Skip to main content

فَلَمَّاۤ اَحَسُّوْا بَأْسَنَاۤ اِذَا هُمْ مِّنْهَا يَرْكُضُوْنَۗ

فَلَمَّآ
تو جب
أَحَسُّوا۟
انہیں محسوس ہوا
بَأْسَنَآ
عذاب ہمارا
إِذَا
اچانک
هُم
وہ
مِّنْهَا
اس سے
يَرْكُضُونَ
دوڑتے تھے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

جب اُن کو ہمارا عذاب محسُوس ہوا تو لگے وہاں سے بھاگنے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

جب اُن کو ہمارا عذاب محسُوس ہوا تو لگے وہاں سے بھاگنے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

تو جب انہوں نے ہمارا عذاب پایا جبھی وہ اس سے بھاگنے لگے

احمد علی Ahmed Ali

پھر جب انہوں نے ہمارے عذاب کی آہٹ پائی تو وہ فوراً وہاں سے بھاگنے لگے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

جب انہوں نے ہمارے عذاب کا احساس کر لیا تو لگے اس سے بھاگنے (١)

١٢۔١ احساس کے معنی ہیں، حواس کے ذریعے سے ادراک کر لینا۔ یعنی جب انہوں نے عذاب یا اس کے آثار کو آتے دیکھا یا کڑک گرج کی آواز سن کر معلوم کر لیا، تو اس سے بچنے کے لئے راہ فرار ڈھونڈنے لگے۔ رکض کے معنی ہوتے ہیں آدمی گھوڑے وغیرہ پر بیٹھ کر اس کو دوڑانے کے لیے ایڑ لگائے یہیں سے یہ بھاگنے کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

جب انہوں نے ہمارے (مقدمہ) عذاب کو دیکھا تو لگے اس سے بھاگنے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

جب انہوں نے ہمارے عذاب کا احساس کر لیا، تو لگے اس سے بھاگنے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

جب انہوں نے ہمارا عذاب محسوس کیا تو ایک دم وہاں سے بھاگنے لگے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

پھر جب ان لوگوں نے عذاب کی آہٹ محسوس کی تو اسے دیکھ کر بھاگنا شروع کردیا

طاہر القادری Tahir ul Qadri

پھر جب انہوں نے ہمارے عذاب (کی آمد) کو محسوس کیا تو وہ وہاں سے تیزی کے ساتھ بھاگنے لگے،