Skip to main content

وَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْلَاۤ اُنْزِلَ عَلَيْهِ اٰيَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖۗ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّ لِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ

وَيَقُولُ
اور کہتے ہیں
ٱلَّذِينَ
وہ لوگ
كَفَرُوا۟
جنہوں نے کفر کیا
لَوْلَآ
کیوں نہیں
أُنزِلَ
اتاری گئی
عَلَيْهِ
اس پر
ءَايَةٌ
کوئی نشانی
مِّن
اس کے
رَّبِّهِۦٓۗ
رب کی طرف سے
إِنَّمَآ
بیشک
أَنتَ
تو
مُنذِرٌۖ
ڈرانے والا ہے
وَلِكُلِّ
اور ہر
قَوْمٍ
قوم کے لئے
هَادٍ
ہادی ہوتا ہے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

یہ لوگ جنہوں نے تمہاری با ت ماننے سے انکار کر دیا ہے، کہتے ہیں کہ "اِس شخص پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اتری؟ تم تو محض خبردار کر دینے والے ہو، اور ہر قوم کے لیے ایک رہنما ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

یہ لوگ جنہوں نے تمہاری با ت ماننے سے انکار کر دیا ہے، کہتے ہیں کہ "اِس شخص پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اتری؟ تم تو محض خبردار کر دینے والے ہو، اور ہر قوم کے لیے ایک رہنما ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور کا فر کہتے ہیں ان پر ان کی طرف سے کوئی نشانی کیو ں نہیں اتری تم تو ڈر سنانے والے ہو اور ہر قوم کے ہادی

احمد علی Ahmed Ali

اورکافر کہتے ہیں اس کے رب سے اس پر کوئی نشانی کیوں نہیں اتری تم تومحض ڈرانے والے ہوں اور ہر قوم کے لیے ایک رہبر ہوتا آیا ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی (معجزہ) کیوں نہیں اتاری گئی۔ بات یہ ہے کہ آپ تو صرف آگاہ کرنے والے ہیں (١) اور ہر قوم کے لئے ہادی ہے (٢)۔

٧۔١ ہر نبی کو اللہ نے حالات و ضروریات اور اپنی مشیت و مصلحت کے مطابق کچھ نشانیاں اور معجزات عطا فرمائے لیکن کافر اپنے حسب منشا معجزات کے طالب ہوتے رہے ہیں۔ جیسے کفار مکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے کہ کوہ صفا کو سونے کا بنا دیا جائے یا پہاڑوں کی جگہ نہریں اور چشمے جاری ہوجائیں، وغیرہ وغیرہ جب ان کی خواہش کے مطابق معجزہ صادر کر کے نہ دکھایا جاتا تو کہتے کہ اس پر کوئی نشان (معجزہ) نازل کیوں نہیں کیا گیا؟ اللہ تعالٰی نے فرمایا، اے پیغمبر! تیرا کام صرف تبلیغ ہے۔ وہ تو کرتا رہ کوئی مانے نہ مانے، اس سے تجھے کوئی غرض نہیں، اس لئے کہ ہدایت دینا یہ ہمارا کام ہے۔ تیرا کام راستہ دکھانا ہے، اس راستے پر چلا دینا، یہ تیرا کام نہیں، ہمارا کام ہے۔
٧۔٢ یعنی ہر قوم کی ہدایت و رہنمائی کے لئے اللہ تعالٰی نے ہادی ضرور بھیجا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ قوموں نے ہدایت کا راستہ اپنایا یا نہیں اپنایا۔ لیکن سیدھے راستے کی نشان دہی کرنے کے لئے پیغمبر ہر قوم کے اندر ضرور آیا۔ (وان من امۃ الا خلا فیھا نذیر) فاطر۔ ہر امت میں ایک نذیر ضرور آیا ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) پر اس کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی نازل نہیں ہوئی۔ سو (اے محمدﷺ) تم تو صرف ہدایت کرنے والے ہو اور ہر ایک قوم کے لیے رہنما ہوا کرتا ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی (معجزه) کیوں نہیں اتاری گئی۔ بات یہ ہے کہ آپ تو صرف آگاه کرنے والے ہیں۔ اور ہر قوم کے لئے ہادی ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور کافر لوگ کہتے ہیں ان (پیغمبر اسلام(ص)) پر ان کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی (ہماری مرضی کے مطابق) کیوں نہیں اتاری جاتی؟ حالانکہ تم تو بس (اللہ کے عذاب سے) ڈرانے والے ہو اور ہر قوم کے لئے ایک راہنما ہوتا ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور یہ کافر کہتے ہیں کہ ان کے اوپر کوئی نشانی (ہماری مطلوبہ)کیوں نہیں نازل ہوتی تو آپ کہہ دیجئے کہ میں صرف ڈرانے والا ہوں اور ہر قوم کے لئے ایک ہادی اور رہبر ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ اس (رسول) پر ان کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتاری گئی؟ (اے رسولِ مکرّم!) آپ تو فقط (نافرمانوں کو انجامِ بد سے) ڈرانے والے اور (دنیا کی) ہر قوم کے لئے ہدایت بہم پہنچانے والے ہیں،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

اعتراض برائے اعتراض
کافر لوگ ازروئے اعتراض کہا کرتے تھے کہ جس طرح اگلے پیغمبر معجزے لے کر آئے، یہ پیغمبر کیوں نہیں لائے ؟ مثلا صفا پہاڑ سونے کا بنا دیتے یا مثلا عرب کے پہاڑ یہاں سے ہٹ جاتے اور یہاں سبزہ اور نہریں ہوجاتیں۔ پس ان کے جواب میں اور جگہ ہے کہ ہم یہ معجزے بھی دکھا دیتے مگر اگلوں کی طرح ان کی جھٹلانے پر پھر اگلوں جیسے ہی عذاب ان پر آجاتے۔ تو ان کی باتوں سے مغموم و متفکر نہ ہوجایا کر، تیرے ذمے تو صرف تبلیغ ہی ہے تو ہادی نہیں، ان کے نہ ماننے سے تیری پکڑ نہ ہوگی۔ ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، یہ تیرے بس کی بات نہیں۔ ہر قوم کے لئے رہبر اور داعی ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ ہادی میں ہوں تو تو ڈرانے والا ہے۔ اور آیت میں (وَاِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ 24 ؀) 35 ۔ فاطر ;24) وَاِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ 24 ؀) 35 ۔ فاطر ;24) ہر امت میں ڈرانے والا گزرا ہے اور مراد یہاں ہادی سے پیغمبر ہے۔ پس پیشوا رہبر ہر گروہ میں ہوتا ہے، جس کے علم وعمل سے دوسرے راہ پاسکیں، اس امت کے پیشوا آنحضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ ایک نہایت ہی منکر واہی روایت میں ہے کہ اس آیت کے اترنے کے وقت آپ نے اپنے سینہ پر ہاتھ رکھ کے فرمایا منذر تو میں ہوں اور حضرت علی (رض) کے کندھے کی طرف اشارہ کر کے فرمایا اے علی تو ہادی ہے، میرے بعد ہدایات پانے والے تجھ سے ہدایت پائیں گے۔ حضرت علی (رض) سے منقول ہے کہ اس جگہ ہادی سے مراد قریش کا ایک شخص ہے۔ جنید کہتے ہیں وہ حضرت علی (رض) خود ہیں۔ ابن جریر (رح) نے حضرت علی (رض) کے ہادی ہونے کی روایت کی ہے لیکن اس میں سخت نکارت ہے۔