Skip to main content

لَعَلِّىْۤ اَعْمَلُ صَالِحًـا فِيْمَا تَرَكْتُۗ كَلَّا ۗ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَاۤٮِٕلُهَاۗ وَمِنْ وَّرَاۤٮِٕهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ

لَعَلِّىٓ
شاید کہ میں
أَعْمَلُ
میں عمل کروں
صَٰلِحًا
اچھے
فِيمَا
اس میں
تَرَكْتُۚ
جو میں چھوڑ آیا
كَلَّآۚ
ہرگز نہیں
إِنَّهَا
بیشک وہ
كَلِمَةٌ
ایک بات ہے
هُوَ
وہ
قَآئِلُهَاۖ
کہنے والا ہے اس کا
وَمِن
اور
وَرَآئِهِم
ان کے پیچھے
بَرْزَخٌ
برزخ ہے
إِلَىٰ
تک
يَوْمِ
اس دن تک
يُبْعَثُونَ
وہ سب اٹھائے جائیں گے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

امید ہے کہ اب میں نیک عمل کروں گا" ہرگز نہیں، یہ بس ایک بات ہے جو وہ بک رہا ہے اب اِن سب (مرنے والوں) کے پیچھے ایک برزخ حائل ہے دوسری زندگی کے دن تک

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

امید ہے کہ اب میں نیک عمل کروں گا" ہرگز نہیں، یہ بس ایک بات ہے جو وہ بک رہا ہے اب اِن سب (مرنے والوں) کے پیچھے ایک برزخ حائل ہے دوسری زندگی کے دن تک

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

شاید اب میں کچھ بھلائی کماؤں اس میں جو چھوڑ آیا ہوں ہشت یہ تو ایک بات ہے جو وہ اپنے منہ سے کہتا ہے اور ان کے آگے ایک آڑ ہے اس دن تک جس دن اٹھائے جائیں گے،

احمد علی Ahmed Ali

تاکہ جسے میں چھوڑ آیا ہوں اس میں نیک کام کر لوں ہر گز نہیں ایک بات ہی بات ہے جسے یہ کہہ رہا ہے اور ان کے آگے قیامت تک ایک پردہ پڑا ہوا ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

کہ اپنی چھوڑی ہوئی دنیا میں جاکر نیک اعمال کرلوں (١) ہرگز ایسا نہیں ہوگا (٢) یہ تو صرف ایک قول ہے جس کا یہ قائل ہے (٣) ان کے پس پشت تو ایک حجاب ہے، ان کے دوبارہ جی اٹھنے کے دن تک (٤)۔

١٠٠۔١ یہ آرزو، ہر کافر موت کے وقت، دوبارہ اٹھائے جانے کے وقت، بارگاہ الٰہی میں قیامت کے وقت اور جہنم میں دھکیل دیئے جانے کے وقت کرتا ہے اور کرے گا، لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ قرآن کریم میں اس مضمون کو متعدد، جگہ بیان کیا گیا ہے۔
١٠٠۔٢ کَلَّا، ڈانٹ ڈپٹ کے لئے ہے یعنی ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ انہیں دوبارہ دنیا میں بھیج دیا جائے۔
١٠٠۔٣ اس کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ ایسی بات ہے کہ جو ہر کافر نزع (جان کنی) کے وقت کہتا ہے۔ دوسرے معنی ہیں کہ یہ صرف بات ہی بات ہے عمل نہیں، اگر انہیں دوبارہ بھی دنیا میں بھیج دیا جائے تو ان کا یہ قول، قول ہی رہے گا عمل اصلاح کی توفیق انہیں پھر نصیب نہیں ہوگی، کافر دنیا میں اپنے خاندان اور قبیلے کے پاس جانے کی آرزو نہیں کرے گا، بلکہ عمل صالح کے لئے دنیا میں آنے کی آرزو کرے گا۔ اس لئے زندگی کے لمحات کو غنیمت جانتے ہوئے زیادہ سے زیادہ عمل صلاح کر لئے جائیں تاکہ کل قیامت کو یہ آرزو کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے (ابن کثیر)
١٠٠۔٤ دو چیزوں کے درمیان حجاب اور آڑ کو برزخ کہا جاتا ہے۔ دنیا کی زندگی اور آخرت کی زندگی کے درمیان جو وقفہ ہے، اسے یہاں برزخ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ کیونکہ مرنے کے بعد انسان کا تعلق دنیا کی زندگی سے ختم ہو جاتا ہے اور آخرت کی زندگی کا آغاز اس وقت ہوگا جب تمام انسانوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ یہ درمیان کی زندگی ہے۔ انسان کا وجود جہاں بھی اور جس شکل میں بھی ہوگا، بظاہر وہ مٹی میں مل کر مٹی بن چکا ہوگا، یا راکھ بنا کر ہواؤں میں اڑا دیا یا دریاؤں میں بہا دیا ہوگا یا کسی جانور کی خوراک بن
گیا ہوگا، مگر اللہ تعالٰی سب کو ایک نیا وجود عطا فرما کر میدان محشر میں جمع فرمائے گا۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

تاکہ میں اس میں جسے چھوڑ آیا ہوں نیک کام کیا کروں۔ ہرگز نہیں۔ یہ ایک ایسی بات ہے کہ وہ اسے زبان سے کہہ رہا ہوگا (اور اس کے ساتھ عمل نہیں ہوگا) اور اس کے پیچھے برزخ ہے (جہاں وہ) اس دن تک کہ (دوبارہ) اٹھائے جائیں گے، (رہیں گے)

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

کہ اپنی چھوڑی ہوئی دنیا میں جا کر نیک اعمال کر لوں، ہرگز ایسا نہیں ہوگا، یہ تو صرف ایک قول ہے جس کا یہ قائل ہے، ان کے پس پشت تو ایک حجاب ہے، ان کے دوباره جی اٹھنے کے دن تک

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

تاکہ میں نیک عمل کر سکوں (ارشاد ہوگا) ہرگز نہیں! یہ محض ایک (فضول) بات ہے جو وہ کہہ رہا ہے اور ان کے (مرنے کے) بعد برزخ کا زمانہ ہے ان کے (دوبارہ) اٹھائے جانے تک۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

شاید میں اب کوئی نیک عمل انجام دوں. ہرگز نہیں یہ ایک بات ہے جو یہ کہہ رہا ہے اور ان کے پیچھے ایک عالم ه برزخ ہے جو قیامت کے دن تک قائم رہنے والا ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

تاکہ میں اس (دنیا) میں کچھ نیک عمل کر لوں جسے میں چھوڑ آیا ہوں۔ ہر گز نہیں، یہ وہ بات ہے جسے وہ (بطورِ حسرت) کہہ رہا ہوگا اور ان کے آگے اس دن تک ایک پردہ (حائل) ہے (جس دن) وہ (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے،