Skip to main content

وَجَاۤءَ اَهْلُ الْمَدِيْنَةِ يَسْتَـبْشِرُوْنَ

وَجَآءَ
اور آئے
أَهْلُ
والے
ٱلْمَدِينَةِ
شہر والے
يَسْتَبْشِرُونَ
خوشخبریاں دیتے ہوئے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اتنے میں شہر کے لوگ خوشی کے مارے بے تاب ہو کر لوطؑ کے گھر چڑھ آئے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اتنے میں شہر کے لوگ خوشی کے مارے بے تاب ہو کر لوطؑ کے گھر چڑھ آئے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور شہر والے خوشیاں مناتے آئے،

احمد علی Ahmed Ali

اور شہر والے خوشیاں کرتے ہوئے آئے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور شہر والے خوشیاں مناتے ہوئے آئے (١)۔

٦٧۔١ ادھر تو حضرت لوط علیہ السلام کے گھر میں قوم کی ہلاکت کا یہ فیصلہ ہو رہا تھا۔ ادھر قوم لوط کو پتہ چلا کہ لوط علیہ السلام کے گھر میں خوش شکل نوجوان مہمان آئے ہیں تو اپنی امرد پرستی کی وجہ سے بڑے خوش ہوئے اور خوشی خوشی حضرت لوط علیہ السلام کے پاس آئے اور مطالبہ کیا کہ ان نوجوانوں کو ان کے سپرد کیا جائے تاکہ وہ ان سے بےحیائی کا ارتکاب کر کے اپنی تسکین کر سکیں۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور اہل شہر (لوط کے پاس) خوش خوش (دوڑے) آئے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور شہر والے خوشیاں مناتے ہوئے آئے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور شہر والے (نوجوان اور خوبصورت مہمانوں کو دیکھ کر) خوشیاں مناتے ہوئے آگئے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور ادھر شہر والے نئے مہمانوں کو دیکھ کر خوشیاں مناتے ہوئے آگئے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور اہلِ شہر (اپنی بد مستی میں) خوشیاں مناتے ہوئے (لوط علیہ السلام کے پاس) آپہنچے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

قوم لوط کی خر مستیاں
قوم لوط کو جب معلوم ہوا کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کے گھر نوجوان خوبصورت مہمان آئے ہیں تو وہ اپنے بد ارادے سے خوشیاں مناتے ہوئے چڑھ دوڑے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے انہیں سمجھانا شروع کیا کہ اللہ سے ڈرو، میرے مہمانوں میں مجھے رسوا نہ کرو۔ اس وقت خود حضرت لوط (علیہ السلام) کو یہ معلوم نہ تھا کہ یہ فرشتے ہیں۔ جیسے کہ سورة ہود میں ہے۔ یہاں گو اس کا ذکر بعد میں ہے اور فرشتوں کا ظاہر ہوجا نا پہلے ذکر ہوا ہے لیکن اس سے ترتیب مقصود نہیں۔ واؤ ترتیب کے لئے ہوتا بھی نہیں اور خصو صاً ایسی جگہ جہاں اس کے خلاف دلیل موجود ہو۔ آپ ان سے کہتے ہیں کہ میری آبرو ریزی کے درپے ہوجاؤ۔ لیکن وہ جواب دیتے ہیں کہ جب آپ کو یہ خیال تھا تو انہیں آپ نے اپنا مہمان کیوں بنایا ؟ ہم تو آپ کو اس سے منع کرچکے ہیں۔ تب آپ نے انہیں مزید سمجھاتے ہوئے فرمایا کہ تمہاری عورتیں جو میری لڑکیاں ہیں، وہ خواہش پوری کرنے کی چیزیں ہیں نہ کہ یہ۔ اس کا پورا بیان نہایت وضاحت کے ساتھ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں اس لئے دہرانے کی ضرورت نہیں۔ چونکہ یہ بد لوگ اپنی خرمستی میں تھے اور جو قضا اور عذاب ان کے سروں پر جھوم رہا تھا اس سے غافل تھے اس لیے اللہ تعالیٰ اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قسم کھا کر ان کی یہ حالت بیان فرما رہا ہے اس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بہت تکریم اور تعظیم ہے۔ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی جتنی مخلوق پیدا کی ہے ان میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زیادہ بزرگ کوئی نہیں۔ اللہ نے آپ کی حیات کے سوا کسی کی حیات کی قسم نہیں کھائی۔ سکرۃ سے مراد ضلالت و گمراہی ہے، اسی میں وہ کھیل رہے تھے اور تردد میں تھے۔