Skip to main content

ذٰلِكَ جَزَاۤؤُهُمْ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِنَا وَقَالُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّرُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِيْدًا

ذَٰلِكَ
یہ
جَزَآؤُهُم
ان کی جزا ہے
بِأَنَّهُمْ
بوجہ اس کے کہ بیشک انہوں نے
كَفَرُوا۟
انہوں نے کفر کیا
بِـَٔايَٰتِنَا
ہماری آیات کا
وَقَالُوٓا۟
اور انہوں نے کہا
أَءِذَا
کیا جب ہوں گے
كُنَّا
ہم
عِظَٰمًا
ہڈیاں
وَرُفَٰتًا
اور ریزہ ریزہ
أَءِنَّا
کیا بیشک ہم
لَمَبْعُوثُونَ
البتہ اٹھائیں جائیں گے
خَلْقًا
پیدائش میں
جَدِيدًا
نئی

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

یہ بدلہ ہے ان کی اس حرکت کا کہ انہوں نے ہماری آیات کا انکار کیا اور کہا "کیا جب ہم صرف ہڈیاں اور خاک ہو کر رہ جائیں گے تو نئے سرے سے ہم کو پیدا کر کے اٹھا کھڑا کیا جائے گا؟"

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

یہ بدلہ ہے ان کی اس حرکت کا کہ انہوں نے ہماری آیات کا انکار کیا اور کہا "کیا جب ہم صرف ہڈیاں اور خاک ہو کر رہ جائیں گے تو نئے سرے سے ہم کو پیدا کر کے اٹھا کھڑا کیا جائے گا؟"

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

یہ ان کی سزا ہے اس پر کہ انہوں نے ہماری آیتوں سے انکار کیا اور بولے کیا جب ہم ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے تو کیا سچ مچ ہم نئے بن کر اٹھائے جائیں گے،

احمد علی Ahmed Ali

یہ ان کی سزا اس لیے ہے کہ انہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا اور کہا کہ کیا جب ہم ہڈیاں اور چورا ہو جائیں گے توپھر نئے ے سرے سے بنا کر اٹھائے جائیں گے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

یہ سب ہماری آیتوں سے کفر کرنے اور اس کے کہنے کا بدلہ ہے کہ کیا جب ہم ہڈیاں اور ریزے ریزے ہوجائیں گے پھر ہم نئی پیدائش میں اٹھ کھڑے کئے جائیں (١) گے؟

٩٨۔١ یعنی جہنم کی یہ سزا ان کو اس لئے دی جائیگی کہ انہوں نے ہماری نازل کردہ آیات کی تصدیق نہیں کی اور کائنات میں پھیلی ہوئی تکوینی آیات پر غور و فکر نہیں کیا، جس کی وجہ سے انہوں نے و قوع قیامت اور بعث بعد الموت کو محال خیال کیا اور کہا کہ ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہو جانے کے بعد ہمیں نئی پیدائش کس طرح مل سکتی ہے؟

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

یہ ان کی سزا ہے اس لئے کہ وہ ہماری آیتوں سے کفر کرتے تھے اور کہتے تھے کہ جب ہم (مر کر بوسیدہ) ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے تو کیا ازسرنو پیدا کئے جائیں گے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

یہ سب ہماری آیتوں سے کفر کرنے اور اس کہنے کا بدلہ ہے کہ کیا جب ہم ہڈیاں اور ریزے ریزے ہوجائیں گے پھر ہم نئی پیدائش میں اٹھا کھڑے کئے جائیں گے؟

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

یہ ان کی سزا ہے کیونکہ انہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا۔ اور کہا کہ جب ہم (گل سڑ کر) ہڈیاں اور چورہ ہو جائیں گے تو کیا ہم ازسرِنو پیدا کرکے اٹھائے جائیں گے؟

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

یہ اس بات کی سزا ہے کہ انہوں نے ہماری نشانیوں کا انکار کیا ہے اور یہ کہا ہے کہ ہم ہڈیاں اور مٹی کا ڈھیر بن جائیں گے تو کیا دوبارہ ازسر هنو پھر پیدا کئے جائیں گے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

یہ ان لوگوں کی سزا ہے اس وجہ سے کہ انہوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا اور یہ کہتے رہے کہ کیا جب ہم (مَر کر بوسیدہ) ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہو جائیں گے تو کیا ہم اَز سرِ نو پیدا کر کے اٹھائے جائیں گے؟،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

بوسیدہ ہڈیاں پھر توانا ہوں گی
فرمان ہے کہ اوپر جن منکروں کو جس سزا کا ذکر ہوا ہم وہ اسی کے قابل تھے، وہ ہماری دلیلوں کو جھوٹ سمجھتے تھے اور قیامت کے قائل ہی نہ تھے اور صاف کہتے تھے کہ بوسیدہ ہڈیاں ہوجانے کے بعد مٹی کے ریزوں سے مل جانے کے بعد ہلاک اور برباد ہو چکنے کے بعد کا دوبارہ جی اٹھنا تو عقل کے باہر ہے۔ پس ان کے جواب میں قرآن نے اس کی ایک دلیل پیش کی کہ اس زبردست قدرت کے مالک نے آسمان و زمین کو بغیر کسی چیز کے اول بار بلا نمونہ پیدا کیا جس کی قدرت ان بلند وبالا، وسیع اور سخت مخلوق کی ابتدائی پیدائش سے عاجز نہیں۔ کیا وہ تمہیں دوبارہ پیدا کرنے سے عاجز ہوجائے گا ؟ آسمان زمین کی پیدائش تو تمہاری پیدائش سے بہت بڑی ہے وہ ان کے پیدا کرنے میں نہیں تھکا کیا وہ مردوں کو زندہ کرنے سے بےاختیار ہوجائے گا ؟ کیا آسمان و زمین کا خالق انسانوں جیسے اور پیدا نہیں کرسکتا ؟ بیشک کرسکتا ہے اس کا حکم ہی چیز کے وجود کیلئے کافی وافی ہے۔ وہ انہیں قیامت کے دن دوبارہ نئی پیدائش میں ضرور اور قطعا پیدا کرے گا اس نے ان کے اعادہ کی، ان کے قبروں سے نکل کھڑے ہونے کی مدت مقرر کر رکھی ہے۔ اس وقت یہ سب کچھ ہو کر رہے گا یہاں کی قدرے تاخیر صرف معینہ وقت کو پورا کرنے کیلئے ہے۔ افسوس کس قدر واضح دلائل کے بعد بھی لوگ کفر و ضلالت کو نہیں چھوڑتے۔