Skip to main content

وَبِالْحَـقِّ اَنْزَلْنٰهُ وَبِالْحَـقِّ نَزَلَ ۗ وَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّنَذِيْرًا ۘ

وَبِٱلْحَقِّ
اور حق کے ساتھ
أَنزَلْنَٰهُ
نازل کیا ہم نے اس کو
وَبِٱلْحَقِّ
اور حق ہی کے ساتھ
نَزَلَۗ
وہ اترا
وَمَآ
اور نہیں
أَرْسَلْنَٰكَ
بھیجا ہم نے آپ کو
إِلَّا
مگر
مُبَشِّرًا
خوش خبری دینے والا
وَنَذِيرًا
اور ڈرانے والا

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اس قرآن کو ہم نے حق کے ساتھ نازل کیا ہے اور حق ہی کے ساتھ یہ نازل ہوا ہے، اور اے محمدؐ، تمہیں ہم نے اِس کے سوا اور کسی کام کے لیے نہیں بھیجا کہ (جو مان لے اسے) بشارت دے دو اور (جو نہ مانے اُسے) متنبہ کر دو

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اس قرآن کو ہم نے حق کے ساتھ نازل کیا ہے اور حق ہی کے ساتھ یہ نازل ہوا ہے، اور اے محمدؐ، تمہیں ہم نے اِس کے سوا اور کسی کام کے لیے نہیں بھیجا کہ (جو مان لے اسے) بشارت دے دو اور (جو نہ مانے اُسے) متنبہ کر دو

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور ہم نے قرآن کو حق ہی کے ساتھ اتارا اور حق وہی کے لیے اترا اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر خوشی اور ڈر سناتا،

احمد علی Ahmed Ali

اور ہم نے اس قرآن کو سچائی سے نازل کیا اور وہ سچائی سے ہی نازل ہوا اور ہم نے تجھے صرف خوشی سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور ہم نے اس قرآن کو حق کے ساتھ اتارا اور یہ بھی حق کے ساتھ اترا (١) ہم نے آپ کو صرف خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا (٢) بنا کر بھیجا ہے۔

١٠٥۔١ یعنی با حفاظت آپ تک پہنچ گیا، اس میں راستے میں کوئی کمی بیشی اور کوئی تبدیلی اور آمیزش نہیں کی گئی اس لئے کہ اس کو لانے والا فرشتہ۔ شدید القوی، الامین، المکین اور المطاع فی الملاء الاعلی ہے۔ یہ وہ صفات ہیں جو حضرت جبرائیل علیہ السلام کے متعلق قرآن میں بیان کی گئی ہیں۔
١٠٥۔٢ بَشِیْر اطاعت گزار مومن کے لئے اور نَذِیْر نافرمان کے لئے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور ہم نے اس قرآن کو سچائی کے ساتھ نازل کیا ہے اور وہ سچائی کے ساتھ نازل ہوا اور (اے محمدﷺ) ہم نے تم کو صرف خوشخبری دینے والا اور ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور ہم نے اس قرآن کو حق کے ساتھ اتارا اور یہ بھی حق کے ساتھ اترا۔ ہم نے آپ کو صرف خوشخبری سنانے واﻻ اور ڈرانے واﻻ بنا کر بھیجا ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور ہم نے اس (قرآن) کو حق کے ساتھ نازل کیا ہے اور وہ حق کے ساتھ نازل ہوا ہے۔ اور ہم نے آپ کو بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور ہم نے اس قرآن کو حق کے ساتھ نازل کیاہے اور یہ حق ہی کے ساتھ نازل ہوا ہے اور ہم نے آپ کو صرف بشارت دینے والا اورڈرانے والا بناکر بھیجا ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور حق کے ساتھ ہی ہم نے اس (قرآن) کو اتارا ہے اور حق ہی کے ساتھ وہ اترا ہے، اور (اے حبیبِ مکرّم!) ہم نے آپ کو خوشخبری سنانے والا اور ڈر سنانے والا ہی بنا کر بھیجا ہے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

قرآن کریم کی صفات عالیہ
ارشاد ہے کہ قرآن حق کے ساتھ نازل ہوا، یہ سراسر حق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے ساتھ اسے نازل فرمایا ہے اس کی حقانیت پر وہ خود شاہد ہے اور فرشتے بھی گواہ ہیں اس میں وہی ہے جو اس نے خود اپنی دانست کے ساتھ اتارا ہے اس کے تمام حکم احکام اور نہی و ممانعت اسی طرف سے ہے حق والے نے حق کے ساتھ اسے اتارا اور یہ حق کے ساتھ ہی تجھ تک پہنچا نہ راستے میں کوئی باطل اس میں ملا نہ باطل کی یہ شان کہ اس سے مخلوط ہو سکے۔ یہ بالکل محفوظ ہے، کمی زیادتی سے یکسر پاک ہے۔ پوری طاقت والے امانتدار فرشتے کی معرفت نازل ہوا ہے جو آسمانوں میں ذی عزت اور وہاں کا سردار ہے۔ تیرا کام مومنوں کو خوشی سنانا اور کافروں کو ڈرانا ہے۔ اس قرآن کو ہم نے لوح محفوظ سے بیت العزۃ پر نازل فرمایا جو آسمان اول میں ہے۔ وہاں سے متفرق تھوڑا تھوڑا کر کے واقعات کے مطابق تیئس برس میں دنیا پر نازل ہوا۔ اس کی دوسری قرأت فرقناہ ہے یعنی ایک ایک آیت کر کے تفسیر اور تفصیل اور تبیین کے ساتھ اتارا ہے کہ تو اسے لوگوں کو بہ سہولت پہنچا دے اور آہستہ آہستہ انہیں سنا دے ہم نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ہے۔