Skip to main content

وَكَاَيِّنْ مِّنْ اٰيَةٍ فِى السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ يَمُرُّوْنَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ

وَكَأَيِّن
اور کتنی ہی
مِّنْ
میں سے
ءَايَةٍ
نشانیوں
فِى
میں
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
آسمانوں
وَٱلْأَرْضِ
اور زمین (میں)
يَمُرُّونَ
وہ گزرتے رہتے ہیں
عَلَيْهَا
ان پر
وَهُمْ
اور وہ
عَنْهَا
ان سے
مُعْرِضُونَ
منہ موڑنے والے ہیں

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

زمین اور آسمانوں میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے یہ لوگ گزرتے رہتے ہیں اور ذرا توجہ نہیں کرتے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

زمین اور آسمانوں میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے یہ لوگ گزرتے رہتے ہیں اور ذرا توجہ نہیں کرتے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور کتنی نشانیاں ہیں آسمانوں اور زمین میں کہ اکثر لوگ ان پر گزرتے ہیں اور ان سے بے خبر رہتے ہیں،

احمد علی Ahmed Ali

اور آسمانوں اور زمین میں بہتی سی نشانیاں ہیں جن پر سے یہ گزرتے ہیں اوران سے منہ پھیر لیتے ہیں

أحسن البيان Ahsanul Bayan

آسمانوں اور زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں، جن سے یہ منہ موڑے گزر جاتے ہیں (١)۔

١٠٥۔١ آسمان اور زمین کی پیدائش اور ان میں بیشمار چیزوں کا وجود، اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ایک خالق و صانع ہے جس نے ان چیزوں کو وجود بخشا ہے اور ایک مدبر ہے جو ان کا ایسا انتظام کر رہا ہے کہ صدیوں سے یہ نظام چل رہا ہے اور ان میں کبھی آپس میں ٹکراؤ اور تصادم نہیں ہوا لیکن لوگ ان چیزوں کو دیکھتے ہوئے یوں ہی گزر جاتے ہیں ان پر غو و فکر کرتے ہیں اور نہ ان سے ان کی معرفت حاصل کرتے ہیں۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور آسمان و زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں جن پر یہ گزرتے ہیں اور ان سے اعراض کرتے ہیں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

آسمانوں اور زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں۔ جن سے یہ منھ موڑے گزر جاتے ہیں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور آسمانوں اور زمین میں (خدا کے وجود اور اس کی قدرت کی) کتنی ہی نشانیاں موجود ہیں مگر یہ لوگ ان سے روگردانی کرتے ہوئے گزر جاتے ہیں (اور کوئی توجہ نہیں کرتے)۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور زمین و آسمان میں بہت سی نشانیاں ہیں جن سے لوگ گزر جاتے ہیں اور کنارہ کش ہی رہتے ہیں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور آسمانوں اور زمین میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر ان لوگوں کا گزر ہوتا رہتا ہے اور وہ ان سے صرفِ نظر کئے ہوئے ہیں،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

بیان ہو رہا ہے قدرت کی بہت سی نشانیاں، وحدانیت کی بہت سے گواہیاں، دن رات ان کے سامنے ہیں، پھر بھی اکثر لوگ نہایت بےپرواہی اور سبک سری سے ان میں کبھی غور وفکر نہیں کرتے۔ کیا یہ اتنا وسیع آسمان، کیا یہ اس قدر پھیلی ہوئی، زمین، کیا یہ روشن ستارے یہ گردش والا سورج، چاند، یہ درخت اور یہ پہاڑ، یہ کھیتیاں اور سبزیاں، یہ تلاطم برپا کرنے والے سمندر، یہ بزور چلنے والی ہوائیں، یہ مختلف قسم کے رنگا رنگ میوے، یہ الگ الگ غلے اور قدرت کی بیشمار نشانیاں ایک عقل مند کو اس قدر بھی کام نہیں آسکتیں ؟ کہ وہ ان سے اپنے اللہ کی جو احد ہے، صمد ہے، فرد ہے، واحد ہے، لا شریک ہے، قادر وقیوم ہے، باقی اور کافی ہے اس ذات کو پہچان لیں اور اس کے ناموں اور صفتوں کے قائل ہوجائیں ؟
بلکہ ان میں سے اکثریت کی ذہنیت تو یہاں تک بگڑ چکی ہے کہ اللہ پر ایمان ہے پھر شرک سے دست برداری نہیں۔ آسمان و زمین پہاڑ اور درخت کا انسان اور دن کا خالق اللہ مانتے ہیں۔ لیکن پھر بھی اس کے سوا دوسروں کو اس کے ساتھ اس کا شریک ٹھراتے ہیں۔ یہ مشرکین حج کو آتے ہیں، احرام باندھ کر لبیک پکارتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ تیرا کوئی شریک ہیں، جو بھی شریک ہیں، ان کا خود کا مالک بھی تو ہے اور ان کی ملکیت کا مالک بھی تو ہی ہے۔ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ جب وہ اتنا کہتے ہیں کہ ہم حاضر ہیں الہٰی تیرا کوئی شریک نہیں تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے بس بس، یعنی اب آگے کچھ نہ کہو۔ فی الواقع شرک ظلم عظیم ہے کہ اللہ کے ساتھ دوسرے کی بھی عبادت۔ بخاری ومسلم میں ہے ابن مسعود (رض) نے رسالت پناہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کہ سب سے بڑا گناہ کیا ہے ؟ آپ نے جواب دیا کہ تیرا اللہ کے ساتھ شریک ٹھرانا حالانکہ اسی اکیلے نے تجھے پیدا کیا ہے۔ اسی طرح اسی آیت کے تحت میں منافقین بھی داخل ہیں۔ ان کے عمل اخلاص والے نہیں ہوتے بلکہ وہ ریا کار ہوتے ہیں اور ریا کاری بھی شرک ہے۔ قرآن کا فرمان ہے آیت ( اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَھُوَ خَادِعُھُمْ ۚ وَاِذَا قَامُوْٓا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى ۙ يُرَاۗءُوْنَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِيْلًا\014\02ۡۙ ) 4 ۔ النسآء ;142) ، منافق اللہ کو دھوکا دینا چاہتے ہیں حالانکہ اللہ کی طرف سے خود دھوکے میں ہیں۔ یہ نماز کو بڑے ہی سست ہو کر کھڑے ہوتے ہیں، صرف لوگوں کو دکھانا مقصود ہوتا ہے ذکر اللہ تو برائے نام ہوتا ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ بعض شرک بہت ہلکے اور پوشیدہ ہوتے ہیں خود کرنے والے کو بھی پتہ نہیں چلتا۔ چناچہ حضرت حذیفہ (رض) ایک بیمار کے پاس گئے، اس کے بازو پر ایک دھاگا بندھا ہوا دیکھ کر آپ نے اسے توڑ دیا اور یہی آیت پڑھی کہ ایماندار ہوتے ہوئے بھی مشرک بنتے ہو ؟ حدیث شریف میں ہے اللہ کے سوا دوسرے کے نام کی جس نے قسم کھائی وہ مشرک ہوگیا۔ ملاحظہ ہو ترمذی شریف۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے کہ جھاڑ پھونک ڈورے دھاگے اور جھوٹے تعویذ شرک ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو توکل کے باعث سب سختیوں سے دور کردیتا ہے۔ ( ابو داؤد وغیرہ) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی بیوی صاحبہ فرماتی ہیں کہ حضرت عبداللہ کی عادت تھی، جب کبھی باہر سے آتے زور سے کھنکھارتے، تھوکتے کہ گھر والے سمجھ جائیں اور آپ انہیں کسی ایس حالت میں نہ دیکھ پائیں کہ برا لگے۔ ایک دن اسی طرح آپ آئے اس وقت میرے پاس ایک بڑھیا تھی جو بوجہ بیماری کے مجھ پر دم جھاڑ کرنے کو آئی تھی میں نے آپ کی کھنکھار کی آواز سنتے ہی اسے چار پائی تلے چھپا دیا آپ آئے میرے پاس میری چار پائی پر بیٹھ گئے اور میرے گلے میں دھاگا دیکھ کر پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ میں نے کہا اس میں دم کرا کے میں نے باندھ لیا ہے . آپ نے اسے پکڑ کر توڑ دیا اور فرمایا عبداللہ کا گھر شرک سے بےنیاز ہے۔ خود میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ جھاڑ پھونک تعویدات اور ڈورے دھاگے شرک ہیں۔ میں نے کہا یہ آپ کیسے فرماتے ہیں میری آنکھ دکھ رہی تھی، میں فلاں یہودی کے پاس جایا کرتی تھی، وہ دم جھارا کردیتا تھا تو سکون ہوجاتا تھا، آپ نے فرمایا تیری آنکھ میں شیطان چوکا مارا کرتا تھا اور اس کی پھونک سے وہ رک جاتا تھا تجھے یہ کافی تھا کہ وہ کہتی جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سکھایا ہے دعا (اذھب الباس رب الناس اشف وانت الشاف لا شفاء الا شفاوک شفاء لا یغدر سقما) ( مسند احمد) مسند احمد کی اور حدیث میں عیسیٰ بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ عبداللہ بن حکیم بیمار پڑے۔ ہم ان کی عیادت کے لئے گئے، ان سے کہا گیا کہ آپ کوئی ڈورا دھاگا لٹکا لیں تو اچھا ہو آپ نے فرمایا میں ڈورا دھاگا لٹکاؤں ؟ حالانکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے جو شخص جو چیز لٹکائے وہ اسی کے حوالہ کردیا جاتا ہے۔ مسند میں ہے جو شخص کوئی ڈورا دھاگا لٹکائے اس نے شرک کیا۔ ایک روایت میں ہے جو شخص ایسی کوئی چیز لٹکائے، اللہ اس کا کام پورا نہ کرے اور جو شخص اسے لٹکائے اللہ اسے لٹکا ہوا ہی رکھے . ایک حدیث قدسی میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں تمام شریکوں سے زیادہ بےنیاز اور بےپرواہ ہوں جو شخص اپنے کسی کام میں میرا کوئی شریک ٹھرائے میں اسے اور اس کے شریک کو چھوڑ دیتا ہوں۔ ( مسلم) مسنند میں ہے قیامت کے دن جب کہ اول آخر سب جمع ہوں گے، اللہ کی طرف سے ایک منادی ندا کرے گا کہ جس نے اپنے عمل میں شرک کیا ہے، وہ اس کا ثواب اپنے شریک سے طلب کرلے، اللہ تعالیٰ تمام شرکاء سے بڑھ کر شرک سے بےنیاز ہے۔ مسند میں ہے آپ فرماتے ہیں مجھے تم پر سب سے زیادہ ڈر چھوٹے شرک کا ہے، لوگوں نے پوچھا وہ کیا ہے ؟ فرمایا ریا کاری، قیامت کے دن لوگوں کو جزائے اعمال دی جائے گی۔ اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے ریا کرو تم جاؤ اور جن کے دکھانے سنانے کے لئے تم نے عمل کئے تھے، انہیں سے اپنا اجر طلب کرو اور دیکھو کہ وہ دیتے ہیں یا نہیں ؟ مسند میں ہے آپ فرماتے ہیں جو شخص کوئی بد شگونی لے کر اپنے کام سے لوٹ جائے وہ مشرک ہوگیا۔ صحابہ (علیہ السلام) نے دریافت کیا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پھر اس کا کفارہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ کہنا دعا (اللہم لا خیر الا خیرک ولا طیر الا طیرک ولا الہ غیرک) یعنی اے اللہ سب بھلائیاں سب نیک شگون تیرے ہی ہاتھ میں ہیں، تیرے سوا کوئی بھلائیوں اور نیک شگونیوں والا نہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا کہ لوگو شرک سے بچو وہ تو چیونٹی کی چال سے زیادہ پوشیدہ چیز ہے، اس پر حضرت عبداللہ بن حرب اور حضرت قیس بن مصابب کھڑے ہوگئے اور کہا یا تو آپ اس کی دلیل پیش کیجئے یا ہم جائیں اور حضرت عمر (رض) سے آپ کی شکایت کریں۔ آپ نے فرمایا لو دلیل لو۔ ہمیں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دن خطبہ سنایا اور فرمایا لوگو ! شرک سے بچو وہ تو چیونٹی کی چال سے بھی زیادہ پوشیدہ ہے پس کسی نے آپ سے پوچھا کہ پھر اس سے بچاؤ کیسے ہوسکتا ہے ؟ فرمایا یہ دعا پڑھا کرو
دعا (اللہم انا نعوذ بک ان نشرک بک شیئا تعلمہ ونستغفرک مما لا نعلم)
ایک اور روایت میں ہے کہ یہ سوال کرنے والے حضرت ابوبکر صدیق (رض) تھے۔ آپ نے پوچھا تھا کہ یا رسول اللہ شرک تو یہی ہے کہ اللہ کے ساتھ دوسرے کو پکارا جائے۔ اس حدیث میں دعا کے الفاظ یہ ہیں آیت (اللہم انی اعوذ بک ان اشرک بک وانا اعلم واستغفرک مما لا اعلم ( مسند ابو یعلی) ابو داؤد وغیرہ میں ہے کہ حضرت صدیق اکبر (رض) نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسی دعا سکھائیے جسے میں صبح شام اور سوتے وقت پڑھا کروں تو آپ نے فرمایا یہ دعا پڑھ
دعا (اللہم فاطر السموت والارض عالم الغیب الشہادۃ رب کل شئی وملیکہ اشہد ان لا الہ الا انت اعوذ بک من شر نفسی ومن شر الشیطان وشر کہ )
ایک روایت میں ہے کہ مجھے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ دعا پڑھنی سکھائی اس کے آخر میں یہ الفاظ بھی ہیں دعا (وان اقترف علی نفسی سوا او اجرہ الی مسلم۔ )
فرمان ہے کہ کیا ان مشرکوں کو اس بات کا خوف نہیں ہے کہ اگر اللہ کو منظور ہو تو چاروں طرف سے عذاب الہٰی انہیں اس طرح آ گھیرے کہ انہیں پتہ بھی نہ چلے۔ جیسے ارشاد ہے آیت ( اَفَاَمِنَ الَّذِيْنَ مَكَرُوا السَّيِّاٰتِ اَنْ يَّخْسِفَ اللّٰهُ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ يَاْتِيَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُوْنَ 45؀ۙ ) 16 ۔ النحل ;45) یعنی مکاریاں اور برائیاں کرنے والے کیا اس بات سے نڈر ہوگئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں زمین میں دھنسا دے یا ایسی جگہ سے عذاب لا دے کہ انہیں شعور بھی نہ ہو یا انہیں لیٹتے بیٹھتے ہی پکڑ لے یا ہوشیار کر کے تھام لے۔ اللہ کسی بات میں عاجز نہیں، یہ تو صرف اس کی رحمت ورافت ہے کہ گنا کریں اور پھلیں پھولیں۔ فرمان اللہ ہے کہ بستیوں کے گنہگار اس بات سے بےخطرے ہوگئے ہیں کہ ان کے پاس راتوں کو ان کے سوتے ہوئے ہی عذاب آجائیں یا دن دھاڑے بلکہ ہنستے کھیلتے ہوئے عذاب آ دھمکیں اللہ کے مکر سے بےخوف نہ ہونا چاہئے ایسے لوگ سخت نقصان اٹھاتے ہیں۔