Skip to main content

فَرَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا ۙ قَالَ يٰقَوْمِ اَلَمْ يَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَنًا ۙ اَفَطَالَ عَلَيْكُمُ الْعَهْدُ اَمْ اَرَدْتُّمْ اَنْ يَّحِلَّ عَلَيْكُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَخْلَفْتُمْ مَّوْعِدِىْ

فَرَجَعَ
تو پلٹے
مُوسَىٰٓ
موسیٰ
إِلَىٰ
طرف
قَوْمِهِۦ
اپنی قوم کی طرف
غَضْبَٰنَ
غصے میں
أَسِفًاۚ
غم لیے ہوئے
قَالَ
کہا
يَٰقَوْمِ
اے میری قوم
أَلَمْ
کیا نہیں
يَعِدْكُمْ
وعدہ کیا تھا تم سے
رَبُّكُمْ
تمہارے رب نے
وَعْدًا
وعدہ
حَسَنًاۚ
اچھا
أَفَطَالَ
پھر لمبا ہوگیا
عَلَيْكُمُ
تم پر
ٱلْعَهْدُ
زمانہ
أَمْ
یا
أَرَدتُّمْ
ارادہ کیا تم نے۔ چاہا تم نے
أَن
کہ
يَحِلَّ
اترے
عَلَيْكُمْ
تم پر
غَضَبٌ
کوئی غضب
مِّن
سے
رَّبِّكُمْ
تمہارے رب کی طرف سے
فَأَخْلَفْتُم
تو خلاف کیا تم نے
مَّوْعِدِى
میرے وعدے کا

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

موسیٰؑ سخت غصّے اور رنج کی حالت میں اپنی قوم کی طرف پلٹا جا کر اُس نے کہا "اے میری قوم کے لوگو، کیا تمہارے رب نے تم سے اچھے وعدے نہیں کیے تھے؟ کیا تمہیں دن لگ گئے ہیں؟ یا تم اپنے رب کا غضب ہی اپنے اوپر لانا چاہتے تھے کہ تم نے مجھ سے وعدہ خلافی کی؟"

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

موسیٰؑ سخت غصّے اور رنج کی حالت میں اپنی قوم کی طرف پلٹا جا کر اُس نے کہا "اے میری قوم کے لوگو، کیا تمہارے رب نے تم سے اچھے وعدے نہیں کیے تھے؟ کیا تمہیں دن لگ گئے ہیں؟ یا تم اپنے رب کا غضب ہی اپنے اوپر لانا چاہتے تھے کہ تم نے مجھ سے وعدہ خلافی کی؟"

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

تو موسیٰ اپنی قوم کی طرف پلٹا غصہ میں بھرا افسوس کرتا کہا اے میری قوم کیا تم سے تمہارے رب نے اچھا وعدہ نہ تھا کیا تم پر مدت لمبی گزری یا تم نے چاہا کہ تم پر تمہارے رب کا غضب اترے تو تم نے میرا وعدہ خلاف کیا

احمد علی Ahmed Ali

پھر موسیٰ اپنی قوم کی طرف غصہ میں بھرے ہوئے افسوس کرتے ہوئے لوٹے کہا اے میری قوم کیا تمہارے رب نے تم سے اچھا وعدہ نہیں کیا تھا پھر کیا تم پر بہت زمانہ گزر گیا تھا یا تم نے چاہا کہ تم پر تمہارے رب کا غصہ نازل ہو تب تم نے مجھ سے وعدہ خلافی کی

أحسن البيان Ahsanul Bayan

پس موسیٰ (علیہ السلام) سخت غضبناک ہو کر رنج کے ساتھ واپس لوٹے، اور کہنے لگے کہ اے میری قوم والو! کیا تم سے تمہارے پروردگار نے نیک وعدہ نہیں کیا (١) تھا؟ کیا اس کی مدت تمہیں لمبی معلوم ہوئی؟ (۲) بلکہ تمہارا ارادہ ہی یہ ہے کہ تم پر تمہارے پروردگار کا غضب نازل ہو؟ کہ تم نے میرے وعدے کے خلاف کیا (٣)

٨٦۔١ اس سے مراد جنت کا یا فتح و ظفر کا وعدہ ہے اگر وہ دین پر قائم رہے یا تورات عطا کرنے کا وعدہ ہے، جس کے لئے طور پر انہیں بلایا گیا تھا۔
٨٦۔ ٢ کیا اس عہد کو مدت دراز گزر گئی تھی کہ تم بھول گئے، اور بچھڑے کی پوجا شروع کر دی۔
٨٦۔٣ قوم نے موسیٰ علیہ السلام سے وعدہ کیا تھا کہ ان کی طور سے واپسی تک وہ اللہ کی اطاعت و عبادت پر قائم رہیں گے، یا یہ وعدہ تھا کہ ہم بھی طور پر آپ کے پیچھے پیچھے آ رہے ہیں لیکن راستے میں ہی رک کر انہوں نے گو سالہ پرستی شروع کر دی۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور موسیٰ غصّے اور غم کی حالت میں اپنی قوم کے پاس واپس آئے (اور) کہنے لگے کہ اے قوم کیا تمہارے پروردگار نے تم سے ایک اچھا وعدہ نہیں کیا تھا؟ کیا (میری جدائی کی) مدت تمہیں دراز (معلوم) ہوئی یا تم نے چاہا کہ تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے غضب نازل ہو۔ اور (اس لئے) تم نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا (اس کے) خلاف کیا

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

پس موسیٰ (علیہ السلام) سخت غضبناک ہو کر رنج کے ساتھ واپس لوٹے، اور کہنے لگے کہ اے میری قوم والو! کیا تم سے تمہارے پروردگار نے نیک وعده نہیں کیا تھا؟ کیا اس کی مدت تمہیں لمبی معلوم ہوئی؟ بلکہ تمہارا اراده ہی یہ ہے کہ تم پر تمہارے پروردگار کا غضب نازل ہو؟ کہ تم نے میرے وعدے کا خلاف کیا

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

پس موسیٰ غصہ میں افسوس کرتے ہوئے اپنی قوم کی طرف لوٹے (اور) کہا اے میری قوم! کیا تمہارے پروردگار نے تم سے بڑا اچھا وعدہ نہیں کیا تھا؟ تو کیا تم پر (وعدہ سے) زیادہ مدت گزر گئی؟ یا تم نے چاہا کہ تمہارے رب کا غضب تم پر نازل ہو؟ اس لئے تم نے مجھ سے وعدہ خلافی کی؟

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

یہ سن کر موسٰی اپنی قوم کی طرف محزون اور غصہّ میں بھرے ہوئے پلٹے اور کہا کہ اے قوم کیا تمہارے رب نے تم سے بہترین وعدہ نہیں کیا تھا اور کیا اس عہد میں کچھ زیادہ طول ہوگیا ہے یا تم نے یہی چاہا کہ تم پر پروردگار کا غضب وارد ہوجائے اس لئے تم نے میرے وعدہ کی مخالفت کی

طاہر القادری Tahir ul Qadri

پس موسٰی (علیہ السلام) اپنی قوم کی طرف سخت غضبناک (اور) رنجیدہ ہوکر پلٹ گئے (اور) فرمایا: اے میری قوم! کیا تمہارے رب نے تم سے ایک اچھا وعدہ نہیں فرمایا تھا، کیا تم پر وعدہ (کے پورے ہونے) میں طویل مدت گزر گئی تھی، کیا تم نے یہ چاہا کہ تم پر تمہارے رب کی طرف سے غضب واجب (اور نازل) ہوجائے؟ پس تم نے میرے وعدہ کی خلاف ورزی کی ہے،