Skip to main content

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْۙ لَا يَبْعَثُ اللّٰهُ مَنْ يَّمُوْتُۗ بَلٰى وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا وَّلٰـكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَۙ

وَأَقْسَمُوا۟
اور وہ قسمیں کھاتے ہیں
بِٱللَّهِ
اللہ کی
جَهْدَ
پکی
أَيْمَٰنِهِمْۙ
قسمیں اپنی
لَا
نہیں
يَبْعَثُ
اٹھائے گا
ٱللَّهُ
اللہ
مَن
(اسے) جو
يَمُوتُۚ
مرجاتا ہے
بَلَىٰ
کیوں نہیں
وَعْدًا
وعدہ ہے
عَلَيْهِ
اس کے ذمہ
حَقًّا
سچا
وَلَٰكِنَّ
لیکن
أَكْثَرَ
اکثر
ٱلنَّاسِ
لوگ
لَا
نہیں
يَعْلَمُونَ
علم رکھتے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

یہ لوگ اللہ کے نام سے کڑی کڑی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ "اللہ کسی مرنے والے کو پھر سے زندہ کر کے نہ اٹھائے گا" اٹھائے گا کیوں نہیں، یہ تو ایک وعدہ ہے جسے پورا کرنا اس نے اپنے اوپر واجب کر لیا ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

یہ لوگ اللہ کے نام سے کڑی کڑی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ "اللہ کسی مرنے والے کو پھر سے زندہ کر کے نہ اٹھائے گا" اٹھائے گا کیوں نہیں، یہ تو ایک وعدہ ہے جسے پورا کرنا اس نے اپنے اوپر واجب کر لیا ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور انہوں نے اللہ کی قسم کھائی اپنے حلف میں حد کی کوشش سے کہ اللہ مُردے نہ اٹھائے گا ہاں کیوں نہیں (۷۹) سچا وعدہ اس کے ذمہ پر لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

احمد علی Ahmed Ali

اور الله کی سخت قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ الله انہیں اٹھائے گا اس شخص کو جو مر جائے گا ہاں اس نے اپنے ذمہ پکا وعدہ کر لیا ہے لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

وہ لوگ بڑی سخت سخت قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ مردوں کو اللہ زندہ نہیں کرے گا (١) کیوں نہیں ضرور زندہ کرے گا یہ اس کا برحق لازمی وعدہ ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (٢)۔

٣٨۔١ کیونکہ مٹی میں مل جانے کے بعد ان کا دوبارہ جی اٹھنا، انہیں مشکل اور ناممکن نظر آتا تھا۔ اسی لئے رسول جب انہیں بعث بعد الموت کی بابت کہتا تو اسے جھٹلاتے ہیں، اس کی تصدیق نہیں کرتے بلکہ اس کے برعکس یعنی دوبارہ زندہ نہ ہونے پر قسمیں کھاتے ہیں، قسمیں بھی بڑی تاکید اور یقین کے ساتھ۔
٣٨۔٢ اس جہالت اور بےعلمی کی وجہ سے رسولوں کی تکذیب و مخالفت کرتے ہوئے دریاے کفر میں ڈوب جاتے ہیں۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور یہ خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ جو مرجاتا ہے خدا اسے (قیامت کے دن قبر سے) نہیں اٹھائے گا۔ ہرگز نہیں۔ یہ (خدا کا) وعدہ سچا ہے اور اس کا پورا کرنا اسے ضرور ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

وه لوگ بڑی سخت سخت قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ مردوں کو اللہ تعالیٰ زنده نہیں کرے گا۔ کیوں نہیں ضرور زنده کرے گا یہ تو اس کا برحق ﻻزمی وعده ہے، لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

وہ اللہ کی سخت قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ جو مر گیا خدا اسے ہرگز (دوبارہ) نہیں اٹھائے گا۔ ہاں (ضرور اٹھائے گا) یہ اس کا وعدہ ہے جس کا پورا کرنا اس پر لازم ہے لیکن اکثر لوگ اس کا علم نہیں رکھتے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

ان لوگوں نے واقعی اللہ کی قسم کھائی تھی کہ اللہ مرنے والوں کو دوبارہ زندہ نہیں کرسکتا ہے حالانکہ یہ اس کا برحق وعدہ ہے یہ اور بات ہے کہ اکثر لوگ اس حقیقت سے باخبر نہیں ہیں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور یہ لوگ بڑی شدّ و مد سے اللہ کی قَسمیں کھاتے ہیں کہ جو مَر جائے اللہ اسے (دوبارہ) نہیں اٹھائے گا، کیوں نہیں اس کے ذمۂ کرم پر سچا وعدہ ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

قیامت یقینا قائم ہوگی
کیونکہ کافر قیامت کے قائل نہیں اس لئے دوسروں کو بھی اس عقیدے ہٹانے کے لئے وہ پوری کوشش کرتے ہیں ایمان فروشی کر کے اللہ کی تاکیدی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ نہ کرے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت ضرور آئے گی اللہ کا یہ وعدہ برحق ہے لیکن اکثر لوگ بوجہ اپنی جہالت اور لا علمی کے رسولوں کے خلاف کرتے ہیں، اللہ کی باتوں کو نہیں مانتے اور کفر کے گڑھے میں گرتے ہیں۔ پھر قیامت کے آنے اور جسموں کے دوبارہ زندہ ہونے کی بعض حکمتیں ظاہر فرماتا ہے جن میں سے ایک یہ ہے کہ دنیوی اختلافات میں حق کیا تھا وہ ظاہر ہوجائے، بروں کو سزا اور نیکوں کو جزا ملے۔ کافروں کا اپنے عقیدے، اپنے قول، اپنی قسم میں جھوٹا ہونا کھل جائے۔ اس وقت سب دیکھ لیں گے کہ انہیں دھکے دے کر جہنم میں جھونکا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہی ہے وہ جہنم جس کا تم انکار کرتے رہے اب بتاؤ یہ جادو ہے یا تم اندھے ہو ؟ اس میں اب پڑے رہو۔ صبر سے رہو یا ہائے وائے کرو، سب برابر ہے، اعمال کا بدلہ بھگتنا ضروری ہے۔
اللہ ہر چیز پر قادر ہے
پھر اپنی بےاندازہ قدرت کا بیان فرماتا ہے کہ جو وہ چاہے اس پر قادر ہے کوئی بات اسے عاجز نہیں کرسکتی، کوئی چیز اس کے اختیار سے خارج نہیں، وہ جو کرنا چاہے فرما دیتا ہے کہ ہوجا اسی وقت وہ کام ہوجاتا ہے۔ قیامت بھی اس کے فرمان کا عمل ہے جیسے فرمایا ایک آنکھ جھپکنے میں اس کا کہا ہوجائے گا تم سب کا پیدا کرنا اور مرنے کے بعد زندہ کردینا اس پر ایسا ہی ہے جیسے ایک کو اسھر کہا ہوجا ادھر ہوگیا۔ اس کو دوبارہ کہنے یا تاکید کرنے کی بھی ضرورت نہیں اس کے ارادہ سے مراد جدا نہیں۔ کوئی نہیں جو اس کے خلاف کرسکے، اس کے حکم کے خلاف زبان ہلا سکے۔ وہ واحد وقہار ہے، وہ عظمتوں اور عزتوں والا ہے، سلطنت اور جبروت والا ہے۔ اس کے سوا نہ کوئی معبود نہ حاکم نہ رب نہ قادر۔ حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ابن آ دم مجھے گالیاں دیتا ہے اسے ایسا نہیں چاہئے تھا۔ وہ مجھے جھٹلا رہا ہے حالانکہ یہ بھی اسے لائق نہ تھا۔ اس کا جھٹلانا تو یہ ہے کہ سخت قسمیں کھا کر کہتا ہے کہ اللہ مردوں کو پھر زندہ نہ کرے گا میں کہتا ہوں یقینا زندہ ہوں گے۔ یہ برحق وعدہ ہے لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں اور اس کا مجھے گالیان دینا یہ ہے کہ کہتا ہے اللہ تین میں کا تیسرا ہے حالانکہ میں احد ہوں، میں اللہ ہوں، میں صمد ہوں، جس کا ہم جنس کوئی اور نہیں۔ ابن ابی حاتم میں تو حدیث موقو فا مروی ہے۔ بخاری و مسلم میں دو سرے لفظوں کے ساتھ مرفو عا روایت بھی آئی ہے۔