Skip to main content
bismillah
الٓمٓرۚ
ال م ر
تِلْكَ
یہ
ءَايَٰتُ
آیات ہیں
ٱلْكِتَٰبِۗ
کتاب کی
وَٱلَّذِىٓ
اور جو چیز
أُنزِلَ
اتاری گئی
إِلَيْكَ
آپ کی طرف
مِن
ہے
رَّبِّكَ
آپ کے رب کی طرف سے
ٱلْحَقُّ
حق
وَلَٰكِنَّ
لیکن
أَكْثَرَ
اکثر
ٱلنَّاسِ
لوگ
لَا
نہیں
يُؤْمِنُونَ
ایمان لاتے

ا ل م ر یہ کتاب الٰہی کی آیات ہیں، اور جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ عین حق ہے، مگر (تمہاری قوم کے) اکثر لوگ مان نہیں رہے ہیں

تفسير
ٱللَّهُ
اللہ تعالیٰ
ٱلَّذِى
وہ ذات ہے
رَفَعَ
جس نے بلند کیا
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
آسمانوں کو
بِغَيْرِ
بغیر
عَمَدٍ
ستونوں کے
تَرَوْنَهَاۖ
تم دیکھتے ہو ان کو
ثُمَّ
پھر
ٱسْتَوَىٰ
وہ مستوی ہوا
عَلَى
پر
ٱلْعَرْشِۖ
عرش
وَسَخَّرَ
اور اس نے مسخر کیا
ٱلشَّمْسَ
سورج کو
وَٱلْقَمَرَۖ
اور چاند کو
كُلٌّ
سب
يَجْرِى
چل رہے ہیں
لِأَجَلٍ
وقت تک
مُّسَمًّىۚ
ایک معلوم
يُدَبِّرُ
وہی تدبیر کرتا ہے
ٱلْأَمْرَ
کام کی
يُفَصِّلُ
کھول کھول کر بیان کرتا ہے
ٱلْءَايَٰتِ
نشانیاں/ آیات
لَعَلَّكُم
تاکہ تم
بِلِقَآءِ
ملاقات کا
رَبِّكُمْ
اپنے رب کے ساتھ
تُوقِنُونَ
تم یقین کرو

وہ اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں کو ایسے سہاروں کے بغیر قائم کیا جو تم کو نظر آتے ہو ں، پھر وہ اپنے تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہوا، اور اُس نے آفتاب و ماہتاب کو ایک قانون کا پابند بنایا اِس سارے نظام کی ہر چیز ایک وقت مقرر تک کے لیے چل رہی ہے اور اللہ ہی اِس سارے کام کی تدبیر فرما رہا ہے وہ نشانیاں کھول کھول کر بیان کرتا ہے، شاید کہ تم اپنے رب کی ملاقات کا یقین کرو

تفسير
وَهُوَ
اور اللہ
ٱلَّذِى
وہ ذات ہے
مَدَّ
جس نے پھیلادیا
ٱلْأَرْضَ
زمین کو
وَجَعَلَ
اور بنائے
فِيهَا
اس میں
رَوَٰسِىَ
پہاڑ
وَأَنْهَٰرًاۖ
اور نہریں
وَمِن
اور سے
كُلِّ
ہر
ٱلثَّمَرَٰتِ
قسم کے پھلوں میں (سے)
جَعَلَ
اس نے بنائے
فِيهَا
اس میں
زَوْجَيْنِ
جوڑے
ٱثْنَيْنِۖ
دو ‘ دو (یعنی زمین میں)
يُغْشِى
ڈھانپتا ہے
ٱلَّيْلَ
رات کو
ٱلنَّهَارَۚ
دن پر
إِنَّ
بیشک
فِى
اس
ذَٰلِكَ
میں
لَءَايَٰتٍ
البتہ نشانیاں ہیں
لِّقَوْمٍ
اس قوم کے لئے
يَتَفَكَّرُونَ
جو غور و فکر کرتی ہو

اور وہی ہے جس نے یہ زمین پھیلا رکھی ہے، اس میں پہاڑوں کے کھو نٹے گاڑ رکھے ہیں اور دریا بہا دیے ہیں اُسی نے ہر طرح کے پھلوں کے جوڑے پیدا کیے ہیں، اور وہی دن پر رات طاری کرتا ہے ان ساری چیزوں میں بڑی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں

تفسير
وَفِى
اور میں
ٱلْأَرْضِ
زمین
قِطَعٌ
ٹکڑے ہیں/ خطے ہیں
مُّتَجَٰوِرَٰتٌ
باہم ملے ہوئے/ برابر برابر
وَجَنَّٰتٌ
اور باغات ہیں
مِّنْ
کے
أَعْنَٰبٍ
انگوروں
وَزَرْعٌ
اور کھیتیاں
وَنَخِيلٌ
اور کھجور کے درخت
صِنْوَانٌ
دوہرے
وَغَيْرُ
صِنْوَانٍ
اور اکہرے
يُسْقَىٰ
وہ پلائے جاتے ہیں
بِمَآءٍ
پانی
وَٰحِدٍ
ایک ہی
وَنُفَضِّلُ
اور ہم فضیلت دیتے ہیں
بَعْضَهَا
ان میں سے بعض کو
عَلَىٰ
پر
بَعْضٍ
بعض
فِى
میں
ٱلْأُكُلِۚ
پھلوں میں
إِنَّ
یقیناً
فِى
اس
ذَٰلِكَ
میں
لَءَايَٰتٍ
البتہ نشانیاں ہیں
لِّقَوْمٍ
اس قوم کے لئے
يَعْقِلُونَ
جو عقل سے کام لیتی ہو

اور دیکھو، زمین میں الگ الگ خطے پائے جاتے ہیں جو ایک دوسرے سے متصل واقع ہیں انگور کے باغ ہیں، کھیتیاں ہیں، کھجور کے درخت ہیں جن میں سے کچھ اکہرے ہیں اور کچھ دوہرے سب کو ایک ہی پانی سیراب کرتا ہے مگر مزے میں ہم کسی کو بہتر بنا دیتے ہیں اور کسی کو کمتر ان سب چیزوں میں بہت سی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں

تفسير
وَإِن
اور اگر
تَعْجَبْ
تم تعجب کرتے ہو
فَعَجَبٌ
تو تعجب والا ہے/ عجیب ہے
قَوْلُهُمْ
ان کا قول
أَءِذَا
کیا جب
كُنَّا
ہم ہوجائیں گے
تُرَٰبًا
مٹی
أَءِنَّا
کیا بیشک ہم
لَفِى
البتہ
خَلْقٍ
پیدائش میں ہوں گے
جَدِيدٍۗ
نئی
أُو۟لَٰٓئِكَ
یہی
ٱلَّذِينَ
وہ لوگ ہیں
كَفَرُوا۟
جنہوں نے کفر کیا
بِرَبِّهِمْۖ
اپنے رب کے ساتھ
وَأُو۟لَٰٓئِكَ
اور یہی لوگ ہیں
ٱلْأَغْلَٰلُ
طوق ہیں
فِىٓ
میں
أَعْنَاقِهِمْۖ
ان کی گردنوں
وَأُو۟لَٰٓئِكَ
اور یہی لوگ
أَصْحَٰبُ
والے ہیں
ٱلنَّارِۖ
آگ
هُمْ
وہ
فِيهَا
اس میں
خَٰلِدُونَ
ہمیشہ رہنے والے ہیں

اب اگر تمہیں تعجب کرنا ہے تو تعجب کے قابل لوگوں کا یہ قول ہے کہ "جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے تو کیا ہم نئے سرے سے پیدا کیے جائیں گے؟" یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب سے کفر کیا ہے یہ وہ لوگ ہیں جن کی گردنوں میں طوق پڑے ہوئے ہیں یہ جہنمی ہیں اور جہنم میں ہمیشہ رہیں گے

تفسير
وَيَسْتَعْجِلُونَكَ
اور وہ جلدی مانگتے ہیں آپ سے
بِٱلسَّيِّئَةِ
برائی کو/ عذاب کو
قَبْلَ
پہلے
ٱلْحَسَنَةِ
بھلائی سے
وَقَدْ
حالانکہ تحقیق
خَلَتْ
گزر چکیں
مِن
ان سے
قَبْلِهِمُ
پہلے
ٱلْمَثُلَٰتُۗ
عبرت ناک مثالیں/عقوبات
وَإِنَّ
اور بیشک
رَبَّكَ
تیرا رب
لَذُو
البتہ
مَغْفِرَةٍ
بخشش والا ہے
لِّلنَّاسِ
لوگوں کے لئے
عَلَىٰ
باوجود
ظُلْمِهِمْۖ
ان کے ظلم کے
وَإِنَّ
اور بیشک
رَبَّكَ
تیرا رب
لَشَدِيدُ
البتہ سخت
ٱلْعِقَابِ
سزا دینے والا ہے

یہ لوگ بھلائی سے پہلے برائی کے لیے جلدی مچا رہے ہیں حالانکہ ان سے پہلے (جو لوگ اس روش پر چلے ہیں ان پر خدا کے عذاب کی) عبرت ناک مثالیں گزر چکی ہیں حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب لوگوں کی زیادتیوں کے باوجود ان کے ساتھ چشم پوشی سے کام لیتا ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ تیرا رب سخت سزا دینے والا ہے

تفسير
وَيَقُولُ
اور کہتے ہیں
ٱلَّذِينَ
وہ لوگ
كَفَرُوا۟
جنہوں نے کفر کیا
لَوْلَآ
کیوں نہیں
أُنزِلَ
اتاری گئی
عَلَيْهِ
اس پر
ءَايَةٌ
کوئی نشانی
مِّن
اس کے
رَّبِّهِۦٓۗ
رب کی طرف سے
إِنَّمَآ
بیشک
أَنتَ
تو
مُنذِرٌۖ
ڈرانے والا ہے
وَلِكُلِّ
اور ہر
قَوْمٍ
قوم کے لئے
هَادٍ
ہادی ہوتا ہے

یہ لوگ جنہوں نے تمہاری با ت ماننے سے انکار کر دیا ہے، کہتے ہیں کہ "اِس شخص پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اتری؟ تم تو محض خبردار کر دینے والے ہو، اور ہر قوم کے لیے ایک رہنما ہے

تفسير
ٱللَّهُ
اللہ تعالیٰ
يَعْلَمُ
جانتا ہے
مَا
جو
تَحْمِلُ
اٹھاتی ہے
كُلُّ
ہر
أُنثَىٰ
مادہ
وَمَا
اور جو
تَغِيضُ
کمی کرتے ہیں
ٱلْأَرْحَامُ
رحم
وَمَا
اور جو
تَزْدَادُۖ
بڑھاتے ہیں
وَكُلُّ
اور ہر
شَىْءٍ
چیز
عِندَهُۥ
اس کے پاس
بِمِقْدَارٍ
ساتھ ایک اندازے کے ہے

اللہ ایک ایک حاملہ کے پیٹ سے واقف ہے جو کچھ اس میں بنتا ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ اس میں کمی یا بیشی ہوتی ہے اس سے بھی وہ باخبر رہتا ہے ہر چیز کے لیے اُس کے ہاں ایک مقدار مقر رہے

تفسير
عَٰلِمُ
جاننے والا ہے
ٱلْغَيْبِ
غیب کا
وَٱلشَّهَٰدَةِ
اور حاضر کا
ٱلْكَبِيرُ
بڑا ہے
ٱلْمُتَعَالِ
بہت برتر/ بہت بڑا

وہ پوشیدہ اور ظاہر، ہر چیز کا عالم ہے وہ بزرگ ہے اور ہر حال میں بالا تر رہنے والا ہے

تفسير
سَوَآءٌ
برابر ہے
مِّنكُم
تم میں سے
مَّنْ
جو
أَسَرَّ
چھپائے
ٱلْقَوْلَ
بات کو
وَمَن
اور جو کوئی
جَهَرَ
ظاہر کرے
بِهِۦ
اس کو
وَمَنْ
اور جو کوئی
هُوَ
کہ وہ
مُسْتَخْفٍۭ
چھپنے والا ہے
بِٱلَّيْلِ
رات کو
وَسَارِبٌۢ
اور چلنے والا ہے
بِٱلنَّهَارِ
دن کو

تم میں سے کوئی شخص خواہ زور سے با ت کرے یا آہستہ، اور کوئی رات کی تاریکی میں چھپا ہوا ہو یا دن کی روشنی میں چل رہا ہو، اس کے لیے سب یکساں ہیں

تفسير
کے بارے میں معلومات :
الرعد
القرآن الكريم:الرعد
آية سجدہ (سجدة):15
سورۃ کا نام (latin):Ar-Ra'd
سورہ نمبر:13
کل آیات:43
کل کلمات:855
کل حروف:3506
کل رکوعات:6
مقام نزول:مدینہ منورہ
ترتیب نزولی:96
آیت سے شروع:1707