Skip to main content

حَتّٰۤى اِذَا فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَابًا ذَا عَذَابٍ شَدِيْدٍ اِذَا هُمْ فِيْهِ مُبْلِسُوْنَ

حَتَّىٰٓ
یہاں تک کہ
إِذَا
جب
فَتَحْنَا
کھول دیا ہم نے
عَلَيْهِم
ان پر
بَابًا
ایک دروازہ
ذَا
والا
عَذَابٍ
عذاب والا
شَدِيدٍ
سخت
إِذَا
دفعتا
هُمْ
وہ
فِيهِ
اس میں
مُبْلِسُونَ
مایوس ہونے والے تھے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

البتہ جب نوبت یہاں تک پہنچ جائے گی کہ ہم اِن پر سخت عذاب کا دروازہ کھول دیں گے تو یکایک تم دیکھو گے کہ اس حالت میں یہ ہر خیر سے مایوس ہیں

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

البتہ جب نوبت یہاں تک پہنچ جائے گی کہ ہم اِن پر سخت عذاب کا دروازہ کھول دیں گے تو یکایک تم دیکھو گے کہ اس حالت میں یہ ہر خیر سے مایوس ہیں

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

یہاں تک کہ جب ہم نے ان پر کھولا کسی سخت عذاب کا دروازہ تو وہ اب اس میں ناامید پڑے ہیں،

احمد علی Ahmed Ali

یہاں تک کہ جب ہم نے ان پر سخت عذاب کا دروازہ کھولا تو فوراً اس میں نا امید ہوگئے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

یہاں تک کہ جب ہم نے ان پر سخت عذاب کا دروازہ کھول دیا تو اسی وقت فوراً مایوس ہوگئے (١)

۔١ اس سے دنیا کا عذاب بھی مراد ہو سکتا ہے اور آخرت کا بھی، جہاں وہ تمام راحت اور خیر سے مایوس اور محروم ہوں گے اور تمام امیدیں منقطع ہو جائیں گی۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

یہاں تک کہ جب ہم نے پر عذاب شدید کا دروازہ کھول دیا تو اس وقت وہاں ناامید ہوگئے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

یہاں تک کہ جب ہم نے ان پر سخت عذاب کا دروازه کھول دیا تو اسی وقت فوراً مایوس ہوگئے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

یہاں تک کہ جب ہم ان پر سخت عذاب کا دروازہ کھول دیں گے تو وہ ایک دم ناامید ہو جائیں گے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

یہاں تک کہ ہم نے شدید عذاب کا دروازہ کھول دیا تو اسی میں مایوس ہوکر بیٹھ رہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

یہاں تک کہ جب ہم ان پر نہایت سخت عذاب کا دروازہ کھول دیں گے (تو) اس وقت وہ اس میں انتہائی حیرت سے ساکت و مایوس (پڑے) رہیں گے،