Skip to main content
ARBNDEENIDTRUR

وَالْمُطَلَّقٰتُ يَتَرَ بَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ ثَلٰثَةَ قُرُوْۤءٍ ۗ وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ اَنْ يَّكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِىْۤ اَرْحَامِهِنَّ اِنْ كُنَّ يُؤْمِنَّ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِۗ وَبُعُوْلَتُهُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِىْ ذٰلِكَ اِنْ اَرَادُوْۤا اِصْلَاحًا ۗ وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِىْ عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِۖ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ ۗ وَاللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ

وَالْمُطَلَّقٰتُ
اور عورتیں جو طلاق یافتہ ہیں
يَتَرَبَّصْنَ
انتظار کریں وہ
بِاَنْفُسِهِنَّ
ساتھ اپنے نفسوں کے
ثَلٰثَةَ
تین
قُرُوْۗءٍ ۭ
حیض۔ طہر
وَلَا
اور نہیں
يَحِلُّ
حلال
لَهُنَّ
ان کے لیے
اَنْ
کہ
يَّكْتُمْنَ
وہ چھپائیں
مَا
جو
خَلَقَ
پیدا کیا
اللّٰهُ
اللہ نے
فِيْٓ اَرْحَامِهِنَّ
ان کے رحموں میں
اِنْ
اگر
كُنَّ
وہ ہیں
يُؤْمِنَّ
ایمان رکھتیں
بِاللّٰهِ
اللہ پر
وَالْيَوْمِ
اور یوم
الْاٰخِرِ ۭ
آخرت پر
وَبُعُوْلَتُهُنَّ
اور ان کے شوہر
اَحَقُّ
زیادہ حق دار ہیں
بِرَدِّھِنَّ
ان کو لوٹانے کے
فِيْ ذٰلِكَ
اس میں
اِنْ
اگر
اَرَادُوْٓا
وہ ارادہ کریں۔ وہ چاہتے ہوں
اِصْلَاحًا ۭ
اصلاح کو
وَلَهُنَّ
اور ان کے لیے
مِثْلُ
مانند
الَّذِيْ
اس کے ہے۔ جو
عَلَيْهِنَّ
اوپر ان کے ہے
بِالْمَعْرُوْفِ ۠
ساتھ معروف طریقے کے
وَلِلرِّجَالِ
اور مردوں کے لیے
عَلَيْهِنَّ
ان پر
دَرَجَةٌ ۭ
ایک درجہ ہے
وَاللّٰهُ
اور اللہ
عَزِيْزٌ
زبردست ہے
حَكِيْمٌ
حکمت والا ہے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو، وہ تین مرتبہ ایام ماہواری آنے تک اپنے آپ کو روکے رکھیں اور اُن کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ اللہ نے اُن کے رحم میں جو کچھ خلق فرمایا ہو، اُسے چھپائیں اُنہیں ہرگز ایسا نہ کرنا چاہیے، اگر وہ اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتی ہیں اُن کے شوہر تعلقات درست کر لینے پر آمادہ ہوں، تو وہ اِس عدت کے دوران اُنہیں پھر اپنی زوجیت میں واپس لے لینے کے حق دار ہیں عورتوں کے لیے بھی معروف طریقے پر ویسے ہی حقوق ہیں، جیسے مردوں کے حقوق اُن پر ہیں البتہ مردوں کو اُن پر ایک درجہ حاصل ہے اور سب پر اللہ غالب اقتدار رکھنے والا اور حکیم و دانا موجود ہے

ابوالاعلی مودودی

جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو، وہ تین مرتبہ ایام ماہواری آنے تک اپنے آپ کو روکے رکھیں اور اُن کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ اللہ نے اُن کے رحم میں جو کچھ خلق فرمایا ہو، اُسے چھپائیں اُنہیں ہرگز ایسا نہ کرنا چاہیے، اگر وہ اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتی ہیں اُن کے شوہر تعلقات درست کر لینے پر آمادہ ہوں، تو وہ اِس عدت کے دوران اُنہیں پھر اپنی زوجیت میں واپس لے لینے کے حق دار ہیں عورتوں کے لیے بھی معروف طریقے پر ویسے ہی حقوق ہیں، جیسے مردوں کے حقوق اُن پر ہیں البتہ مردوں کو اُن پر ایک درجہ حاصل ہے اور سب پر اللہ غالب اقتدار رکھنے والا اور حکیم و دانا موجود ہے

احمد رضا خان

اور طلاق والیاں اپنی جانوں کو روکے رہیں تین حیض تک اور انہیں حلال نہیں کہ چھپائیں وہ جو اللہ نے ان کے پیٹ میں پیدا کیا اگر اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتی ہیں اور ان کے شوہروں کو اس مدت کے اندر ان کے پھیر لینے کا حق پہنچتا ہے اگر ملاپ چاہیں اور عورتوں کا بھی حق ایسا ہی ہے جیسا ان پر ہے شرع کے موافق اور مردوں کو ان پر فضیلت ہے، اور اللہ غالب حکمت والا ہے،

احمد علی

اور طلاق دی ہوئی عورتیں تین حیض تک اپنے آپ کو روکے رکھیں اور ان کے لیے جائز نہیں کہ چھپائیں جو الله نے ان کے پیٹوں میں پیدا کیاہے اگر وہ الله اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہیں اوران کے خاوند اس مدت میں ان کو لوٹالینے کے زیادہ حق دار ہیں اگر وہ اصلاح کا اردہ رکھتے ہیں اور دستور کے مطابق ان کا ویسا ہی حق ہےجیسا ان پر ہے اور مردوں کو ان پر فضیلت دی ہے اور الله غالب حکمت والا ہے

جالندہری

اور طلاق والی عورتیں تین حیض تک اپنی تئیں روکے رہیں۔ اور اگر وہ خدا اور روز قیامت پر ایمان رکھتی ہیں تو ان کا جائز نہیں کہ خدا نے جو کچھ ان کے شکم میں پیدا کیا ہے اس کو چھپائیں۔ اور ان کے خاوند اگر پھر موافقت چاہیں تو اس (مدت) میں وہ ان کو اپنی زوجیت میں لے لینے کے زیادہ حقدار ہیں۔ اور عورتوں کا حق (مردوں پر) ویسا ہی ہے جیسے دستور کے مطابق (مردوں کا حق) عورتوں پر ہے۔ البتہ مردوں کو عورتوں پر فضیلت ہے۔ اور خدا غالب (اور) صاحب حکمت ہے

محمد جوناگڑھی

طلاق والی عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں، انہیں حلال نہیں کہ اللہ نے ان کے رحم میں جو پیدا کیا ہو اسے چھپائیں، اگر انہیں اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہو، ان کے خاوند اس مدت میں انہیں لوٹا لینے کے پورے حقدار ہیں اگر ان کا اراده اصلاح کا ہو۔ اور عورتوں کے بھی ویسے ہی حق ہیں جیسے ان پر مردوں کے ہیں اچھائی کے ساتھ۔ ہاں مردوں کو عورتوں پر فضلیت ہے اور اللہ تعالیٰ غالب ہے حکمت واﻻ ہے

محمد حسین نجفی

اور جن عورتوں کو طلاق دی جائے تو وہ اپنے آپ کو (عقد ثانی) سے روکیں۔ تین مرتبہ ایام ماہواری سے پاک ہونے تک۔ اور اگر وہ خدا اور روزِ جزاء پر ایمان رکھتی ہیں تو ان کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ اسے چھپائیں۔ جوکہ خدا نے ان کے رحموں (شکموں) میں پیدا کیا ہے۔ اور اس دوران ان کے شوہر اگر تعلقات بحال کرنا چاہیں تو وہ انہیں واپس بلانے (اور اپنی زوجیت میں رکھنے کے) زیادہ حقدار ہیں اور اس دوران دستورِ شریعت کے مطابق عورتوں کے کچھ حقوق ہیں جس طرح کہ مردوں کے حقوق ہیں ہاں البتہ مردوں کو ان پر ایک درجہ فوقیت ہے۔ خدا زبردست (حاکم) اور حکمت والا ہے۔

علامہ جوادی

مطلقہ عورتیں تین حیض تک انتظار کریں گی اور انہیں حق نہیں ہے کہ جو کچھ خدا نے ان کے رحم میں پیدا کیا ہے اس کی پردہ پوشی کریں اگر ان کا ایمان اللہ اور آخرت پر ہے. اورپھر ان کے شوہر اس مدّت میں انہیں واپس کرلینے کے زیادہ حقدار ہیں اگر اصلاح چاہتے ہیں .اور عورتوں کے لئے ویسے ہی حقوق بھی ہیں جیسی ذمہ داریاں ہیں اور مردوں کو ان پر ایک امتیاز حاصل ہے اور خدا صاحبِ عزّت و حکمت ہے

طاہر القادری

اور طلاق یافتہ عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں، اور ان کے لئے جائز نہیں کہ وہ اسے چھپائیں جو اﷲ نے ان کے رحموں میں پیدا فرما دیا ہو، اگر وہ اﷲ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہیں، اور اس مدت کے اندر ان کے شوہروں کو انہیں (پھر) اپنی زوجیت میں لوٹا لینے کا حق زیادہ ہے اگر وہ اصلاح کا ارادہ کر لیں، اور دستور کے مطابق عورتوں کے بھی مردوں پر اسی طرح حقوق ہیں جیسے مردوں کے عورتوں پر، البتہ مردوں کو ان پر فضیلت ہے، اور اﷲ بڑا غالب بڑی حکمت والا ہے،

تفسير ابن كثير

طلاق کے مسائل ;
ان عورتوں کو جو خاوندوں سے مل چکی ہوں اور بالغہ ہوں، حکم ہو رہا ہے کہ طلاق کے بعد تین حیض تک رکی رہیں پھر اگر چاہیں تو اپنا نکاح دوسرا کرسکتی ہیں، ہاں چاروں اماموں نے اس میں لونڈی کو مخصوص کردیا ہے وہ دو حیض عدت گزارے کیونکہ لونڈی ان معاملات میں آزاد عورت سے آدھے پر ہے لیکن حیض کی مدت کا ادھورا ٹھیک نہیں بیٹھتا، اس لئے وہ دو حیض گزارے۔ ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ لونڈی کی طلاقیں بھی دو ہیں اور اس کی عدت بھی دو حیض ہیں۔ (ابن جریر) لیکن اس کے راوی حضرت مظاہر ضعیف ہیں، یہ حدیث ترمذی، ابو داؤد اور ابن ماجہ بھی ہے۔ امام حافظ دارقطنی فرماتے ہیں گو اس کی نسبت بھی امام دارقطنی یہی فرماتے ہیں کہ یہ حضرت عبداللہ کا اپنا قول ہی ہے۔ اسی طرح خود خلیفۃ المسلمین حضرت فاروق اعظم سے مروی ہے، بلکہ صحابہ میں اس مسئلہ میں اختلاف ہی نہ تھا، ہاں بعض سلف سے یہ بھی مروی ہے کہ عدت کے بارے میں آزاد اور لونڈی برابر ہے، کیونکہ آیت اپنی عمومیت کے لحاظ سے دونوں کو شامل ہے اور اس لئے بھی کہ یہ فطری امر ہے لونڈی اور آزاد عورت اس میں یکساں ہیں۔ محمد بن سیرین اور بعض اہل ظاہر کا یہی قول ہے لیکن یہ ضعیف ہے۔ ابن ابی حاتم کی ایک غریب سند والی روایت میں ہے کہ حضرت اسماء بن یزید بن سکن انصاریہ کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے، اس سے پہلے طلاق کی عدت نہ تھی۔ سب سے پہلے عدت کا حکم ان ہی کی طلاق کے بعد نازل ہوا۔ قروء کے معنی میں سلف خلف کا برابر اختلاف رہا ہے۔ ایک قول تو یہ ہے کہ اس سے مراد طہر یعنی پاکی ہے۔ حضرت عائشہ کا یہی فرمان ہے چناچہ انہوں نے اپنی بھتیجی حضرت عبدالرحمن کی بیٹی حفصہ کو جبکہ وہ تین طہر گزار چکیں اور تیسرا حیض شروع ہوا تو حکم دیا کہ وہ مکان بدل لیں۔ حضرت عروہ نے جب یہ روایت بیان کی تو حضرت عمرہ نے جو صدیقہ کی دوسری بھتیجی ہیں، اس واقعہ کی تصدیق کی اور فرمایا کہ لوگوں نے حضرت صدیقہ پر اعتراض بھی کیا تو آپ نے فرمایا اقراء سے مراد طہر ہیں (موطا مالک) بلکہ موطا میں ابوبکر بن عبدالرحمن کا تو یہ قول بھی مروی ہے کہ میں نے سمجھدار علماء فقہاء کو قروء کی تفسیر طہر سے ہی کرتے سنا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر بھی یہی فرماتے ہیں کہ جب تیسرا حیض شروع ہوا تو یہ اپنے خاوند سے بری ہوگی اور خاوند اس سے الگ ہوا (موطا) امام مالک فرماتے ہیں ہمارے نزدیک بھی مستحق امر یہی ہے۔ ابن عباس، زید بن ثابت، سالم، قاسم، عروہ، سلیمان بن یسار، ابوبکر بن عبدالرحمن، ابان بن عثمان، عطاء، قتادہ، زہری اور باقی ساتوں فقہاء کا بھی یہی قول ہے۔ امام مالک، امام شافعی کا بھی یہی مذہب ہے۔ داؤد اور ابو ثور بھی یہی فرماتے ہیں۔ امام احمد سے بھی ایک روایت اسی طرح کی مروی ہے اس کی دلیل ان بزرگوں نے قرآن کی اس آیت سے بھی نکالی ہے کہ آیت ( فطلقوھن لعدتھن) یعنی انہیں عدت میں یعنی طہر میں پاکیزگی کی حالت میں طلاق دو ، چونکہ جس طہر میں طلاق دی جاتی ہے وہ بھی گنتی میں آتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ آیت مندرجہ بالا میں بھی قروء سے مراد حیض کے سوا کی یعنی پاکی حالت ہے، اسی لئے یہ حضرات فرماتے ہیں کہ جہاں تیسرا حیض شروع ہو اور عورت نے اپنے خاوند کی عدت سے باہر ہوگئی اور اس کی کم سے کم مدت جس میں اگر عورت کہے کہ اسے تیسرا حیض شروع ہوگیا ہے تو اسے سچا سمجھا جائے۔ بتیس دن اور دو لحظہ ہیں، عرب شاعروں کے شعر میں بھی یہ لفظ طہر کے معنی میں مستعمل ہوا ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد تین حیض ہیں، اور جب تک تیسرے حیض سے پاک نہ ہو لے تب تک وہ عدت ہی میں ہے۔ بعض نے غسل کرلینے تک کہا ہے اور اس کی کم سے کم مدت تینتیس دن اور ایک لحظہ ہے اس کی دلیل میں ایک تو حضرت عمر فاروق کا یہ فیصلہ ہے کہ ان کے پاس ایک مطلقہ عورت آئی اور کہا کہ میرے خاوند نے مجھے ایک یا دو طلاقیں دی تھیں پھر وہ میرے پاس اس وقت آیا جبکہ اپنے کپڑے اتار کر دروازہ بند کئے ہوئے تھی (یعنی تیسرے حیض سے نہانے کی تیاری میں تھی تو فرمائے کیا حکم ہے یعنی رجوع ہوجائے گا یا نہیں ؟ ) آپ نے فرمایا میرا خیال تو یہی ہے رجوع ہوگیا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود نے اس کی تائید کی۔ حضرت صدیق اکبر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت ابو درداء، حضرت عبادہ بن صامت، حضرت انس بن مالک، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت معاذ، حضرت ابی بن کعب، حضرت ابو موسیٰ اشعری، حضرت ابن عباس (رض) سے بھی یہی مروی ہے۔ سعید بن مسیب، علقمہ، اسود، ابراہیم، مجاہد، عطاء، طاؤس، سعید بن جبیر، عکرمہ، محمد بن سیرین، حسن، قتاوہ، شعبی، ربیع، مقاتل بن حیات، سدی، مکحول، ضحاک، عطاء خراسانی بھی یہی فرماتے ہیں۔ امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب کا بھی یہی مذہب ہے۔ امام احمد سے بھی زیادہ صحیح روایت میں یہی مروی ہے آپ فرماتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بڑے بڑے صحابہ کرام سے یہی مروی ہے۔ ثوری، اوزاعی، ابن ابی لیلی، ابن شیرمہ، حسن بن صالح، ابو عبید اور اسحاق بن راہویہ کا قول بھی یہی ہے۔ ایک حدیث میں بھی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت فاطمہ بن ابی جیش سے فرمایا تھا نماز کو اقراء کے دنوں میں چھوڑ دو ۔ پس معلوم ہوا کہ قروء سے مراد حیض ہے لیکن اس حدیث کا ایک راوی منذر مجہول ہے جو مشہور نہیں۔ ہاں ابن حبان اسے ثقہ بتاتے ہیں۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں لغتاً قرء کہتے ہیں ہر اس چیز کے آنے اور جانے کے وقت کو جس کے آنے جانے کا وقت مقرر ہو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس لفظ کے دونوں معنی ہیں حیض کے بھی اور طہر کے بھی اور بعض اصولی حضرات کا یہی مسلک ہے واللہ اعلم۔ اصمعی بھی فرماتے ہیں کہ قرء کہتے ہیں وقت کو ابو عمر بن علاء کہتے ہیں عرب میں حیض کو اور طہر کو دونوں کو قرء کہتے ہیں۔ ابو عمر بن عبدالبر کا قول ہے کہ زبان عرب کے ماہر اور فقہاء کا اس میں اختلاف ہی نہیں کہ طہر اور حیض دونوں کے معنی قرء کے ہیں البتہ اس آیت کے معنی مقرر کرنے میں ایک جماعت اس طرف گئی اور دوسری اس طرف۔ (مترجم کی تحقیق میں بھی قرء سے مراد یہاں حیض لینا ہی بہتر ہے) پھر فرمایا ان کے رحم میں جو ہوا اس کا چھپانا حلال نہیں حمل ہو تو اور حیض آئے تو۔ پھر فرمایا اگر انہیں اللہ اور قیامت پر ایمان ہو، اس میں دھمکایا جا رہا ہے کہ حق کیخلاف نہ کہیں اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس خبر میں ان کی بات کا اعتبار کیا جائے گا کیونکہ اس پر کوئی بیرونی شہادت قائم نہیں کی جاسکتی اس لئے انہیں خبردار کردیا گیا کہ عدت سے جلد نکل جانے کیلئے (حیض نہ آیا ہو) اور کہہ نہ دیں کہ انہیں حیض آگیا یا عدت کو بڑھانے کیلئے (حیض) آیا مگر اسے چھپا نہ لیں اسی طرح حمل کی بھی خبر کردیں۔ پھر فرمایا کہ عدت کے اندر اس شوہر کو جس نے طلاق دی ہے لوٹا لینے کا پورا حق حاصل ہے جبکہ طلاق رجعی ہو یعنی ایک طلاق کے بعد اور دو طلاقوں کے بعد، باقی رہی طلاق بائن یعنی تین طلاقیں جب ہوجائیں تو یاد رہے کہ جب یہ آیت اتری ہے تب تک طلاق بائن ہی نہیں بلکہ اس وقت تک جب چاہے طلاق ہوجائے سب رجعی تھیں طلاق بائن تو پھر اسلام کے احکام میں آئی کہ تین اگر ہوجائیں تو اب رجعت کا حق نہیں رہے گا۔ جب یہ بات خیال میں رہے گی تو علماء اصول کے اس قاعدے کا ضعف بھی معلوم ہوجائے گا کہ ضمیر لوٹانے سے پہلے کے عام لفظ کی خصوصیت ہوتی ہے یا نہیں اس لئے کہ اس آیت کے وقت دوسری شکل تھی ہی نہیں، طلاق کی ایک ہی صورت تھی واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کہ جیسے ان عورتوں پر مردوں کے حقوق ہیں ویسے ہی ان عورتوں کے مردوں پر بھی حقوق ہیں۔ ہر ایک کو دوسرے کا پاس ولحاظ عمدگی سے رکھنا چاہئے، صحیح مسلم شریف میں حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجتہ الوداع کے اپنے خطبہ میں فرمایا لوگو عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو تم نے اللہ کی امانت کہہ کر انہیں لیا ہے اور اللہ کے کلمہ سے ان کی شرمگاہوں کو اپنے لئے حلال کیا ہے، عورتوں پر تمہارا یہ حق ہے کہ وہ تمہارے فرش پر کسی ایسے کو نہ آنے دیں جس سے تم ناراض ہو اگر وہ ایسا کریں تو انہیں مارو لیکن مار ایسی نہ ہو کہ ظاہر ہو، ان کا تم پر یہ حق ہے کہ انہیں اپنی بساط کے مطابق کھلاؤ پلاؤ پہناؤ اوڑاؤ، ایک شخص نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا کہ ہماری عورتوں کے ہم پر کیا حق ہیں، آپ نے فرمایا جب تم کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ جب تم پہنو تو اسے بھی پہناؤ، اس کے منہ پر نہ مارو اسے گالیاں نہ دو ، اس سے روٹھ کر اور کہیں نہ بھیج دو ، ہاں گھر میں رکھو، اسی آیت کو پڑھ کر حضرت ابن عباس فرمایا کرتے تھے کہ میں پسند کرتا ہوں کہ اپنی بیوی کو خوش کرنے کیلئے بھی اپنی زینت کروں جس طرح وہ مجھے خوش کرنے کیلئے اپنا بناؤ سنگار کرتی ہے۔ پھر فرمایا کہ مردوں کو ان پر فضیلت ہے، جسمانی حیثیت سے بھی اخلاقی حیثیت سے بھی، مرتبہ کی حیثیت سے بھی حکمرانی کی حیثیت سے بھی، خرچ اخراجات کی حیثیت سے بھی دیکھ بھال اور نگرانی کی حیثیت سے بھی، غرض دنیوی اور اخروی فضیلت کے ہر اعتبار سے، جیسے اور جگہ ہے آیت (اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَي النِّسَاۗءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَھُمْ عَلٰي بَعْضٍ وَّبِمَآ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْ ) 4 ۔ الرجال ;34) یعنی مرد عورتوں کے سردار ہیں اللہ تعالیٰ نے ایک کو ایک پر فضیلت دے رکھی ہے اور اس لئے بھی کہ یہ مال خرچ کرتے ہیں۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے نافرمانوں سے بدلہ لینے پر غالب ہے اور اپنے احکام میں حکمت والا۔