Skip to main content

وَلَا تَقْفُ مَا لَـيْسَ لَـكَ بِهٖ عِلْمٌ ۗ اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰۤٮِٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـُٔوْلًا

وَلَا
اور نہ
تَقْفُ
پیچھے پڑو
مَا
جو
لَيْسَ
نہیں
لَكَ
تیرے لئے
بِهِۦ
اس کا کوئی
عِلْمٌۚ
علم
إِنَّ
بیشک
ٱلسَّمْعَ
کان
وَٱلْبَصَرَ
اور آنکھ
وَٱلْفُؤَادَ
اور دل
كُلُّ
یہ سب
أُو۟لَٰٓئِكَ
كَانَ
ہے
عَنْهُ
ان کے بارے میں
مَسْـُٔولًا
سوال کیا جانے والا

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

کسی ایسی چیز کے پیچھے نہ لگو جس کا تمہیں علم نہ ہو یقیناً آنکھ، کان اور دل سب ہی کی باز پرس ہونی ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

کسی ایسی چیز کے پیچھے نہ لگو جس کا تمہیں علم نہ ہو یقیناً آنکھ، کان اور دل سب ہی کی باز پرس ہونی ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور اس بات کے پیچھے نہ پڑ جس کا تجھے علم نہیں بیشک کان اور آنکھ اور دل ان سب سے سوال ہونا ہے

احمد علی Ahmed Ali

اورجس بات کی تجھے خبر نہیں اس کے پیچھے نہ پڑ بے شک کان اورآنکھ اور دل ہر ایک سے باز پرس ہو گی

أحسن البيان Ahsanul Bayan

جس بات کی تمہیں خبر ہی نہ ہو اس کے پیچھے مت (١) پڑ کیونکہ کان اور آنکھ اور دل ان میں سے ہر ایک سے پوچھ گچھ کی جانے والی ہے (٢)۔

٣٦۔١ فَفَا یَقْفُوْ کے معنی ہیں پیچھے لگنا، یعنی جس چیز کا علم نہیں، اس کے پیچھے مت لگو، یعنی بدگمانی مت کرو، کسی کی ٹوہ میں مت رہو، اسی طرح جس چیز کا علم نہیں، اس پر عمل مت کرو۔
٣٦۔٢ یعنی جس چیز کے پیچھے تم پڑو گے اس کے متعلق کان سے سوال ہوگا کہ کیا اس نے سنا تھا، آنکھ سے سوال ہوگا کیا اس نے دیکھا تھا اور دل سے سوال ہوگا کیا اس نے جانا تھا؟ کیونکہ یہی تینوں علم کا ذریعہ ہیں۔ یعنی ان اعضا کو اللہ تعالٰی قیامت والے دن قوت گویائی عطا فرمائے گا اور ان سے پوچھا جائیگا۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور (اے بندے) جس چیز کا تجھے علم نہیں اس کے پیچھے نہ پڑ۔ کہ کان اور آنکھ اور دل ان سب (جوارح) سے ضرور باز پرس ہوگی

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

جس بات کی تجھے خبر ہی نہ ہو اس کے پیچھے مت پڑ۔ کیونکہ کان اور آنکھ اور دل ان میں سے ہر ایک سے پوچھ گچھ کی جانے والی ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور جس چیز کا تمہیں علم نہیں ہے اس کے پیچھے نہ پڑو یقیناً کان، آنکھ اور دل ان سب کے بارے میں (تم سے) بازپرس کی جائے گی۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور جس چیز کا تمہیں علم نہیں ہے اس کے پیچھے مت جانا کہ روزِ قیامت سماعتً بصارت اور قواُ قلب سب کے بارے میں سوال کیا جائے گا

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور (اے انسان!) تو اس بات کی پیروی نہ کر جس کا تجھے (صحیح) علم نہیں، بیشک کان اور آنکھ اور دل ان میں سے ہر ایک سے باز پرس ہوگی،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

بلا تحقیق فیصلہ نہ کرو
یعنی جس بات کا علم نہ ہو اس میں زبان نہ ہلاؤ۔ بغیر علم کے کسی کی عیب جوئی اور بہتان بازی نہ کرو۔ جھوٹی شہادتیں نہ دیتے پھرو۔ بن دیکھے نہ کہہ دیا کرو کہ میں نے دیکھا، نہ بےسنے سننا بیان کرو، نہ بےعلمی پر اپنا جاننا بیان کرو۔ کیونکہ ان تمام باتوں کی جواب دہی اللہ کے ہاں ہوگی۔ غرض وہم خیال اور گمان کے طور پر کچھ کہنا منع ہو رہا ہے۔ جیسے فرمان قرآن ہے آیت ( يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِيْرًا مِّنَ الظَّنِّ 12؀) 49 ۔ الحجرات ;12) ، کہ زیادہ گمان سے بچو، بعض گمان گناہ ہیں۔ حدیث میں ہے گمان سے بچو، گمان بدترین جھوٹی بات ہے۔ ابو داؤد کی حدیث میں ہے انسان کا یہ تکیہ کلام بہت ہی برا ہے کہ لوگ خیال کرتے ہیں۔ اور حدیث میں ہے بدترین بہتان یہ ہے کہ انسان جھوٹ موٹ کوئی خواب گھڑ لے اور صحیح حدیث میں ہے جو شخص ایسا خواب از خود گھڑ لے قیامت کے دن اسے یہ تکلیف دی جائے گی کہ وہ دو جو کے درمیان گرہ لگائے اور یہ اس سے ہرگز نہیں ہونا۔ قیامت کے دن آنکھ کان دل سب سے باز پرس ہوگی سب کو جواب دہی کرنی ہوگی۔ یہاں تلک کی جگہ اولئک کا استعمال ہے، عرب میں استعمال برابر جاری ہے یہاں تک کہ شاعروں کے شعروں میں بھی۔