Skip to main content

سَيَـقُوْلُوْنَ ثَلٰثَةٌ رَّابِعُهُمْ كَلْبُهُمْۚ وَيَقُوْلُوْنَ خَمْسَةٌ سَادِسُهُمْ كَلْبُهُمْ رَجْمًۢا بِالْغَيْبِۚ وَيَقُوْلُوْنَ سَبْعَةٌ وَّثَامِنُهُمْ كَلْبُهُمْۗ قُلْ رَّبِّىْۤ اَعْلَمُ بِعِدَّتِهِمْ مَّا يَعْلَمُهُمْ اِلَّا قَلِيْلٌۗ فَلَا تُمَارِ فِيْهِمْ اِلَّا مِرَاۤءً ظَاهِرًاۖ وَّلَا تَسْتَفْتِ فِيْهِمْ مِّنْهُمْ اَحَدًا

سَيَقُولُونَ
عنقریب وہ کہیں گے
ثَلَٰثَةٌ
تین تھے
رَّابِعُهُمْ
چوتھا ان کا
كَلْبُهُمْ
ان کا کتا تھا
وَيَقُولُونَ
اور وہ کہیں گے
خَمْسَةٌ
پانچ تھے
سَادِسُهُمْ
چھٹا ان کا
كَلْبُهُمْ
ان کا کتا تھا
رَجْمًۢا
پھینکتے ہیں
بِٱلْغَيْبِۖ
بن دیکھے
وَيَقُولُونَ
اور وہ کہیں گے
سَبْعَةٌ
سات تھے
وَثَامِنُهُمْ
اور آٹھواں ان کا
كَلْبُهُمْۚ
ان کا کتا تھا
قُل
کہہ دیجئے
رَّبِّىٓ
میرا رب
أَعْلَمُ
زیادہ جانتا ہے
بِعِدَّتِهِم
ان کی گنتی کو
مَّا
نہیں
يَعْلَمُهُمْ
جانتے ان کو
إِلَّا
مگر
قَلِيلٌۗ
بہت کم
فَلَا
تو نہ
تُمَارِ
تم جھگڑا کرو
فِيهِمْ
ان کے بارے میں
إِلَّا
مگر
مِرَآءً
جھگڑنا
ظَٰهِرًا
ظاہری
وَلَا
اور نہ
تَسْتَفْتِ
تم پوچھنا
فِيهِم
ان کے بارے میں
مِّنْهُمْ
ان میں سے،
أَحَدًا
کسی ایک سے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

کچھ لوگ کہیں گے کہ وہ تین تھے اور چوتھا ان کا کتا تھا اور کچھ دوسرے کہہ دیں گے کہ پانچ تھے اور چھٹا اُن کا کتا تھا یہ سب بے تکی ہانکتے ہیں کچھ اور لوگ کہتے ہیں کہ سات تھے اور آٹھواں اُن کا کتا تھا کہو، میرا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کتنے تھے کم ہی لوگ ان کی صحیح تعداد جانتے ہیں پس تم سرسری بات سے بڑھ کر ان کی تعداد کے معاملے میں لوگوں سے بحث نہ کرو، اور نہ ان کے متعلق کسی سے کچھ پوچھو

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

کچھ لوگ کہیں گے کہ وہ تین تھے اور چوتھا ان کا کتا تھا اور کچھ دوسرے کہہ دیں گے کہ پانچ تھے اور چھٹا اُن کا کتا تھا یہ سب بے تکی ہانکتے ہیں کچھ اور لوگ کہتے ہیں کہ سات تھے اور آٹھواں اُن کا کتا تھا کہو، میرا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کتنے تھے کم ہی لوگ ان کی صحیح تعداد جانتے ہیں پس تم سرسری بات سے بڑھ کر ان کی تعداد کے معاملے میں لوگوں سے بحث نہ کرو، اور نہ ان کے متعلق کسی سے کچھ پوچھو

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اب کہیں گے کہ وہ تین ہیں چوتھا ان کا کتا اور کچھ کہیں گے پانچ ہیں، چھٹا ان کا کتا بے دیکھے الاؤتکا (تیر تکا) بات اور کچھ کہیں گے سات ہیں اور آٹھواں ان کا کتا تم فرماؤ میرا رب ان کی گنتی خوب جانتا ہے انہیں نہیں جانتے مگر تھوڑے تو ان کے بارے میں بحث نہ کرو مگر اتنی ہی بحث جو ظاہر ہوچکی

احمد علی Ahmed Ali

بعض کہیں گے تین ہیں چوتھا ان کا کتا ہے اور بعض اٹکل پچو سے کہیں گے پانچ ہیں چھٹا ان کا کتا ہے اور بعض کہیں گے سات ہیں آٹھواں ان کا کتا ہے کہہ دو ان کی گنتی میرا رب ہی خوب جانتا ہے ان کا اصلی حال تو بہت ہی کم لوگ جانتے ہیں سو تو ان کے بارے میں سرسری گفتگو کے سوا جھگڑا نہ کرو ان میں سے کسی سےبھی انکا حال دریافت نہ کر

أحسن البيان Ahsanul Bayan

کچھ لوگ تو کہیں گے کہ اصحاب کہف تین تھے اور چوتھا ان کا کتا تھا، کچھ کہیں گے کہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتا تھا (١) غیب کی باتوں میں (اٹکل (کے تیر تکے) چلاتے ہیں (٢) کچھ کہیں گے سات ہیں آٹھواں ان کا کتا (٣) ہے آپ کہہ دیجئے کہ میرا پروردگار ان کی تعداد کو بخوبی جاننے والا ہے، انہیں بہت ہی کم لوگ جانتے ہیں (٤) پس آپ ان کے بارے میں صرف سرسری گفتگو ہی کریں (٥) اور ان میں سے کسی سے ان کے بارے میں پوچھ گچھ بھی نہ کریں (٦)۔

٢٢۔١ یہ کہنے والے اور ان کی مختلف تعداد بتلانے والے عہد رسالت کے مؤمن اور کافر تھے، خصوصاً اہل کتاب جو کتب آسمانی سے آگاہی اور علم کا دعویٰ رکھتے تھے۔
٢٢۔٢ یعنی علم ان میں سے کسی کے پاس نہیں، جس طرح بغیر دیکھے کوئی پتھر مارے، یہ بھی اس طرح اٹکل پچو باتیں کر رہے ہیں۔
٢٢۔٣ اللہ تعالٰی نے صرف تین قول بیان فرمائے، پہلے وہ دو قولوں کو رَجْمَا بِالْغَیْبِ (ظن و تخمین) کہہ کر ان کو کمزور رائے قرار دیا اور اس تیسرے قول کا ذکر اس کے بعد کیا، جس سے اہل تفسیر نے استدلال کیا ہے کہ یہ انداز اس قول کی صحت کی دلیل ہے اور فی الواقع ان کی اتنی ہی تعداد تھی (ابن کثیر)
٢٢۔٤ بعض صحابہ سے مروی ہے کہ وہ کہتے تھے میں بھی ان کم لوگوں میں سے ہوں جو یہ جانتے ہیں کہ اصحاب کہف کی تعداد کتنی تھی؟ وہ صرف سات تھے جیسا کہ تیسرے قول میں بتلایا گیا ہے (ابن کثیر)
٢٢۔٥ یعنی صرف ان ہی باتوں پر اکتفا کریں جن کی اطلاع آپ کو وحی کے ذریعے سے کر دی گئی ہے۔ یا تعین عدد میں بحث و تکرار نہ کریں، صرف یہ کہہ دیں کہ اس تعین کی کوئی دلیل نہیں ہے۔
٢٢۔٦ یعنی بحث کرنے والوں سے ان کی بابت کچھ نہ پوچھیں، اس لئے کہ جس سے پوچھا جائے، اس کو پوچھنے والے سے زیادہ علم ہونا چاہئے، جب کہ یہاں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ آپ کے پاس تو پھر بھی یقینی علم کا ایک ذریعہ وحی، موجود ہے، جب کہ دوسروں کے پاس ذہنی تصور کے سوا کچھ بھی نہیں۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

(بعض لوگ) اٹکل پچو کہیں گے کہ وہ تین تھے (اور) چوتھا ان کا کتّا تھا۔ اور (بعض) کہیں گے کہ وہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتّا تھا۔ اور (بعض) کہیں گے کہ وہ سات تھے اور آٹھواں ان کا کتّا تھا۔ کہہ دو کہ میرا پروردگار ہی ان کے شمار سے خوب واقف ہے ان کو جانتے بھی ہیں تو تھوڑے ہی لوگ (جانتے ہیں) تو تم ان (کے معاملے) میں گفتگو نہ کرنا مگر سرسری سی گفتگو۔ اور نہ ان کے بارے میں ان میں کسی سے کچھ دریافت ہی کرنا

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

کچھ لوگ تو کہیں گے کہ اصحاب کہف تین تھے اور چوتھا ان کا کتا تھا۔ کچھ کہیں گے کہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتا تھا، غیب کی باتوں میں اٹکل (کے تیر تکے) چلاتے ہیں، کچھ کہیں گے کہ وه سات ہیں اور آٹھواں ان کا کتا ہے۔ آپ کہہ دیجیئے کہ میرا پروردگار ان کی تعداد کو بخوبی جاننے واﻻ ہے، انہیں بہت ہی کم لوگ جانتے ہیں۔ پس آپ ان کے مقدمے میں صرف سرسری گفتگو کریں اور ان میں سے کسی سے ان کے بارے میں پوچھ گچھ بھی نہ کریں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

عنقریب کچھ لوگ کہہ دیں گے کہ وہ تین تھے اور چوتھا ان کا کتا تھا۔ اور کچھ کہہ دیں گے کہ وہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتا تھا۔ (اے رسول(ص)) کہہ دیجیئے کہ میرا پروردگار ہی ان کی تعداد کو بہتر جانتا ہے۔ اور بہت کم لوگوں کو ان کا علم ہے۔ سو ان کے بارے میں سوائے سرسری گفتگو کے لوگوں سے زیادہ بحث نہ کریں اور نہ ہی ان کے بارے میں ان میں سے کسی سے کچھ پوچھیں۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

عنقریب یہ لوگ کہیں گے کہ وہ تین تھے اور چوتھا ان کا کتاّ تھا اور بعض کہیں گے کہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتا تھا اور یہ سب صرف غیبی اندازے ہوں گے اور بعض تو یہ بھی کہیں گے کہ وہ سات تھے اور آٹھواں ان کا کتا تھا-آپ کہہ دیجئے کہ خدا ان کی تعداد کو بہتر جانتا ہے اورچند افراد کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ہے لہذا آپ ان سے ظاہری گفتگو کے علاوہ واقعا کوئی بحث نہ کریں اور ان کے بارے میں کسی سے دریافت بھی نہ کریں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

(اب) کچھ لوگ کہیں گے: (اصحابِ کہف) تین تھے ان میں سے چوتھا ان کا کتا تھا، اور بعض کہیں گے: پانچ تھے ان میں سے چھٹا ان کا کتا تھا، یہ بِن دیکھے اندازے ہیں، اور بعض کہیں گے: (وہ) سات تھے اور ان میں سے آٹھواں ان کا کتا تھا۔ فرما دیجئے: میرا رب ہی ان کی تعداد کو خوب جانتا ہے اور سوائے چند لوگوں کے ان (کی صحیح تعداد) کا علم کسی کو نہیں، سو آپ کسی سے ان کے بارے میں بحث نہ کیا کریں سوائے اس قدر وضاحت کے جو ظاہر ہو چکی ہے اور نہ ان میں سے کسی سے ان (اصحابِ کہف) کے بارے میں کچھ دریافت کریں،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

اصحاف کہف کی تعداد
لوگ اصحاف کہف کی گنتی میں گچھ کا کچھ کہا کرتے تھے تین قسم کے لوگ تھے چوتھی گنتی بیان نہیں فرمائی۔ دو پہلے کے اقوال کو تو ضعیف کردیا کہ یہ اٹکل کے تکے ہیں، بےنشانے کے پتھر ہیں، کہ اگر کہیں لگ جائیں تو کمال نہیں نہ لگیں تو زوال نہیں، ہاں تیسرا قول بیان فرما کر سکوت اختیار فرمایا تردید نہیں کی یعنی سات وہ آٹھواں ان کا کتا اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہی بات صحیح اور واقع میں یونہی ہے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ایسے موقع پر بہتر یہی ہے کہ علم اللہ کی طرف اسے لوٹا دیا جائے ایسی باتوں میں کوئی صحیح علم نہ ہونے کی وجہ سے غور و خوض کرنا عبث ہے، جس بات کا علم ہوجائے منہ سے نکالے ورنہ خاموش رہے۔ اس گنتی کا صحیح علم بہت کم لوگوں کو ہے۔ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں میں انہیں میں سے ہوں، میں جانتا ہوں وہ سات تھے۔ حضرت عطا خراسانی (رح) کا قول بھی یہی ہے اور یہی ہم نے پہلے لکھا تھا۔ ان میں سے بعض تو بہت ہی کم عمر تھے۔ عنفوان شباب میں تھے یہ لوگ دن رات اللہ کی عبادت میں مشغول رہتے تھے، روتے رہتے تھے اور اللہ تعالیٰ سے فریاد کرتے رہتے تھے۔ مروی ہے کہ یہ تو نو تھے ان میں سے جو سب سے بڑے تھے ان کا نام مکسلمین تھا اسی نے بادشاہ سے باتیں کی تھیں اور اسے اللہ واحد کی عبادت کی دعوت دی تھی۔ باقی کے نام یہ ہیں فحستلمین، تملیخ، مطونس، کشطونس، بیرونس، دنیموس، بطونس اور قابوس۔ ہاں ابن عباس (رض) کی صحیح روایت یہی ہے کہ یہ سات شخص تھے آیت کے ظاہری الفاظ سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔ شعیب جبائی کہتے ہیں ان کے کتے کا نام حمران تھا لیکن ان ناموں کی صحت میں نظر ہے واللہ اعلم۔ ان میں کی بہت سی چیزیں اہل کتاب سے لی ہوئی ہیں۔ پھر اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرمایا کہ آپ ان کے بارے میں زیادہ بحث مباحثہ نہ کریں یہ ایک نہایت ہی ہلکا کام ہے جس میں کوئی بڑا فائدہ نہیں اور نہ ان کے بارے میں کسی سے دریافت کیجئے، کیونکہ عموما وہ اپنے دل سے جوڑ کر کہتے ہیں کوئی صحیح اور سچی دلیل ان کے ہاتھوں میں نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے، جو کچھ آپ کے سامنے بیان فرمایا ہے، یہ جھوٹ سے پاک ہے، شک شبہ سے دور ہے، قابل ایمان و یقین ہے، بس یہی حق ہے اور سب سے مقدم ہے۔