Skip to main content

فَاِذَا نُفِخَ فِى الصُّوْرِ فَلَاۤ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَٮِٕذٍ وَّلَا يَتَسَاۤءَلُوْنَ

فَإِذَا
پھر جب
نُفِخَ
پھونک ماری جائے گی
فِى
میں
ٱلصُّورِ
صور (میں)
فَلَآ
تو نہیں
أَنسَابَ
کوئی رخنہ
بَيْنَهُمْ
آپس میں
يَوْمَئِذٍ
اس دن
وَلَا
اور نہ
يَتَسَآءَلُونَ
وہ ایک دوسرے کو پوچھیں گے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

پھر جونہی کہ صور پھونک دیا گیا، ان کے درمیان پھر کوئی رشتہ نہ رہے گا اور نہ وہ ایک دوسرے کو پوچھیں گے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

پھر جونہی کہ صور پھونک دیا گیا، ان کے درمیان پھر کوئی رشتہ نہ رہے گا اور نہ وہ ایک دوسرے کو پوچھیں گے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

تو جب صُور پھونکا جائے گا تو نہ ان میں رشتے رہیں گے اور نہ ایک دوسرے کی بات پوچھے

احمد علی Ahmed Ali

پھر جب صور پھونکا جائے گا تو اس دن ان میں نہ رشتہ داریاں رہیں گے اور نہ کوئی کسی کو پوچھے گا

أحسن البيان Ahsanul Bayan

پس جب صور پھونک دیا جائیگا اس دن نہ تو آپس کے رشتے ہی رہیں گے، نہ آپس کی پوچھ گچھ (١)

١٠١۔١ محشر کی ہولناکیوں کی وجہ سے ابتداء ایسا ہوگا، بعد میں وہ ایک دوسرے کو پہچانیں گے بھی اور ایک دوسرے سے پوچھ گچھ بھی کریں گے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

پھر جب صور پھونکا جائے گا تو نہ تو ان میں قرابتیں ہوں گی اور نہ ایک دوسرے کو پوچھیں گے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

پس جب کہ صور پھونک دیا جائے گا اس دن نہ تو آپس کے رشتے دار ہی رہیں گے، نہ آپس کی پوچھ گچھ

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

پھر جب صور پھونکا جائے گا تو اس دن نہ تو ان کے درمیان رشتے ناطے رہیں گے اور نہ ہی ایک دوسرے کو پوچھیں گے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

پھر جب صور پھونکا جائے گا تو نہ رشتہ داریاں ہوں گی اور نہ آپس میں کوئی ایک دوسرے کے حالات پوچھے گا

طاہر القادری Tahir ul Qadri

پھر جب صور پھونکا جائے گا تو ان کے درمیان اس دن نہ رشتے (باقی) رہیں گے اور نہ وہ ایک دوسرے کا حال پوچھ سکیں گے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

قبروں سے اٹھنے کے بعد
جب جی اٹھنے کا صور پھونکا جائے گا اور لوگ اپنی قبروں سے زندہ ہو کر اٹھ کھڑے ہوں گے، اس دن نہ تو کوئی رشتے ناتے باقی رہیں گے۔ نہ کوئی کسی سے پوچھے گا، نہ باپ کو اولاد پر شفقت ہوگی، نہ اولاد باپ کا غم کھائے گی۔ عجب آپا دھاپی ہوگی۔ جیسے فرمان ہے کہ کوئی دوست کسی دوست سے ایک دوسرے کو دیکھنے کے باوجود کچھ نہ پوچھے گا۔ صاف دیکھے گا کہ قریبی شخص ہے مصیبت میں ہے، گناہوں کے بوجھ سے دب رہا ہے لیکن اس کی طرف التفات تک نہ کرے گا، نہ کچھ پوچھے گا آنکھ پھیرلے گا " جیسے قرآن میں ہے کہ " اس دن آدمی اپنے بھائی سے، اپنی ماں سے، اپنے باپ سے، اپنی بیوی سے، اور اپنے بچوں سے بھاگتا پھرے گا " حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اگلوں پچھلوں کو جمع کرے گا پھر ایک منادی ندا کرے گا جس کسی کا کوئی حق کسی دوسرے کے ذمہ ہو وہ بھی آئے اور اس سے اپنا حق لے جائے۔ تو اگرچہ کسی کا کوئی حق باپ کے ذمہ یا اپنی اولاد کے ذمہ یا اپنی بیوی کے ذمہ ہو وہ بھی خوش ہوتا ہوا اور دوڑتا ہوا آئے گا اور اپنے حق کے تقاضے شروع کرے گا جسے اس آیت میں ہے مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں فاطمہ (رض) میرے جسم کا ایک ٹکڑا ہے جو چیز اسے نہ خوش کرے وہ مجھے بھی ناخوش کرتی ہے اور جو چیز اسے خوش کرے وہ مجھے بھی خوش کرتی ہے قیامت کے روز سب رشتے ناتے ٹوٹ جائیں گے لیکن میرا نسب میرا سبب میری رشتہ داری نا ٹوٹے گی اس حدیث کی اصل بخاری مسلم میں بھی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا فاطمہ (رض) میرے جسم کا ایک ٹکڑا ہے اسے ناراض کرنے والی اور اسے ستانے والی چیزیں مجھے ناراض کرنے والی اور مجھے تکلیف پہنچانے والی ہے مسند احمد میں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منبر پر فرمایا لوگوں کا کیا حال ہے کہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا رشتہ بھی آپ کی قوم کو کوئی فائدہ نہ دے گا واللہ میرے رشتہ دنیا میں اور آخرت میں ملا ہوا ہے۔ اے لوگو ! میں تمہارا میرسامان ہوں، جب تم آؤ گے، ایک شخص کہے گا کہ یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں فلاں بن فلاں ہوں، میں جواب دونگا کہ ہاں نسب تو میں نے پہچان لیا لیکن تم لوگوں نے میرے بعد بدعتیں ایجاد کی تھیں اور ایڑیوں کے بل مرتد ہوگے تھے۔ مسند امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب (رض) میں ہم نے کئی سندوں سے یہ روایت کی ہے کہ جب آپ نے ام کلثوم بنت علی بن ابی طالب (رض) سے نکاح کیا تو فرمایا کرتے تھے واللہ مجھے اس نکاح سے صرف یہ غرض تھی کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ ہر سبب ونسب قیامت کے دن کٹ جائے گا مگر میرا نسب اور سبب یہ بھی مذکور ہے کہ آپ نے ان کا مہر از روئے تعظیم و بزرگی چالیس ہزار مقرر کیا تھا ابن عساکر میں ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کل رشتے ناتے اور سسرالی تعلقات بجز میرے ایسے تعلقات کے قیامت کے دن کٹ جائیں گے۔ ایک حدیث میں ہے کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ جہاں میرا نکاح ہوا ہے اور جس کا نکاح میرے ساتھ ہوا ہے وہ سب جنت میں بھی میرے ساتھ رہیں تو اللہ تعالیٰ نے میری دعا قبول فرمائی۔ جس کی ایک نیکی بھی گناہوں سے بڑھ گئی وہ کامیاب ہوگیا جہنم سے آزاد اور جنت میں داخل ہوگیا اپنی مراد کو پہنچ گیا اور جس سے ڈرتا تھا اس سے بچ گیا۔ اور جس کی برائیاں بھلائیوں سے بڑھ گئیں وہ ہلاک ہوئے نقصان میں آگئے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں قیامت کے دن ترازو پر ایک فرشتہ مقرر ہوگا جو ہر انسان کو لاکر ترازو کے پاس بیچوں بیچ کھڑا کرے گا، پھر نیکی بدی تولی جائے گی اگر نیکی بڑھ گئی تو باآواز بلند اعلان کرے گا کہ فلاں بن فلاں نجات پا گیا اب اس کے بعد ہلاکت اس کے پاس بھی نہیں آئے گی اور اگر بدی بڑھ گئی تو ندا کرے گا اور سب کو سنا کر کہے گا کہ فلاں کا بیٹا فلاں ہلاک ہوا اب وہ بھلائی سے محروم ہوگیا اس کی سند ضعیف ہے داؤد ابن حجر راوی ضعیف و متروک ہے ایسے لوگ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے دوزخ کی آگ ان کے منہ جھلس دے گی چہروں کو جلادے گی کمر کو سلگا دے گی یہ بےبس ہوں گے آگ کو ہٹا نہ سکیں گے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں پہلے ہی شعلے کی لپٹ ان کا سارے گوشت پوست ہڈیوں سے الگ کرکے ان کے قدموں میں ڈال دے گی وہ وہاں بدشکل ہوں گے دانت نکلے ہوں گے ہونٹ اوپر چڑھا ہوا اور نیچے گرا ہوا ہوگا اوپر کا ہونٹ تو تالو تک پہنچا ہوا ہوگا اور نیچے کا ہونٹ ناف تک آجائے گا۔