Skip to main content

وَاِذَا بَدَّلْنَاۤ اٰيَةً مَّكَانَ اٰيَةٍۙ وَّ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا يُنَزِّلُ قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُفْتَرٍۗ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ

وَإِذَا
اور جب
بَدَّلْنَآ
بدل دیتے ہیں ہم
ءَايَةً
ایک آیت کو
مَّكَانَ
جگہ پر
ءَايَةٍۙ
دوسری آیت کی
وَٱللَّهُ
اور اللہ
أَعْلَمُ
خوب جانتا ہے
بِمَا
ساتھ اس کے جو
يُنَزِّلُ
وہ اتارتا ہے
قَالُوٓا۟
وہ کہتے ہیں
إِنَّمَآ
بیشک
أَنتَ
تو
مُفْتَرٍۭۚ
گھڑنے والا ہے
بَلْ
بلکہ
أَكْثَرُهُمْ
اکثر ان میں سے
لَا
نہیں
يَعْلَمُونَ
جانتے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری آیت نازل کرتے ہیں اور اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کیا نازل کرے تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ تم یہ قرآن خو د گھڑ تے ہو اصل بات یہ ہے کہ اِن میں سے اکثر لوگ حقیقت سے ناواقف ہیں

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری آیت نازل کرتے ہیں اور اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کیا نازل کرے تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ تم یہ قرآن خو د گھڑ تے ہو اصل بات یہ ہے کہ اِن میں سے اکثر لوگ حقیقت سے ناواقف ہیں

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری آیت بدلیں اور اللہ خوب جانتا ہے جو اتارتا ہے کافر کہیں تم تو دل سے بنا لاتے ہو بلکہ ان میں اکثر کو علم نہیں،

احمد علی Ahmed Ali

اورجب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری بدلتے ہیں اور الله خوب جانتا ہے جو اتارتا ہے تو کہتے ہیں کہ تو بنا لاتا ہے یہ بات نہیں لیکن اکثر ان میں سے نہیں سمجھتے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

جب ہم کسی آیت کی جگہ دوسری آیت بدل دیتے ہیں اور جو کچھ اللہ تعالٰی نازل فرماتا ہے اسے وہ خوب جانتا ہے تو یہ کہتے ہیں کہ تو تو بہتان باز ہے۔ بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر جانتے ہی نہیں (١)۔

١٠١۔١ یعنی ایک حکم منسوخ کر کے اس کی جگہ دوسرا حکم نازل کرتے ہیں، جس کی حکمت و مصلحت اللہ تعالٰی خوب جانتا ہے اور اس کے مطابق وہ احکام میں رد وبدل فرماتا ہے، تو کافر کہتے ہیں کہ یہ کلام اے محمد! (صلی اللہ علیہ وسلم) تیرا اپنا گھڑا ہوا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالٰی تو اس طرح نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ ان کے اکثر لوگ بےعلم ہیں، اس لئے یہ منسوخی کی حکمتیں اور مصلحتیں کیا جانیں۔ مزید وضاحت کیلیے ملاحظہ ہو سورہ بقرہ آیت ۱۰٦ کا حاشیہ

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور جب ہم کوئی آیت کسی آیت کی جگہ بدل دیتے ہیں۔ اور خدا جو کچھ نازل فرماتا ہے اسے خوب جانتا ہے تو (کافر) کہتے ہیں کہ تم یونہی اپنی طرف سے بنا لاتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں اکثر نادان ہیں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور جب ہم کسی آیت کی جگہ دوسری آیت بدل دیتے ہیں اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نازل فرماتا ہے اسے وه خوب جانتا ہے تو یہ کہتے ہیں کہ تو تو بہتان باز ہے۔ بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر جانتے ہی نہیں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور جب ہم ایک آیت کو کسی اور آیت سے بدلتے ہیں تو اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کیا نازل کر رہا ہے تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ تم (یہ کلام) اپنے دل سے گھڑ لیا کرتے ہو حالانکہ ان میں سے اکثر لوگ (حقیقتِ حال کو) نہیں جانتے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور ہم جب ایک آیت کی جگہ پر دوسری آیت تبدیل کرتے ہیں تو اگرچہ خدا خوب جانتا ہے کہ وہ کیا نازل کررہا ہے لیکن یہ لوگ یہی کہتے ہیں کہ محمد تم افترا کرنے والے ہو حالانکہ ان کی اکثریت کچھ نہیں جانتی ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور جب ہم کسی آیت کی جگہ دوسری آیت بدل دیتے ہیں اور اللہ (ہی) بہتر جانتا ہے جو (کچھ) وہ نازل فرماتا ہے (تو) کفار کہتے ہیں کہ آپ تو بس اپنی طرف سے گھڑنے والے ہیں، بلکہ ان میں سے اکثر لوگ (آیتوں کے اتارنے اور بدلنے کی حکمت) نہیں جانتے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

ازلی بدنصیب لوگ
مشرکوں کی عقلی، بےثباتی اور بےیقینی کا بیان ہو رہا ہے کہ انہیں ایمان کیسے نصیب ہو ؟ یہ تو ازلی بدنصیب ہیں، ناسخ منسوخ سے احکام کی تبدیلی دیکھ کر بکنے لگتے ہیں کہ لو صاحب ان کا بہتان کھل گیا، اتنا نہیں جانتے کہ قادر مطلق اللہ جو چاہے کرے جو ارادہ کرے، حکم دے، ایک حکم کو اٹھا دے دوسرے کو اس کی جگہ رکھ دے۔ جیسے آیت ( مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰيَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَآ اَوْ مِثْلِهَا ۭ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ\010\06 ) 2 ۔ البقرة ;106) میں فرمایا ہے۔ پاک روح یعنی حضرت جبرائیل (علیہ السلام) اسے اللہ کی طرف سے حقانیت و صداقت کے عدل و انصاف کے ساتھ لے کر تیری جانب آتے ہیں تاکہ ایماندار ثابت قدم ہوجائیں، اب اترا، مانا، پھر اترا، پھر مانا، ان کے دل رب کی طرف جھکتے رہیں، تازہ تازہ کلام الٰہی سنتے رہیں، مسلمانوں کے لئے ہدایت و بشارت ہوجائے، اللہ اور رسول اللہ کے ماننے والے راہ یافتہ ہو کر خوش ہوجائیں۔