Skip to main content

مَثَلُ الْجَـنَّةِ الَّتِىْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ ۗ تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ ۗ اُكُلُهَا دَاۤٮِٕمٌ وَّظِلُّهَا ۗ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِيْنَ اتَّقَوْا ۖ وَّعُقْبَى الْكٰفِرِيْنَ النَّارُ

مَّثَلُ
مثال
ٱلْجَنَّةِ
اس جنت کی
ٱلَّتِى
وہ جو
وُعِدَ
وعدہ کئے گئے
ٱلْمُتَّقُونَۖ
متقی لوگ
تَجْرِى
بہتی ہیں
مِن
اس کے
تَحْتِهَا
نیچے سے
ٱلْأَنْهَٰرُۖ
نہریں
أُكُلُهَا
اس کے پھل
دَآئِمٌ
دائمی ہیں
وَظِلُّهَاۚ
اور سایہ اس کا
تِلْكَ
یہ
عُقْبَى
انجام ہے
ٱلَّذِينَ
ان لوگوں کا
ٱتَّقَوا۟ۖ
جنہوں نے تقویٰ کیا
وَّعُقْبَى
اور انجام
ٱلْكَٰفِرِينَ
کافروں کا
ٱلنَّارُ
آگ ہے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

خدا ترس انسانوں کے لیے جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اس کی شان یہ ہے کہ اس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، اس کے پھل دائمی ہیں اور اس کا سایہ لازوال یہ انجام ہے متقی لوگوں کا اور منکرین حق کا انجام یہ ہے کہ ان کے لیے دوزخ کی آگ ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

خدا ترس انسانوں کے لیے جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اس کی شان یہ ہے کہ اس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، اس کے پھل دائمی ہیں اور اس کا سایہ لازوال یہ انجام ہے متقی لوگوں کا اور منکرین حق کا انجام یہ ہے کہ ان کے لیے دوزخ کی آگ ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

احوال اس جنت کا کہ ڈر والوں کے لیے جس کا وعدہ ہے، اس کے نیچے نہریں بہتی ہیں، اس کے میوے ہمیشہ اور اس کا سایہ ڈر والوں کا تو یہ انجام ہے اور کافروں کا انجام آ گ،

احمد علی Ahmed Ali

اس جنت کا حال جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کے نیچے نہریں بہتی ہیں جس کے میوے اور سائے ہمیشہ رہیں گے یہ پرہیزگاروں کا انجام ہے اور کافروں کا انجام آگ ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اس جنت کی صفت، جس کا وعدہ پرہیزگاروں کو دیا گیا ہے یہ ہے کہ اس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ اس کا میوہ ہمیشگی والا ہے اور اس کا سایہ بھی یہ ہے انجام پرہزگاروں کا (١) اور کافروں کا انجام دوزخ ہے۔

٣٥۔١ اہل کفار کے انجام بد کے ساتھ اہل ایمان کا حسن انجام بیان فرما دیا تاکہ جنت کے حصول میں رغبت اور شوق پیدا ہو، اس مقام پر امام ابن کثیر نے جنت کی نعمتوں، لذتوں اور ان کی خصوصی کیفیات پر مشتمل احادیث بیان فرمائی ہیں۔ جنہیں وہاں ملاحظہ کر لیا جائے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

جس باغ کا متقیوں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کے اوصاف یہ ہیں کہ اس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ اس کے پھل ہمیشہ (قائم رہنے والے) ہیں اور اس کے سائے بھی۔ یہ ان لوگوں کا انجام ہے جو متقی ہیں۔ اور کافروں کا انجام دوزخ ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اس جنت کی صفت، جس کا وعده پرہیزگاروں کو دیا گیا ہے یہ ہے کہ اس کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہیں۔ اس کا میوه ہمیشگی واﻻ ہے اور اس کا سایہ بھی۔ یہ ہے انجام پرہیزگاروں کا، اور کافروں کا انجام کار دوزخ ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

جس جنت کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کی صفت یہ ہے کہ اس کے نیچے سے نہریں جاری ہیں اس کے پھل دائمی ہیں اور اس کا سایہ بھی (لازوال) ہے یہ پرہیزگاروں کا انجام ہے اور کافروں کا انجام آتشِ دوزخ ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

جس جنت کا صاحبانِ تقویٰ سے وعدہ کیا گیا ہے اس کی مثال یہ ہے کہ اس کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور اس کے پھل دائمی ہوں گے اور سایہ بھی ہمیشہ رہے گا -یہ صاحبان هتقوٰی کی عاقبت ہے اور کفار کا انجام کار بہرحال جّہنم ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اس جنت کا حال جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا گیا ہے (یہ ہے) کہ اس کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہیں، اس کا پھل بھی ہمیشہ رہنے والا ہے اور اس کا سایہ (بھی)، یہ ان لوگوں کا (حسنِ) انجام ہے جنہوں نے تقوٰی اختیار کیا، اور کافروں کا انجام آتشِ دوزخ ہے،