Skip to main content

وَيَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَبِالرَّسُوْلِ وَاَطَعْنَا ثُمَّ يَتَوَلّٰى فَرِيْقٌ مِّنْهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَۗ وَمَاۤ اُولٰۤٮِٕكَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ

وَيَقُولُونَ
اور وہ کہتے ہیں
ءَامَنَّا
ایمان لائے ہم
بِٱللَّهِ
اللہ پر
وَبِٱلرَّسُولِ
اور رسول پر
وَأَطَعْنَا
اور اطاعت کی ہم نے
ثُمَّ
پھر
يَتَوَلَّىٰ
منہ موڑ جاتا ہے
فَرِيقٌ
ایک گروہ
مِّنْهُم
ان میں سے
مِّنۢ
کے
بَعْدِ
بعد
ذَٰلِكَۚ
اس کے
وَمَآ
اور نہیں ہیں
أُو۟لَٰٓئِكَ
یہ لوگ
بِٱلْمُؤْمِنِينَ
ایمان لانے والے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اللہ اور رسولؐ پر اور ہم نے اطاعت قبول کی، مگر اس کے بعد ان میں سے ایک گروہ (اطاعت سے) منہ موڑ جاتا ہے ایسے لوگ ہرگز مومن نہیں ہیں

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اللہ اور رسولؐ پر اور ہم نے اطاعت قبول کی، مگر اس کے بعد ان میں سے ایک گروہ (اطاعت سے) منہ موڑ جاتا ہے ایسے لوگ ہرگز مومن نہیں ہیں

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور کہتے ہیں ہم ایمان لائے اللہ اور رسول پر اور حکم مانا پھر کچھ ان میں کے اس کے بعد پھر جاتے ہیں اور وہ مسلمان نہیں

احمد علی Ahmed Ali

اور کہتے ہیں ہم الله اور رسول پرایمان لائے اور ہم فرمانبردار ہو گئے پھر ایک گروہ ان میں سے اس کے بعد پھر جاتا ہے اور وہ لوگ مومن نہیں ہیں

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالٰی اور رسول پر ایمان لائے اور فرماں بردار ہوئے پھر ان میں سے ایک فرقہ اس کے بعد بھی پھر جاتا ہے۔ یہ ایمان والے ہیں (ہی) نہیں (١)۔

٤٧۔١ یہ منافقین کا بیان ہے جو زبان سے اسلام کا اظہار کرتے تھے لیکن دلوں میں کفر و عناد تھا یعنی اعتقاد صحیح سے محروم تھے۔ اس لئے زبان سے اظہار ایمان کے باوجود ان کے ایمان کی نفی کی گئی۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم خدا پر اور رسول پر ایمان لائے اور (ان کا) حکم مان لیا پھر اس کے بعد ان میں سے ایک فرقہ پھر جاتا ہے اور یہ لوگ صاحب ایمان ہی نہیں ہیں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ اور رسول پر ایمان ﻻئے اور فرماں بردار ہوئے، پھر ان میں سے ایک فرقہ اس کے بعد بھی پھر جاتا ہے۔ یہ ایمان والے ہیں (ہی) نہیں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور وہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور رسول پر ایمان لائے ہیں۔ اور ہم نے اطاعت بھی کی۔ مگر اس کے بعد ان میں سے ایک گروہ منہ پھر لیتا ہے اور ایسے لوگ (ہرگز) مؤمن نہیں ہیں۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور رسول پر ایمان لے آئے ہیں اور ان کی اطاعت کی ہے اور اس کے بعد ان میں سے ایک فریق منہ پھیرلیتا ہے اور یہ واقعا صاحبانِ ایمان نہیں ہیں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور وہ (لوگ) کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آئے ہیں اور اطاعت کرتے ہیں پھر اس (قول) کے بعد ان میں سے ایک گروہ (اپنے اقرار سے) رُوگردانی کرتا ہے، اور یہ لوگ (حقیقت میں) مومن (ہی) نہیں ہیں،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

منافق کی زبان اور، دل
منافقوں کا حل بیان ہو رہا ہے کہ زبان تو ایمان واطاعت کا اقرار کرتے ہیں لیکن دل سے اس کے خلاف ہیں۔ عمل کچھ ہے قول کچھ ہے۔ اس لئے کہ دراصل ایماندار نہیں۔ حدیث میں ہے کہ جو شخص بادشاہ کے سامنے بلوایا جائے اور وہ نہ جائے وہ ظالم ہے اور ناحق پر ہے۔ جب انہیں ہدایت کی طرف بلایا جاتا ہے، قرآن و حدیث کے ماننے کو کہا جاتا ہے تو یہ منہ پھیر لیتے ہیں اور تکبر کرنے لگتے ہیں جیسے آیت (الم تر الی الذین یزعمون سے صدودا) تک کی آیتوں میں بیان گزر چکا ہے۔ ہاں اگر انہیں شرعی فیصلے میں اپنا نفع نظر آتا ہو تو لمبے لمبے کلمے پڑھتے ہوئے، گردن ہلاتے ہوئے ہنسی خوش چلے آئیں گے اور جب معلوم ہوجائے کہ شرعی فیصلہ ان کی طبعی خواہش کے خلاف ہے، دنیوں مفاد کے خلاف ہے تو حق کی طرف مڑ کر دیکھیں گے بھی نہیں۔ پس ایسے لوگ پکے کافر ہیں۔ اس لئے کہ تین حال سے خالی نہیں یا تو یہ کہ ان کے دلوں میں ہی بےایمانی گھر کرگئی ہے یا انہیں اللہ کے دین کی حقانیت میں شکوک ہیں یا خوف ہے کہ کہیں اللہ اور رسول ان کا حق نہ مارلیں، ان پر ظلم وستم کریں گے اور یہ تینوں صورتیں کفر کی ہیں۔ اللہ ان میں سے ہر ایک کو جانتا ہے جو جیسا باطن میں ہے اس کے پاس وہ ظاہر ہے۔ دراصل یہی لوگ جابر ہیں، ظالم ہیں، اللہ اور رسول اللہ اس سے پاک ہیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں ایسے کافر جو ظاہر میں مسلمان تھے، بہت سے تھے، انہیں جب اپنا مطلب قرآن و حدیث میں نکلتا نظر آتا تو خدمت نبوی میں اپنے جھگڑے پیش کرتے اور جب انہیں دوسروں سے مطلب براری نظر آتی تو سرکار محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں آنے سے صاف انکار کر جاتے۔ پس یہ آیت اتری اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جن دو شخصوں میں کوئی جھگڑا ہو اور وہ اسلامی حکم کے مطابق فیصلے کی طرف بلایا جائے اور وہ اس سے انکار کرے وہ ظالم ہے اور ناحق پر ہے۔ یہ حدیث غریب ہے۔ پھر سچے مومنوں کی شان بیان ہوتی ہے کہ وہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سوا کسی تیسری چیز کو داخل دین نہیں سمجھتے۔ وہ تو قرآن و حدیث سنتے ہی، اس کی دعوت کی ندا کان میں پڑتے ہی صاف کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مانا یہ کامیاب، بامراد اور نجات یافتہ لوگ ہیں۔ حضرت عبادہ بن صامت (رض) جو بدری صحابی ہیں۔ انصاری ہیں، انصاروں کے ایک سردار ہیں، انہوں نے اپنے بھتیجے جنادہ بن امیہ سے بوقت انتقال فرمایا کہ آؤ مجھ سے سن لو کہ تمہارے ذمے کیا ہے ؟ سننا اور ماننا سختی میں بھی آسانی میں بھی، خوشی میں بھی ناخوشی میں بھی، اس وقت بھی جب کہ تیرا حق دوسرے کو دیا جارہا ہو، اپنی زبان کو عدل اور سچائی کے ساتھ سیدھی رکھ۔ کام کے اہل لوگوں سے کام کو نہ چھین، ہاں اگر کسی کھلی نافرمانی کا وہ حکم دیں تو نہ ماننا۔ کتاب اللہ کے خلاف کوئی بھی کہے ہرگز نہ ماننا۔ کتاب اللہ کی پیروی میں لگے رہنا۔ ابو درداء (رض) فرماتے ہیں کہ اسلام بغیر اللہ کی اطاعت کے نہیں اور بہتری جو کچھ ہے وہ جماعت کی، اللہ کی، اس کے رسول کی، خلیفۃ المسلمین کی اور عام مسلمانوں کی خیرخواہی میں ہے۔ حضرت عمر بن خطاب (رض) فرماتے ہیں اسلام کا مضبوط کڑا، اللہ کی وحدانیت کی گواہی، نماز کی پابندی، زکوٰۃ کی ادائیگی اور مسلمانوں کے بادشاہ کی اطاعت ہے۔ جو احادیث وآثار کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کے بارے میں اور مسلمان بادشاہوں کی ماننے کے بارے میں مروی ہیں وہ اس کثرت سے ہیں کہ سب یہاں کسی طرح بیان ہو ہی نہیں سکتیں۔ جو شخص اللہ اور رسول کا نافرمان بن جائے جو حکم ملے بجا لائے جس چیز سے روک دیں رک جائے جو گناہ ہوجائے اس سے خوف کھاتا رہے آئندہ کے لئے اس سے بچتا رہے ایسے لوگ تمام بھلائیوں کو سمیٹنے والے اور تمام برائیوں سے بچ جانے والے ہیں۔ دنیا اور آخرت میں وہ نجات یافتہ ہیں۔