Skip to main content
ARBNDEENIDTRUR

وَ اِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِىْ خَلْقٍ جَدِيْدٍ ۗ اُولٰۤٮِٕكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْۚ وَاُولٰۤٮِٕكَ الْاَغْلٰلُ فِىْۤ اَعْنَاقِهِمْۚ وَاُولٰۤٮِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ

وَاِنْ
اور اگر
تَعْجَبْ
تم تعجب کرتے ہو
فَعَجَبٌ
تو تعجب والا ہے/ عجیب ہے
قَوْلُهُمْ
ان کا قول
ءَاِذَا
کیا جب
كُنَّا
ہم ہوجائیں گے
تُرٰبًا
مٹی
ءَاِنَّا
کیا بیشک ہم
لَفِيْ خَلْقٍ
البتہ پیدائش میں ہوں گے
جَدِيْدٍ ڛ
نئی
اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ
یہی وہ لوگ ہیں
كَفَرُوْا
جنہوں نے کفر کیا
بِرَبِّهِمْ
اپنے رب کے ساتھ
وَاُولٰۗىِٕكَ
اور یہی لوگ ہیں
الْاَغْلٰلُ
طوق ہیں
فِيْٓ اَعْنَاقِهِمْ
ان کی گردنوں میں
وَاُولٰۗىِٕكَ
اور یہی لوگ
اَصْحٰبُ النَّارِ
آگ والے ہیں
هُمْ
وہ
فِيْهَا
اس میں
خٰلِدُوْنَ
ہمیشہ رہنے والے ہیں

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اب اگر تمہیں تعجب کرنا ہے تو تعجب کے قابل لوگوں کا یہ قول ہے کہ "جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے تو کیا ہم نئے سرے سے پیدا کیے جائیں گے؟" یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب سے کفر کیا ہے یہ وہ لوگ ہیں جن کی گردنوں میں طوق پڑے ہوئے ہیں یہ جہنمی ہیں اور جہنم میں ہمیشہ رہیں گے

ابوالاعلی مودودی

اب اگر تمہیں تعجب کرنا ہے تو تعجب کے قابل لوگوں کا یہ قول ہے کہ "جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے تو کیا ہم نئے سرے سے پیدا کیے جائیں گے؟" یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب سے کفر کیا ہے یہ وہ لوگ ہیں جن کی گردنوں میں طوق پڑے ہوئے ہیں یہ جہنمی ہیں اور جہنم میں ہمیشہ رہیں گے

احمد رضا خان

اور اگر تم تعجب کرو تو اچنبھا تو ان کے اس کہنے کا ہے کہ کیا ہم مٹی ہو کر پھر نئے بنیں گے وہ ہیں جو اپنے رب سے منکر ہوئے اور وہ ہیں جن کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور وہ دوزخ والے ہیں انھیں اسی میں رہنا،

احمد علی

اگر تو عجیب بات چاہے تو ان کا یہ کہنا عجب ہے کہ کیا جب ہم مٹی ہو گئے کیا نئے سرے سے بنائیں جائیں گے یہی وہ ہیں جو اپنے رب سے منکر ہو گئے اور انہیں کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور یہی دوزخی ہیں و ہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

جالندہری

اگر تم عجیب بات سننی چاہو تو کافروں کا یہ کہنا عجیب ہے کہ جب ہم (مر کر) مٹی ہو جائیں گے تو کیا ازسرنو پیدا ہوں گے؟ یہی لوگ ہیں جو اپنے پروردگار سے منکر ہوئے ہیں۔ اور یہی ہیں جن کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور یہی اہل دوزخ ہیں کہ ہمیشہ اس میں (جلتے) رہیں گے

محمد جوناگڑھی

اگر تجھے تعجب ہو تو واقعی ان کا یہ کہنا عجیب ہے کہ کیا جب ہم مٹی ہو جائیں گے۔ تو کیا ہم نئی پیدائش میں ہوں گے؟ یہی وه لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار سے کفر کیا۔ یہی ہیں جن کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور یہی ہیں جو جہنم کے رہنے والے ہیں جو اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے

محمد حسین نجفی

(اے مخاطب) اگر تمہیں تعجب کرنا ہے تو تعجب کے قابل ان (کفار) کا یہ قول ہے کہ جب ہم (مر کر) خاک ہو جائیں گے تو کیا ہم از سر نو پیدا ہوں گے؟ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کا انکار کیا اور یہ ہیں جن کی گردنوں میں طوق پڑے ہوں گے اور یہی جہنمی ہیں جو ہمیشہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔

علامہ جوادی

اور اگر تمہیں کسی بات پر تعّجب ہے تو تّعجب کی بات ان لوگوں کا یہ قول ہے کہ کیا ہم خاک ہوجانے کے بعد بھی نئے سرے سے دوبارہ پیدا کئے جائیں گے .یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کا انکار کیا ہے اور ان ہی کی گردنوں میں طوق ڈالے جائیں گے اور یہی اہل هجہّنم ہیں اور اسی میں ہمیشہ رہنے والے ہیں

طاہر القادری

اور اگر آپ (کفار کے انکار پر) تعجب کریں تو ان کا (یہ) کہنا عجیب (تر) ہے کہ کیا جب ہم (مر کر) خاک ہو جائیں گے تو کیا ہم اَز سرِ نو تخلیق کئے جائیں گے؟ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کا انکار کیا، اور انہی لوگوں کی گردنوں میں طوق (پڑے) ہوں گے اور یہی لوگ اہلِ جہنم ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں،

تفسير ابن كثير

عقل کے اندھے ضدی لوگ
اللہ تبارک وتعالی اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرماتا ہے کہ آپ ان کے جھٹلانے کا کوئی تعجب نہ کریں یہ ہیں ہی ایسے اس قدر نشانیاں دیکھتے ہوئے، اللہ کی قدرت کا ہمیشہ مطالعہ کرتے ہوئے، اسے مانتے ہوئے کہ سب کا خالق اللہ ہی ہے پھر بھی قیامت کے منکر ہوتے ہیں حالانکہ اس سے بڑھ کر روز مرہ مشاہدہ کرتے رہتے ہیں کہ کچھ نہیں ہوتا اور اللہ تعالیٰ سب کچھ کردیتا ہے۔ ہر عاقل جان سکتا ہے کہ زمین و آسمان کی پیدائش انسان کی پیدائش سے بہت بڑی ہے۔ اور دوبارہ پیدا کرنا بہ نسبت اول بار پیدا کرنے کے بہت آسان ہے۔ جیسے فرمان ربانی ہے آیت ( اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى ۭ بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 33؀) 46 ۔ الأحقاف ;33)
یعنی جس نے آسمان و زمین تھکے پیدا کردیا، کیا وہ مردوں کو جلانے پر قادر نہیں ؟ بیشک ہے بلکہ ہر چیز اس کی قدرت میں ہے۔ پس یہاں فرماتا ہے کہ اصل یہ کفار ہیں، ان کی گردنوں میں قیامت کے دن طوق ہوں گے اور یہ جہنمی ہیں جو ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔