڑے ہوئے ہیں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور بیشک ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کو کتاب دی پھر اس میں اختلاف کیا جانے لگا، اور اگر آپ کے رب کی طرف سے ایک بات پہلے صادر نہ ہو چکی ہوتی تو ان کے درمیان ضرور فیصلہ کر دیا گیا ہوتا، اور وہ یقینًا اس (قرآن) کے بارے میں اضطراب انگیز شک میں مبتلا ہیں،