Skip to main content
ARBNDEENIDRUTRUR

وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالسَّيِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ وَقَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثُلٰتُۗ وَاِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّـلنَّاسِ عَلٰى ظُلْمِهِمْۚ وَاِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيْدُ الْعِقَابِ

وَيَسْتَعْجِلُونَكَ
اور وہ جلدی مانگتے ہیں آپ سے
بِٱلسَّيِّئَةِ
برائی کو/ عذاب کو
قَبْلَ
پہلے
ٱلْحَسَنَةِ
بھلائی سے
وَقَدْ
حالانکہ تحقیق
خَلَتْ
گزر چکیں
مِن
ان سے
قَبْلِهِمُ
پہلے
ٱلْمَثُلَٰتُۗ
عبرت ناک مثالیں/عقوبات
وَإِنَّ
اور بیشک
رَبَّكَ
تیرا رب
لَذُو
البتہ
مَغْفِرَةٍ
بخشش والا ہے
لِّلنَّاسِ
لوگوں کے لئے
عَلَىٰ
باوجود
ظُلْمِهِمْۖ
ان کے ظلم کے
وَإِنَّ
اور بیشک
رَبَّكَ
تیرا رب
لَشَدِيدُ
البتہ سخت
ٱلْعِقَابِ
سزا دینے والا ہے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

یہ لوگ بھلائی سے پہلے برائی کے لیے جلدی مچا رہے ہیں حالانکہ ان سے پہلے (جو لوگ اس روش پر چلے ہیں ان پر خدا کے عذاب کی) عبرت ناک مثالیں گزر چکی ہیں حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب لوگوں کی زیادتیوں کے باوجود ان کے ساتھ چشم پوشی سے کام لیتا ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ تیرا رب سخت سزا دینے والا ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

یہ لوگ بھلائی سے پہلے برائی کے لیے جلدی مچا رہے ہیں حالانکہ ان سے پہلے (جو لوگ اس روش پر چلے ہیں ان پر خدا کے عذاب کی) عبرت ناک مثالیں گزر چکی ہیں حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب لوگوں کی زیادتیوں کے باوجود ان کے ساتھ چشم پوشی سے کام لیتا ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ تیرا رب سخت سزا دینے والا ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور تم سے عذاب کی جلدی کرتے ہیں رحمت سے پہلے اور ان اگلوں کی سزائیں ہوچکیں اور بیشک تمہارا رب تو لوگوں کے ظلم پر بھی انہیں ایک طرح کی معافی دیتا ہے اور بیشک تمہارے رب کا عذاب سخت ہے

احمد علی Ahmed Ali

اور تجھ سے بھلائی سے پہلے برائی کو جلد مانگتے ہیں اور ان سے پہلے بہت سے عذاب سے گزر چکے ہیں اور بے شک تیرا رب لوگو ں کو باوجود ان کے ظلم کے معاف بھی کرتا ہے اور تیرے رب کا عذاب بھی سخت ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور جو تجھ سے (سزا کی طلبی میں) جلدی کر رہے ہیں راحت سے پہلے ہی، یقیناً ان سے پہلے سزائیں (بطور مثال) گزر چکی ہیں (١) اور بیشک تیرا رب البتہ بخشنے والا ہے لوگوں کے بےجا ظلم پر (٢) اور یہ بھی یقینی بات ہے کہ تیرا رب بڑی سخت سزا دینے والا بھی ہے۔

٦۔١ یعنی عذاب الٰہی سے قوموں اور بستیوں کی تباہی کی کئی مثالیں پہلے گزر چکی ہیں، اس کے باوجود یہ عذاب جلدی مانگتے ہیں؟ یہ کفار کے جواب میں کہا گیا جو کہتے تھے کہ اے پیغمبر! اگر تو سچا ہے تو عذاب ہم پر لے آ۔ جس سے تو ہمیں ڈراتا رہتا ہے۔
٦۔٣ یعنی لوگوں کے ظلم و معصیت کے باوجود وہ عذاب میں جلدی نہیں کرتا بلکہ مہلت دیتا ہے اور بعض دفعہ تو اتنی تاخیر کرتا ہے کہ معاملہ قیامت پر چھوڑ دیتا ہے، یہ اس کے حلم و کرم اور عفو و درگزر کا نتیجہ ہے ورنہ وہ فوراً مواخذہ کرنے اور عذاب دینے پر آجائے تو روئے زمین پر کوئی انسان ہی باقی نہ رہے
(وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰي ظَهْرِهَا مِنْ دَاۗبَّةٍ وَّلٰكِنْ يُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ فَاِذَا جَاۗءَ اَجَلُهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِعِبَادِهٖ بَصِيْرًا 45؀ۧ) 35۔فاطر;45)
اور اگر اللہ تعالٰی لوگوں پر ان کے اعمال کے سبب پکڑ دھکڑ فرمانے لگتا تو روئے زمین پر ایک تنفس کو نہ چھوڑتا '
٦۔۳ یہ اللہ کی دوسری صفت کا بیان ہے تاکہ انسان صرف ایک ہی پہلو پر نظر نہ رکھے اس کے دوسرے پہلو کو بھی دیکھتا رہے کیونکہ ایک ہی رخ اور ایک ہی پہلو کو مسلسل دیکھنے رہنے سے بہت سی چیزیں اوجھل رہ جاتی ہیں اسی لیے قرآن کریم میں جہاں اللہ کی صفت رحیمی وغفوری کا بیان ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ہی اس کی دوسری صفت قہاری و جباری کا بیان بھی ملتا ہے جیسا کہ یہاں بھی ہے تاکہ رجاء امید اور خوف دونوں پہلو سامنے رہیں کیونکہ اگر امید ہی امید سامنے رہے تو انسان معصیت الہی پر دلیر ہو جاتا ہے اور اگر خوف ہی خوف ہر وقت دل ودماغ پر مسلط رہے تو اللہ کی رحمت سے مایوسی ہو جاتی ہے اور دونوں ہی باتیں غلط اور انسان کے لیے تباہ کن ہیں اسی لیے کہا جاتا ہے الایمان بین الخوف والرجاء ایمان خوف اور مبید کے درمیان ہے یعنی دونوں باتوں کے درمیان اعتدال وتوازن کا نام ایمان ہے انسان اللہ کے عذاب کے خوف سے بےپروا ہو اور نہ اس کی رحمت سے مایوس۔ اس مضمون کے ملاحظہ کے لیے دیکھئے سورۃ الانعام۔ سورۃ الاعراف۔ سورۃ الحجر

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور یہ لوگ بھلائی سے پہلے تم سے برائی کے جلد خواستگار یعنی (طالب عذاب) ہیں حالانکہ ان سے پہلے عذاب (واقع) ہوچکے ہیں اور تمہارا پروردگار لوگوں کو باوجود ان کی بےانصافیوں کے معاف کرنے والا ہے۔ اور بےشک تمہارا پروردگار سخت عذاب دینے والا ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور جو تجھ سے (سزا کی طلبی میں) جلد کر رہے ہیں راحت سے پہلے ہی، یقیناً ان سے پہلے سزائیں (بطور مثال) گزر چکی ہیں، اور بیشک تیرا رب البتہ بخشنے واﻻ ہے لوگوں کے بے جا ﻇلم پر بھی۔ اور یہ بھی یقینی بات ہے کہ تیرا رب بڑی سخت سزا دینے واﻻ بھی ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور (اے رسول(ص)) یہ لوگ آپ سے نیکی (مغفرت) سے پہلے برائی (عذاب) کے لئے جلدی کرتے ہیں حالانکہ ان سے پہلے (ایسے لوگوں پر) خدائی سزاؤں کے نمونے گزر چکے ہیں اور آپ کا پروردگار لوگوں کو ان کے ظلم و زیادتی کے باوجود بڑا بخشنے والا ہے اور یقیناً آپ کا پروردگار سخت سزا دینے والا بھی ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور اے رسول یہ لوگ آپ سے بھلائی سے پہلے ہی برائی (عذاب)چاہتے ہیں جب کہ ان کے پہلے بہت سی عذاب کی نظریں گزر چکی ہیں اور آپ کا پروردگار لوگوں کے لئے ان کے ظلم پر بخشنے والا بھی ہے اور بہت سخت عذاب کرنے والا بھی ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور یہ لوگ رحمت سے پہلے آپ سے عذاب طلب کرنے میں جلدی کرتے ہیں، حالانکہ ان سے پہلے کئی عذاب گزر چکے ہیں، اور (اے حبیب!) بیشک آپ کا رب لوگوں کے لئے ان کے ظلم کے باوجود بخشش والا ہے اور یقیناً آپ کا رب سخت عذاب دینے والا (بھی) ہے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

منکرین قیامت
یہ منکرین قیامت کہتے ہیں کہ اگر سچے ہو تو ہم پر اللہ کا عذاب جلد ہی کیوں نہیں لاتے ؟ کہتے تھے کہ اے اپنے آپ پر اللہ کی وحی نازل ہونے کا دعویٰ کرنے والے، ہمارے نزدیک تو تو پاگل ہے۔ اگر بالفرض سچا ہے تو عذاب کے فرشتوں کو کیوں نہیں لاتا ؟ اس کے جواب میں ان سے کہا گیا کہ فرشتے حق کے اور فیصلے کے ساتھ ہی آیا کرتے ہیں، جب وہ وقت آئے گا اس وقت ایمان لانے یا توبہ کرنے یا نیک عمل کرنے کی فرصت ومہلت نہیں ملے گی۔ اسی طرح اور آیت میں ہے آیت (ویستعجونک دو آیتوں تک۔ اور جگہ ہے سال سائل الخ اور آیت میں ہے کہ بےایمان اس کی جلدی مچا رہے ہیں اور ایماندار اس سے خوف کھا رہے ہیں اور اسے برحق جان رہے ہیں۔ اسی طرح اور آیت میں فرمان ہے کہ وہ کہتے تھے کہ اے اللہ اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور المناک عذاب نازل فرما۔ مطلب یہ ہے کہ اپنے کفر وانکار کی وجہ سے اللہ کے عذاب کا آنا محال جان کر اس قدر نڈر اور بےخوف ہوگئے تھے کہ عذاب کے اترنے کی آرزو اور طلب کیا کرتے تھے۔ یہاں فرمایا کہ ان سے پہلے کے ایسے لوگوں کی مثالیں ان کے سامنے ہیں کہ کس طرح وہ عذاب کی پکڑ میں آگئے۔ کہہ دو کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا حلم وکرم ہے کہ گناہ دیکھتا ہے اور فورا نہیں پکڑتا ورنہ روئے زمین پر کسی کو چلتا پھرتا نہ چھوڑے، دن رات خطائیں دیکھتا ہے اور درگزر فرماتا ہے لیکن اس سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ وہ عذاب پر قدرت نہیں رکھتا۔ اس کے عذاب بھی بڑے خطرناک نہایت سخت اور بہت درد دکھ دینے والے ہیں۔ چناچہ فرمان ہے آیت ( فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ رَّبُّكُمْ ذُوْ رَحْمَةٍ وَّاسِعَةٍ ۚ وَلَا يُرَدُّ بَاْسُهٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِيْنَ\014\07 ) 6 ۔ الانعام ;147) اگر یہ تجھے جھٹلائیں تو تو کہہ دے کہ تمہارا رب وسیع رحمتوں والا ہے لیکن اس کے آئے ہوئے عذاب گنہگاروں پر سے نہیں ہٹائے جاسکتے۔ اور فرمان ہے کہ تیرا پروردگار جلد عذاب کرنے والا، بخشنے والا اور مہربانی کرنے والا ہے اور آیت میں ہے آیت ( نَبِّئْ عِبَادِيْٓ اَنِّىْٓ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ 49؀ۙ ) 15 ۔ الحجر ;49) میرے بندوں کو خبر کر دے کہ میں غفور رحیم ہوں اور میرے عذاب بھی بڑے دردناک ہیں۔ اسی قسم کی اور بھی بہت سے آیتیں ہیں جن میں امید وبیم، خوف و لالچ ایک ساتھ بیان ہوا ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے اس میں ہے اس آیت کے اترنے پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر اللہ تعالیٰ کا معاف فرمانا اور درگزر فرمانا نہ ہوتا تو کسی کی زندگی کا لطف باقی نہ رہتا اور اگر اس کا دھمکانا ڈرانا اور سما کرنا نہ ہوتا تو ہر شخص بےپرواہی سے ظلم و زیادتی میں مشغول ہوجاتا۔ ابن عساکر میں ہے کہ حسن بن عثمان ابو حسان راوی (رح) نے خواب میں اللہ تعالیٰ عزوجل کا دیدار کیا دیکھا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے سامنے کھڑے اپنے ایک امتی کی شفاعت کر رہے ہیں جس پر فرمان باری ہوا کہ کیا تجھے اتنا کافی نہیں کہ میں نے سورة رعد میں تجھ پر آیت (وَاِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰي ظُلْمِهِمْ ۚ وَاِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيْدُ الْعِقَابِ ۝) 13 ۔ الرعد ;6) نازل فرمائی ہے۔ ابو حسان (رح) فرماتے ہیں اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔